پنجاب کو 65 فیصد کرپشن کا ذمہ دار قرار دینا بدترین جھوٹ ہے : رانا ثناءاللہ

پنجاب کو 65 فیصد کرپشن کا ذمہ دار قرار دینا بدترین جھوٹ ہے : رانا ثناءاللہ

لاہور+ اسلام آباد (اے این این+آئی این پی) صوبائی وزیر قانون رانا ثناءاللہ نے کہا ہے چیئرمین نیب کا یہ بیان کہ ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت میں ہونے والی بے مثال کرپشن کے 65 فیصد کاذمہ دار پنجاب ہے، پاکستان کی تاریخ کا بدترین جھوٹ ہے، چیئرمین نیب نے یا تو یہ بیان اپنی قیادت کے دباﺅ کی بنا پر دیا ہے جوکرپشن کے تاریخی ریکارڈ قائم کر چکی ہے یا پھر یہ بیان چیئرمین نیب کی ان کوششوں کا حصہ ہے جو وہ اپنی غیرقانونی تقرری کو تسلسل دینے کی خاطر اپنے آقاﺅں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کر رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما خواجہ آصف نے چیئرمین نیب کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے ملک میں ہونے والی کرپشن کی ذمہ داری وفاقی حکومت اور ایف بی آر پر عائد ہوتی ہے کیونکہ ملک بھر سے85 فیصد ریونیو ایف بی آر جمع کرتا ہے اور جن اداروں میں کرپشن کے سکینڈلز سامنے آئے ہیں وہ تمام وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔ ایک بیان میں رانا ثناءاللہ نے کہا چیئرمین نیب کا یہ بیان انتہائی گمراہ کن اوردروغ گوئی کی بدترین مثال ہے۔ دنیا جانتی ہے آج پاکستان میں ہونے والی بے مثال کرپشن کی ذمہ دار پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جہاں ہر سورج کرپشن کی نئی داستان لے کر طلوع ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا میں چیئرمین نیب سے سوال کرتا ہوں ملک میں کھربوں روپے کی کرپشن کے درجن بھر سے زیادہ بدنام زمانہ کیسزکا پنجاب سے کیا تعلق؟کیا حاجیوں کی جیبیں پنجاب میں کاٹی گئیں اور اس مد میں اربوں روپے پنجاب میں لوٹے گئے؟کیا این آئی سی ایل اور بینک آف پنجاب میں ڈاکے پنجاب حکومت نے ڈالے، کیا ان اداروں میں ڈاکے مارنے والے آ ج سینے پر تمغے جمائے وفاقی حکومت میں براجمان نہیں، سٹیل ملز، پی آئی اے اور ریلوے جیسے قومی اداروں میں ہونے والی بدعنوانیوں کے نتیجے میں ان کی تباہی، فرٹیلائزرز میں اربوں روپے کی خوردبرد، بیت المال سے بیواﺅں کے فنڈز کی لوٹ مار اور سیف سٹی جیسے منصوبوں میں اربوں روپے کی بدعنوانی جس کا نوٹس خود سپریم کورٹ کو لینا پڑا۔کیا یہ سب وفاقی حکومت کے سیاہ کارناموں کی ایک جھلک نہیں اور کیا ان میں سے کوئی ایک سکینڈل بھی پنجاب حکومت سے تعلق رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا چیئرمین نیب بتائیں کیا اس وقت بھی پیپلز پارٹی کی حکومت 3-Gکے منصوبے میں اربوں روپے کے گھپلوں کے مکروہ کاروبار میں ملوث نہیں۔ اسی طرح چیئرمین نیب اس حقیقت سے بے خبر نہیں ہو سکتے کہ رینٹل پاور پلانٹس میں اربوں کی خوردبرد پنجاب نے نہیں بلکہ وفاقی حکومت نے کی۔ انہوں نے کہا آج شہباز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت کوملکی اور بین الاقوامی سطح پر ٹرانسپیرنسی اور گڈگورننس کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے- عالمی بینک ہو یا ایشین ڈویلپمنٹ بینک ، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس ہوں یا برطانیہ کا ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی سب پنجاب میں شفافیت کی گواہی دے رہے ہیں- انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) کے مخالفین کی زبانیں اس وقت گنگ کیوں ہو جاتی ہیں جب شہباز شریف ببانگِ دہل یہ چیلنج دیتے ہیں پنجاب میں حکومتی سطح پر ایک پیسے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو وہ وزارت اعلی سے مستعفی ہو جائیں گے-انہوں نے کہا چیئرمین نیب اسلام آباد کے ایوانوں میں بیٹھے کرپٹ حکمرانوں کا احتساب کرنے کی ہمت اور جرات رکھتے تو آج ان حکمرانوں کی اکثریت جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتی۔خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا چیئرمین نیب نے بھی اداروں میں کرپشن کی نشاندہی کی ہے وہ تمام وفاقی حکومت کے زیر انتظام کام کر رہے ہیں۔ پی آئی اے‘ واپڈا ‘ او جی ڈی سی ایل‘ سٹیل ملز دیگر تمام ادارے وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں ان اداروں میں حکومت پنجاب کا کوئی عمل دخل نہیں اور ان اداروں میں سالانہ5 ہزار ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی کی گئی ہے۔