پشاور ائرپورٹ: خودکش دھماکہ‘ راکٹوں سے حملہ‘ فائرنگ‘5 شہری جاں بحق‘50 زخمی‘5 حملہ آور بھی مارے گئے ‘ ائربیس تک پہنچنے میں ناکام

پشاور ائرپورٹ: خودکش دھماکہ‘ راکٹوں سے حملہ‘ فائرنگ‘5 شہری جاں بحق‘50 زخمی‘5 حملہ آور بھی مارے گئے ‘ ائربیس تک پہنچنے میں ناکام

پشاور + اسلام آباد (بیورو رپورٹ + نوائے وقت رپورٹ + اے ایف پی + رائٹر + ایجنسیاں) پشاور میں یونیورسٹی روڈ کے قریب باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کے راکٹ حملوں ا ور خودکش کار بم دھماکے میں 5 افراد جاںبحق اور 50 زخمی ہو گئے۔ سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 5 دہشت گرد مارے گئے، 4 خودکش جیکٹس ناکارہ با دی گئیں، کالعدم تحریک طالبان نے حملہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ راکٹ حملوں کے بعد ایئرپورٹ پر ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور فوج نے کنٹرول سنبھال لیا۔ پشاور ایئرپورٹ جانے والے تمام راستے سیل کر دئیے گئے۔ رائٹر کے مطابق راکٹوں سے مسلح خودکش حملہ آوروں نے ایئرپورٹ کی فوجی سائیڈ پر حملہ کیا۔ یکے بعد دیگرے تین راکٹ فائر کئے گئے جس کی وجہ سے پورا علاقہ لرز اٹھا، لوگ خوف کے مارے اپنے گھروں سے نکل آئے، حملہ کے فوری بعد سکیورٹی فورسز نے ایئرپورٹ اور اس کے ارد گرد کے علاقہ کو مکمل طور پر سیل کر کے ہوائی فائرنگ شروع کر دی جو کافی دیر تک جاری رہی۔ ایک راکٹ پشاور ایئرپورٹ کی بیرونی دیوار جبکہ دو ایئرپورٹ کے اندر جا کر گرے۔ پشاور کے علاقہ بورڈ میں بھی ایک راکٹ گرنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ راکٹ حملوں کے فوراً بعد قریبی علاقوں کا بھی مکمل محارصرہ کیا۔ حملوں کے بعد پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ ساتھ امدادی ٹیمیں بھی جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عمر ایوب نے نوائے وقت کو بتایا کہ کے ٹی ایچ میں چار نعشیں لائی گئیں، زخمیوں میں سے چار کی حالت تشویشناک ہے۔ ان زخمیوں میں چھ خواتین اور تین بچے شامل ہیں۔ حملہ کے وقت ایئرپورٹ میں مسافر اور ان کے رشتہ دار بڑی تعداد میں موجود تھے۔ سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایئرپورٹ کے قریب راکٹ حملہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری پہنچی، سکیورٹی فورسز نے بھی علاقہ کو گھیرے میں لے لیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق راکٹ حملہ کے وقت پانچ دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی کے ذریعہ پشاور ایئرپورٹ پر حملہ کی کوشش کی تاہم ڈیوٹی پر مامور سکیورٹی اہلکاروں کی بروقت کارروائی کی وجہ سے وہ ایئرپورٹ میں داخل نہ ہو سکے اور ان کی گاڑی دیوار سے ٹکرا کر تباہ ہو گئی جس کے نتیجہ میں عام شہریوں کا جانی نقصان ہوا۔ حملہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے بی ڈی یو کے ساتھ مل کر مارے جانے والے خودکش حملہ آوروں کی چار جیکٹیں ناکارہ بنا دیں۔ آئی ایس پی آر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بارود سے بھری گاڑی دیوا ر سے ٹکرانے کے باعث شہری جاںبحق ہوئے۔ فوج اور گارڈز کے الرٹ ہونے کے باعث دہشت گرد ایئرپورٹ میں داخل نہیں ہو سکے۔ پانچوں دہشت گردوں کی نعشوں کو بم ڈسپوزل سکواڈ کے ذریعے کلیئر کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دہشت گرد مارے گئے۔ دہشت گردوں کے پاس بارود سے بھری گاڑی تھی۔ حملے کا سکیورٹی فورسز اور جوانوں نے بھرپور جواب دیا۔ سرچ اور کلیئرنس آپریشن کافی دیر تک جاری رہا۔ عینی شاہدین کے مطابق ایئرپورٹ کے ارد گرد شعلے اٹھتے نظر آ رہے تھے۔ حملوں کے بعد ارد گرد کے علاقوں میں خوف وہ ہراس پھیل گیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق پاک فوج نے ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حملہ آور ایئرپورٹ کی پچھلی طرف سے داخل ہوئے۔ سکیورٹی حکام کے مطابق حملہ آور اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ذرائع کے مطابق ایئرپورٹ سے ملحقہ گھروں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ اسی ایئرپورٹ پر پاکستانی فضائیہ کا اڈا بھی واقع ہے۔ پشاور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس خالد ہمدانی کے مطابق دھماکوں سے ایئرپورٹ کی دیوار منہدم ہو گئی۔ واضح رہے کہ قبائلی علاقوں میں ہونے والے فوجی آپریشنوں میں استعمال ہونے والے گن شپ ہیلی کاپٹر پشاور ایئرپورٹ ہی سے اڑتے ہیں اور یہاں ہیلی کاپٹر تیار رہتے ہیں۔ وزیر دفاع نوید قمر نے کہا ہے کہ سکیورٹی کے طویل مدتی انتظامات کر رہے ہیں۔ دہشت گردوں کی تعداد بتانا فی الحال ممکن نہیں۔ پاک فضائیہ کے ایئربیس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ ایئرپورٹ پر موجود فوجی جوانوں اور دیگر سکیورٹی اہلکاروں کے باعث حملہ ناکام بنا دیا گیا۔ ایئرپورٹ پر حملہ بارود، راکٹوں اور پک اپ سے نہایت منظم طور پر کیا گیا۔ پشاور ایئرپورٹ سے دو فلائٹس ریاض، مسقط کے لئے جانا تھیں، ان کے مسافروں کی دیکھ بھال کی جا رہی تھی۔ آنے والی فلائٹس کا رخ دوسرے شہروں کو موڑا جا رہا ہے۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ ایئرپورٹ کو چار حملہ آوروں نے نشانہ بنایا، راکٹوں کو ناکارہ بنانے کے لئے جدید آلات منگوانا پڑیں گے۔ دہشت گرد افراتفری میں اپنے ٹارگٹ تک نہیں پہنچ سکے۔ پشاور ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔ تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے نامعلوم مقام سے کال کر کے کہا کہ حملے میں 10 خودکش حملہ آوروں نے حصہ لیا۔ دو گاڑیاں بارود سے بھری تھیں، 5 افراد کا گروپ اندر داخل ہو گیا، ان کا ہدف ایئربیس تھا جہاں ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ حملے کے دوران 3 خودکش حملہ آور مارے گئے، ان کے مطابق باقی 7 ابھی ایئرپورٹ کے علاقے میں موجود ہیں۔ وہ مسافر جہازوں کو نشانہ نہیں بنائے گے، جو مسافر نکلنا چاہیں وہ نکل سکتے ہیں۔ اے ایف پی سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ایسے مزید حملے کریں گے۔ حملے کے بعد پشاور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ پشاور جانے والی پروازوں کو مختلف ایئرپورٹس پر روک لیا گیا۔ لاہور سے پشاور جانے والی پرواز کو ریاض جانے سے روک دیا گیا۔ پی آئی اے کی پرواز پی کے 755 کچھ دیر پہلے ہی پشاور پہنچی تھی۔ دریں اثناءبم ڈسپوزل سکواڈ نے پشاور ایئرپورٹ کے اطراف کو کلیئر قرار دے دیا ہے۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق ہلاک خودکش حملہ آوروں کے بیگز میں دو، دو کلوگرام بارودی مواد تھا، دس دستی بم بھی برآمد ہوئے، بیگز سے کھجوریں اور پانی کی بوتلیں ملی ہیں۔ ترجمان طالبان مزید کہا کہ ہمارا ہدف ائربیس پر موجود جیٹ فائٹرز اور دوسرے لڑاکا طیارے تھے جلد ایک اور حملہ کرینگے۔اسلام آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے پشاور ائرپورٹ پر حملے کی مذمت کی ہے۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے وزیراعلیٰ کے پی کے امیر حیدر خان ہوتی سے ٹیلی فون پر بات کی اور پشاور ائرپورٹ پر راکٹ حملے کے واقعہ کے حوالے سے بات چیت کی۔ وزیراعلیٰ خیبر پی کے نے وزیراعظم کو تازہ ترین صورتحال کے بارے میں بتایا اور صورت حال پرقابو پانے کے لئے سکیورٹی اداروں کی مدد سے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ کو ہرممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعلیٰ نے حملہ کی شدید مذمت کی اور اس میں بے گناہ افراد کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس کیا۔ وزیراعظم پشاور ائرپورٹ پر حملہ کے فوری بعد سے وزیراعلیٰ اور سکیورٹی اداروں سے مکمل رابطہ میں ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نوازشریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف، وزیراعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی، اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی، جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن، سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ، تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر محمد طاہر القادری، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر اور دیگر متعدد رہنماﺅں نے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے پشاور میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ کی شدید مذمت کی اور راکٹ حملوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعا کی اللہ تعالیٰ مرحومین کو اپنے جواررحمت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی بھی دعا کی۔