ممبئی حملوں کے ملزموں کیخلاف کارروائی تک پاکستان نہیں آ سکتا: منموہن ‘40 گواہوں پر جرح کیلئے پاکستانی عدالتی کمشن اگلے ہفتے بھارت جائیگا: رحمن ملک

ممبئی حملوں کے ملزموں کیخلاف کارروائی تک پاکستان نہیں آ سکتا: منموہن ‘40 گواہوں پر جرح کیلئے پاکستانی عدالتی کمشن اگلے ہفتے بھارت جائیگا: رحمن ملک

نئی دہلی (نوائے وقت رپورٹ + نیٹ نیوز + ایجنسیاں) وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ ممبئی حملہ کیس میں پاکستان کو 40 بھارتی گواہوں پر جرح کی اجازت مل گئی ہے جو خوش آئند ہے۔ پاکستان کا عدالتی کمشن اگلے ہفتے بھارت کا دورہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں کی تحقیقات پر مامور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے اہلکاروں کا جنوری کے وسط میں پاکستان آنے کا امکان ہے۔ نئی دہلی میں بھارتی سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ظہرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحمن ملک نے کہا کہ بھارت نے حافظ سعید کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ بھارت حافظ سعید سے متعلق ٹھوس ثبوت فراہم کرے تو ان کے خلاف کارروائی کے لئے تیار ہیں انہیں فوری گرفتار کرا دیں گے۔ کچھ عناصر پاکستان اور بھارت میں انتہا پسندی اور مذہب کی آڑ میں تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں دونوں ممالک کو ایسے عناصر کا راستہ روکنا ہو گا۔ میڈیا پاکستان بھارت تعلقات پر اپنی ریٹنگ نہ بڑھائے۔ تحریک طالبان اور لشکر جھنگوی پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ دنیا ان کے خلاف پاکستان کا ساتھ دے۔ انہوں نے وکلا کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے وکلا تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کوشش کر رہے ہیں جس کے ذریعے دونوں طرف عوامی رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان بھارتی وکلا کو ایک سال کا ملٹی پل ویزا دے گا، بھارتی وکلا پاکستان کی پولیس رپورٹ سے بھی مستثنیٰ ہوں گے۔ دریں اثناءرحمن ملک نے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی اور دوطرفہ امور اور نئے ویزہ معاہدہ پر بات چیت کی، صدر زرداری کی جانب سے خصوصی پیغام بھارتی وزیر اعظم کو پہنچایا اور بھارتی وزیر اعظم کو دوبارہ دورہ پاکستان کی دعوت دی۔ وزیر داخلہ کے ساتھ نئی دہلی میں متعین پاکستانی ہائی کمشنر سلمان بشیر اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ بھی موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی وزیر اعظم سے کہا کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں۔ وزیر داخلہ نے بھارتی وزیر اعظم کو بتایا کہ چکوال میں منموہن سنگھ کے آبائی گاﺅں کو ماڈل ویلج کا درجہ دے دیا گیا ہے، سولر پلانٹ لگایا گیا ہے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ من موہن سنگھ خود آ کر اس کا افتتاح کریں۔ رحمن ملک نے کہا کہ نئی ویزا پالیسی سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، امن کے عمل کو مزید تقویت حاصل ہو گی۔ ماضی کی تلخیاں بھلا کر نئے دور کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق رحمن ملک نے ممبئی حملہ کیس کے ملزموں کے تیزی سے جاری ٹرائل کے بارے میں بھی بھارتی وزیراعظم کو آگاہ کیا اور بھارتی وزیر اعظم سے کہا کہ اگر بھارت مزید شواہد فراہم کرے تو پاکستان حافظ سعید کےخلاف بھی مزید کارروائی کرےگا۔ بھارتی ٹی وی سے انٹرویو میں رحمن ملک نے کہا کہ میں نے بابری مسجد کا نائن الیون یا ممبئی حملوں سے موازنہ نہیں کیا۔ بھارتی عوام کو میرے بیانات کو سمجھنا چاہئے۔ حافظ سعید سے ہمیں کوئی پیار نہیں۔ عدالتوں نے انہیں رہا کیا ہے۔ میں آج بھی انہیں گرفتار کرنے کےلئے تیار ہوں لیکن اس کے لئے ایسے شواہد کی ضرورت ہے جنہیں عدالت تسلیم کرے۔ میں جب بابری مسجد کا حوالہ دیتا ہوں تو خطے میں بین المذاہب ہم آہنگی کی بات کرتا ہوں۔ میں نے ہمیشہ پاکستان میں شیعوں کی ہلاکتوں پر بھی اسی طرح بات چیت کی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کے ایجنڈے میں کیپٹن سوراب کالیہ پر تشدد کا معاملہ شامل نہیں۔ پہلی مرتبہ بھارت نے یہ معاملہ اٹھایا ہے میں اس پر صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان کی ہلاکت متنازعہ ہے میں مزید معلومات حاصل کروں گا۔ میں کیپٹن کالیا کے والد کے دکھ کو سمجھتا ہوں میں یقیناً اس معاملے کا جائزہ لوں گا۔ پاکستانی حکام نے3 بار حافظ سعید کو گرفتار کیا ہے لیکن عدالتوں نے ہمیشہ بے گناہ قرار دیتے ہوئے رہا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھی سمجھوتہ ایکسپریس کے معاملہ میں کرنل پروہت کو حوالہ کرنے کا مطالبہ کر سکتے ہیں لیکن ہم کوئی منفی قدم نہیں اٹھانا چاہتے۔ انہوں نے کہا ک ہ بھارت پہنچتے ہی میں نے میڈیا سے کہا ہے کہ وہ مثبت پہلو¶ں کو اجاگر کرے اور منفی فضا پیدا نہ کرے۔ اگر میڈیا کے بعض گروپ بھارت اور پاکستان کے درمیان ایجنڈا سیٹ کرنا چاہتے ہیں تو یہ قطعی طور پر درست نہیں ہے۔ بھارتی ٹی وی سے انٹرویو میں رحمن ملک نے کہا کہ پاکستان اور بھارت تلخیاں بھلا کر مستقبل کی طرف دیکھیں۔ امن و سلامتی کو فروغ دینا چاہئے۔ کیپٹن سوراب کالیا کے خاندان سے ہمدردی ہے۔ بھارت نے پاکستان سے کیپٹن سوراپ کالیا کا معاملہ کبھی نہیں اٹھایا۔ کیپٹن کالیا تشدد سے ہلاک ہوتا تو پاکستانی فوج نعش بھارت کے حوالے کیوں کرتی۔ واضح رہے بھارت نے پاکستان پر الزام لگایا تھا کہ کیپٹن کالیا کو کارگل جنگ کے دوران پاکستانی فوج نے تشدد کر کے ہلاک کیا۔ رحمن ملک نے کہا کہ موت کی تحقیقات کریں گے۔ وزیر داخلہ رحمن ملک نے بھارتی اپوزیشن لیڈر سشما سوراج سے ملاقات کی اور نئی ویزا پالیسی سے آگاہ کیا۔ سشما سوراج نے ویزا پالیسی کو سراہا۔ دونوں رہنما¶ں نے پاکستان بھارت تعلقات اور اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں پاکستان، بھارت پارلیمانی رابطو ں پر زور دیا گیا۔ رحمن ملک نے کہا کہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنا ضرورت ہے۔ ممبئی حملوں، سمجھوتہ ایکسپریس، بابری مسجد کے پیچھے مخصوص لابی کارفرما ہے، ہمیں مل کر ان کے خلاف لائحہ عمل طے کرنا ہو گا۔ دہشت گردی پاکستان بھارت دونوں ممالک کا مسئلہ ہے۔ دشمن کے خلاف مناسب حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے۔
نئی دہلی (جاوید صدیق+سردار حمید وقت نیوز ) بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہونے تک پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ گذشتہ روز وزیر داخلہ رحمن ملک نے بھارتی وزیراعظم کو صدر پاکستان آصف علی زرداری کی طرف سے پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت کی تجویز دی لیکن معتبر ذرائع نے نوائے وقت کو بتایا کہ بھارتی وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ میں بھارت کے عوام کے سامنے جوابدہ ہوں وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ممبئی کے حملہ آوروں کا کیا بنا۔ ذرائع کے مطابق بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کی طرف سے دراندازی کا ذکر بھی کیا۔ پاکستانی وزیر داخلہ نے جب بھارتی وزیراعظم سے کہا ممبئی حملوں میں ملوث سات افراد کو گرفتار کر کے ان کا ٹرائل کیا جا رہا ہے جبکہ 30 افراد مفرور قرار دئیے گئے۔ وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا کہ جوڈیشل کمشن جو بھارت کے دورے پر آنا تھا اور جس نے متعلقہ افراد سے جرح کرنی تھی اس کے ارکان کو ویزا بھی نہیں دیا جا رہا جس پر بھارتی وزیراعظم نے فوری طور پر جوڈیشل کمیٹی کے ارکان کو ویزا دینے پر آمادگی ظاہر کی۔ وزیر داخلہ نے بھارتی وزیراعظم کے سلامتی مشیر شیوشنکر میمن سے بھی ملاقات کی اور پاکستان اور بھارت کے درمیان دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے بھارتی سپریم کورٹ کے عہدیداروں کی طرف سے دئیے گئے ظہرانے میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں کو عالمی بندر نچا رہے ہیں، دونوں ملکوں کے تعلقات میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ ہم نے ملکر ان کی چالوں کو ناکام بنانا ہے۔ جب بھارتی میڈیا نے ان سے سوالات پوچھے کہ حافظ سعید احمد کیخلاف کیوں کارروائی نہیں کی جا رہی تو انہوں نے کہا کہ بھارت حافظ سعید کے حوالے سے صرف اطلاعات دیتا ہے ثبوت فراہم نہیں کرتا۔ بھارت ثبوت دے تو میں پاکستان روانگی سے قبل اس کی گرفتاری کا حکم جاری کر دونگا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان‘ لشکر طیبہ اور لشکر جھنگوی ایسی تنظیمیں دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے کیلئے مشترکہ کوشش کرنے چاہئیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں دہشت گردی کا شکار ہیں لیکن پاکستان کو دہشت گردی کا تلخ تجربہ ہے کسی اور کو نہیں ہو سکتا۔ ہمارے 40 ہزار شہری شہید اور اتنے ہی زخمی ہوئے۔ انہوں نے بھارتی سیاستدانوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان بھارت کے درمیان تلخیاں کم کر کے دونوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں کردار ادا کریں۔ وزیر داخلہ سے ایک مرتبہ پھر کارگل میں مارے جانیوالے ”کالیا“ کے حوالے سے سوال اٹھایا گیا جس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ”کیپٹن کالیا“ کے خاندان سے ہمدردی رکھتے ہیں اور اس معاملے کا جائزہ لیں گے۔ دریں اثناءآن لائن کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے وزیر داخلہ کے دورہ بھارت کے دوران کسی بڑی پیشرفت کا امکان نہ ہونے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کے درمیان مذاکرات کے سلسلے کو جاری رکھنا ہو گا جس سے خطے میں کشیدگی کا ماحول ختم‘ امن، ترقی اور خوشحالی یقینی ہو سکے گی۔ ممبئی حملوں کے سلسلے میں پاکستانی حکومت نے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں جو ثبوت پیش کئے ہیں، اس پر بھارت کو تھوڑا بہت اطمینان حاصل ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستانی وزیر داخلہ کے دور بھارت سے گرچہ کوئی بڑی پیشرفت ممکن نہیں تاہم دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے اور مسائل کو حل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جا سکتے ہیں۔