مشن ختم، فرانس کا آخری لڑاکا فوجی دستہ بھی افغانستان سے واپس چلا گیا

مشن ختم، فرانس کا آخری لڑاکا فوجی دستہ بھی افغانستان سے واپس چلا گیا

کابل+ برسلز (آن لائن+ اے پی پی) فرانس کا آخری لڑاکا فوجی دستہ بھی ہفتہ کو واپس چلا گیا۔ وہ اپنے اتحادی فوجیوں سے دو سال قبل واپس گئے ہیں جبکہ امریکہ کی قیادت میں ایک لاکھ مضبوط نیٹو مشن دو سال بعد جانا ہے۔ 25 ویں بیل فورٹ انفنٹری رجمنٹ کے تقریباً 200 فوجی جو 11 سالہ جنگ سے فرانس کے جلدی میں انخلاءکی نگرانی کے ذمہ دار تھے اب 1500 فوجی یہاں رہ گئے ہیں جو مقامی فورسز کی تربیت کرینگے۔ ادھر افغان طالبان نے کہا ہے کہ پیرس میں ہونے والے مذاکرات افغانستان کے اہم کردار کے درمیان روابط اور آمنے سامنے مل بیٹھنے کا بہترین موقع ضرور ہو سکتا ہے تاہم اس کے نتائج کا کوئی امکان نہیں۔ غیر ملکی افواج کی ملک میں موجودگی تک کٹھ پتلی افغان حکومت سے مذاکرات کسی صورت نہیں ہو سکتے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیا ہے کہ طالبان گروپ پیرس کانفرنس میں شرکت ضرور کریگا لیکن اس کانفرنس میں افغانستان میں قیام امن اور مفاہمت کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی جائے گی۔ ادھر بیلجیم نے افغانستان سے انخلا کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا۔ چینی خبررساں ایجنسی کے مطابق 56 فوجی گاڑیاں اور دیگر ساز و سامان بیلجیم منتقل کر دیا گیا۔