دفاع پاکستان کارواں آج نکالا جائے گا‘ بھارت کو پسندیدہ قرار دینے کا معاہدہ عوام کو قبول نہیں ` ریفرنڈم کرایا جائے: حافظ سعید

دفاع پاکستان کارواں آج نکالا جائے گا‘ بھارت کو پسندیدہ قرار دینے کا معاہدہ عوام کو قبول نہیں ` ریفرنڈم کرایا جائے: حافظ سعید

لاہور (سٹاف رپورٹر/ آن لائن) دفاع پاکستان کونسل کے امیر اور جماعة الدعوة کے سربراہ حافظ سعید نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو جو زخم دیا گیا وہ آ ج بھی تازہ اور اس میں سے اسی طرح خون بہہ رہا ہے اس صورتحال میں حکومت کی جانب سے بھارت سے دوستی بڑھانا، تجارت کرنا اور دیگر معاہدے عوام سے غداری ہے، حیرانگی کی بات ہے کہ آج بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے اور اس سے ویزا پالیسی نرم کرنے کی باتیں کی جا رہی ہےں۔ ہم کسی تجارتی معاہدے کے خلاف نہیں اور نہ ہی کسی امن معاہدے کے خلاف ہیں، بھارت کو پسندیدہ قرار دینے کا معاہدہ عوام کو قبول نہیں اس کیلئے ریفرنڈم کروایا جائے۔ لیکن کسی سے معاہدہ کرنے سے پہلے یہ سوچنا چاہئے کہ جس سے معاہدہ کیا جا رہا ہے وہ کون ہے۔ بھارت کا معاملہ دوسرے ممالک سے مختلف ہے۔ انھوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد ماضی میںاقتدار میں آنے والی تمام حکومتوں سے یہ بات طے تھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا ہے اور اس مسئلہ کے حل کے بغیر کوئی دوسرا معاہدہ نہیں کیا جائے گا آج افسوس ہو رہا ہے کہ اس سب سے اہم بات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جس پر دفاع پاکستان کونسل خاموش نہیں رہے گی اور ملک بھر میں عوام رابطہ مہم شروع کی جائے گی تمام مذہبی جماعتوں کو اکٹھا کیا جائے گا، تاجروں کو بھی ساتھ ملایا جائے گا اور بھارت سے تجارتی معاہدے کو ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارت سے دوستی کے معاہدے کرنیوالے شاید بھول گئے ہیں کہ مسئلہ کشیر کے حل کے لئے لاکھوں قربانیاں دی گئی ہیں، حکومت بین الاقوامی پریشر پر غلط پالیسیاں بنا رہی ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر پرانی پالیسیاں بحال کرے۔ انھوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد اس خطے میں بہت سی اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں جس کا تمام تر فائدہ بھارت نے اٹھایا ہے اس نے 62ڈیم بنا لئے اور پاکستان کے حصے میں آنے والا سارا پانی خود اپنے ڈیموں میں بھر رہا ہے، لوڈشیڈنگ بھی بھارت کی سازش ہے، پاکستان کے ڈیم خالی جبکہ پانی پر بھارت نے قبضہ کر لیا ہے، بھارت بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کےلئے تمام تر کوششیں کر رہا ہے، پارلیمنٹ کے ان کیمرہ سیشن اجلاس میں ان ہی وزراءاور حکمرانوں کی جانب سے بلوچستان میں بھارتی سازشوں کے ثبوت دئیے گئے جو آج بھارت سے ویزا پالیسی نرم کرنے کے معاہدے کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ کہاں کی حب الوطنی ہے سب کچھ جانتے ہوئے نہ جانے کس بنیاد پر بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کے 2 ٹکڑے کرنے میں بھارت کا ہاتھ ہے اس وقت بھی کچھ لوگ بھارت کو اپنا دوست سمجھتے تھے۔ حافظ سعید نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی تخریب کاری میں بھارت کا ہی ہاتھ ہے۔ اس کے باوجود بھارت سے دوستی کی باتیں کرنا پاکستانیوں کے زخموں پر نمک پاشی ہے، مجبوریاں ہو سکتیں ہیں بھارت کے ساتھ دوستی کےلئے بین الاقوامی پریشر بھی ہو سکتا ہے لیکن غربت بھی کوئی چیز ہے کہ نہیں ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس بھارتی عدالت کا فیصلہ بھی اب پوری دنیا کے سامنے آ چکا ہے جس نے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے، بھارت کو کسی صورت پسندیدہ ملک قرار نہیں دینا چاہئے، سب سے پہلے مسئلہ کشمیر حل کیا جائے اس کے بعد کوئی دوسری بات کی جائے اس صورتحال میں تمام پاکستانیوں کا فرض بنتا ہے کہ متحد ہو جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر شیخ یعقوب، امیر حمزہ، ابتسام الٰہی، فضل الرحمان خلیل، عبدالرﺅف فاروقی و دیگر موجود تھے۔ انھوں نے کہاکہ ایک نئی سازش تیار ہو رہی ہے اور بھارت کے ساتھ تجارت کرکے پاکستان کے چین کیساتھ تعلقات کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے آج کے فیصلے پاکستان کے مفاد میں نہیں، امریکہ کے پریشر میں کئے جارہے ہیں، چین وہ ملک ہے جس نے ہر مشکل میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے اب بھارت دوستی کے ذریعے پاک چین دوستی کو بھی مذاق بنایا جا رہا ہے۔ آج بھارت کےخلاف بھرپور مارچ کا آغاز کر رہے ہیں،آنیوالے دنوں میں تحریک پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گی، وہ جو کہتے ہیں کہ سستی سبزیوں سے عوام کو فائدہ ہو گا جھوٹ بولتے ہیں یہ دوستی نہیں پاکستان کے خلاف سازش ہو رہی پاکستان کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے، ہمارے کاررواں کی آواز پوری دنیا کے کانوں میں جائے گی اور سب سے زیادہ بھارت کے کانوں میں کھڑکے گی، بہت سی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا، مختلف مارچ کئے اور بہت کوششیں کی عوام کو حقیقت بتائی اور ہمیشہ ان کو حقیقت بتاتے رہے گے۔ ڈرون حملوں پر صرف دفاع پاکستان کونسل سے صحیح معنوں میں آواز اٹھائی ہے جبکہ باقی تما م جماعتیں خاموش رہیں۔ حافظ سعید نے کہا کہ بھارت کی پالیسی پر تمام مذہبی جماعتیں متفق ہیںہم اس حوالے سے جس بھی مذہبی جماعتوں کے پاس گئے انہو ں نے کہا کہ ہم اس معاملے پر آپ کے ساتھ ہیں۔ قومی مجلس مشاورت میں مولانا فضل الرحمان نے یقین دلایا کہ مکمل طور پر آپ کے ساتھ ہیں۔ دریں اثنادفاع پاکستان کونسل کی طرف سے بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کےخلاف آج (اتوار) مسجد شہداءمال روڈ سے واہگہ بارڈر تک دفاع پاکستان کاررواں کا انعقاد کیا جائےگا۔ جماعة الدعوة کی طرف سے کاررواں کے راستوں میں جگہ جگہ استقبالیہ کیمپ لگا دیئے گئے ہیں جہاں شرکاءکا بھرپور استقبال کیا جائےگا۔ دفاع پاکستان کونسل میں شامل مذہبی، سیاسی و سماجی تنظیموں، طلبائ، وکلاءاور تاجر رہنماﺅں کی قیادت میں قافلے صبح 10 بجے مسجد شہداءپہنچیں گے جہاں سے دفاع پاکستان کارواں کاآغاز کیا جائےگا۔ مولانا سمیع الحق، پروفیسر حافظ محمد سعید، منور حسن، حمید گل، مولانا محمد احمد لدھیانوی و دیگر قائدین بھی مسجد شہداءمیں نوافل ادا کریں گے۔ دفاع پاکستان کونسل کے مرکزی قائدین پروفیسر حافظ محمد سعید، مولانا سمیع الحق، منور حسن، حمید گل، مولانا محمد احمد لدھیانوی، مولانا فضل الرحمن خلیل، شیخ رشید احمد ، اعجاز الحق، مولانا عبدالقادر لونی، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر، حافظ عبدالرحمن مکی، لیاقت بلوچ، مولانا امیر حمزہ، مولانا عبدالرﺅف فاروقی، طاہر محمود اشرفی، قاری یعقوب شیخ ، حافظ محمد مسعود و دیگر نے قوم سے اپیل کی کہ وہ 1965ءکے جذبہ سے گھروں سے نکلیں اور دفاع پاکستان کارواں میں بھرپور انداز میں شرکت کریں تاکہ بھارت، امریکہ اور ان کے اتحادیوں کو پیغام دیا جاسکے کہ پاکستانی قوم بھارت کو پسندیدہ ترین ملک کا درجہ دینے کا ناپسندیدہ فیصلہ کسی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں۔دفاع پاکستان کارواں کی سکیورٹی کے فرائض جماعةالدعوة کے 3 ہزار سے زائد رضاکار سرانجام دیں گے۔ مسجد شہداءمال روڈ، چوبرجی چوک، شاہدرہ، آزادی چوک، سمن آباد چوک، ٹھوکر نیاز بیگ، قینچی،کاہنہ، چونگی امرسدھو، والٹن سٹاپ، لبرٹی مارکیٹ گلبرگ، مغلپورہ اور شالا مار چوک سمیت دیگر علاقوں میں استقبالیہ کیمپ لگائے گئے ہیں۔ فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی درجنوں ایمبولینس گاڑیاں، میڈیکل مشن کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی ٹیمیں بھی دفاع پاکستان کارواں کے ہمراہ ہوں گی ۔