آزادی کی تحریکیں کامیاب ہو رہی ہیں‘ پاکستان کشمیر کے لئے کوششیں تیز کردے: میرواعظ‘ 7 رکنی حریت وفد کی آمد

آزادی کی تحریکیں کامیاب ہو رہی ہیں‘ پاکستان کشمیر کے لئے کوششیں تیز کردے: میرواعظ‘ 7 رکنی حریت وفد کی آمد

لاہور+ راولپنڈی (نیوز رپورٹر+ وقت نیوز+ ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ کشمیری عوام پاکستان اور بھارت کی دوستی کے خلاف نہیں ہیں مگر پاکستانی حکومت کی اولین ترجیح دوستی اور مذاکرات کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کا ہونا چاہئے۔ جب تک بھارت کی حکومت اپنے رویے میں لچک پیدا نہیں کرے گی اس وقت تک مسئلہ کشمیر جوں کا توں رہے گا۔ وہ لاہور ائر پورٹ پر صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ خواہش ہے کہ پاکستان میں تمام سیاسی رہنماﺅں سے ملاقات کروں۔ کوشش ہو گی کہ تمام رہنماﺅں سے ملاقات میں اپنا مو¿قف پیش کر سکوں۔ انہوں نے واضح کیا مسئلہ کشمیر سیاسی مسئلہ ہے اس کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے اگر دونوں ممالک واقعی ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے مسئلہ کشمیر کو حل کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ بھی اس خطے سمیت دنیا میں امن کا خواہاں ہے۔ اس لئے افغانستان سے اس کی فوجوں کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جو بھی مسئلہ ہے پانی کا ہو، چاہے سیاچین کا ہو وہ اس صورت میں حل ہونگے جب مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کے لئے اپنی کوششیں تیز کریں، جنگیں کہیں بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتیں۔ عالمی تنازعات بھی حل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ آزادی کی تحریکیں کامیاب ہو رہی ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ کشمیری عوام کی تحریک پایہ تکمیل کو پہنچے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر سہ طرفہ ہے۔ اس لئے تینوں فریقین کو مل بیٹھنا ہو گا۔ قبل ازیں حرکت رہنماﺅں کا وفد میر واعظ عمر فاروق کی سربراہی میں نئی دہلی سے لاہور پہنچا۔ واہگہ بارڈر پر صوبائی وزیر مہمانداری چودھری عبدالغفور نے ان کا استقبال کیا۔ 7 رکنی وفد میر واعظ عمر فاروق کے ساتھ عبدالغنی بھٹ، مولانا عباس انصاری، بلال غنی لون، مختار احمد، مصدق عادل اور آغا سید شامل ہیں۔ وفد 22 دسمبر تک پاکستان میں قیام کرے گا۔ اسلام آباد ائر پورٹ پر میڈیا سے گفتگو میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین پروفیسر عبدالغنی بھٹ نے کہا ہے کہ ہم مسئلے کشمیر پر بات چیت کرنے کے لئے آئے ہیں۔ مسئلے کشمیر کی کئی جہتیں ہیں۔ بھارت میں بھی اس مسئلہ کے حوالے سے رائے عام میں تبدیلی آئی ہے اگر یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو خطے کا مستقبل مخدوش ہو جائے گا۔ حریت رہنما بلال غنی لون نے کہا کہ ہمارا پاکستان کی اندرونی سیاست اور حکومت سازی یا آئندہ عام انتخابات میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہماری اولین ترجیح مسئلہ کشمیر ہے۔ بھارت کو موسٹ فیورٹ قرار دینا اور تجارتی تعلقات پاکستان کا مسئلہ ہیں۔ حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو سکیورٹی اہلکاروں نے سخت حفاظتی حصار میں میڈیا سے بات چیت کئے بغیر سرکاری پروٹوکول کی گاڑی میں بٹھا دیا۔ انہیں گلدستے پیش کرنے والے حریت کانفرنس کی دوسری صف کے رہنما منہ تکتے رہ گئے۔ وفاقی اور آزاد کشمیر حکومتوں کی سردمہری کی وجہ سے اسلام آباد ائر پورٹ پر حریت وفد کے استقبال کے لئے کوئی شخصیت موجود نہ تھی۔ حریت قیادت کو وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کی طرف سے دعوت دیے جانے کا خاصا پراپیگنڈہ کیا گیا تھا۔