”این آئی سی ایل کرپشن سکینڈل“ کے مقدمے میں ڈی جی ایف آئی اے سے وصولیوں کے بارے میں جواب طلب

 ”این آئی سی ایل کرپشن سکینڈل“ کے  مقدمے میں ڈی جی ایف آئی اے سے وصولیوں  کے بارے میں جواب طلب

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + نوائے وقت رپورٹ) عدالت عظمیٰ نے ”این آئی سی ایل کرپشن سکینڈل“ کے حوالے سے مقدمے میں ڈی جی ایف آئی اے سے وصولیوں کی پیشرفت کے بارے میں جواب طلب کر لیا ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی تو ایف آئی اے کے ڈائریکٹر لیگل اعظم خان نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ سکینڈل کے مرکزی ملزم حبیب وڑائچ کا 42 کروڑ روپے کا چیک با¶نس ہو گیا ہے جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایک اور ملزم اکرم وڑائچ کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔ اس نے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کا یہ بھی کام ہے کہ کرپشن کی رقم کی وصولی بھی کرے، یہ قوم کا پیسہ ہے آپ کو ریکوری کے لئے حکمت عملی بنانی چاہئے تھی۔ عدالت کو سیکرٹری تجارت نے بتایا کہ کراچی میں ایک ارب روپے کی ریکوری کی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا یہ پرانی بات ہے یہ بتایا جائے کہ لاہور میں کتنی ریکوری کی گئی۔ لاہور میں وقار حیدر کو ہٹا دیا گیا ہے جو کچھ نہیں کرے گا ان کو جس لئے تعینات کیا گیا ہے عدالت اس سے بخوبی آگاہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ظفر قریشی چلے گئے جس کے بعد نہ تو وصولیاں ہو رہی ہیں نہ کوئی پیشرفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ چیئرمین این آئی سی ایل کی تقرری کا کیا بنا؟ ڈی جی ایف آئی اے آج عدالت میں پیش ہو کر اس بارے میں رپورٹ پیش کریں، عدالت کو بتایا گیا کہ تین مفرور ملزموں کی جائےداد ضبط کرنے کے لئے کارروائی شروع کی گئی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ایاز نیازی کی تقرری خلاف قانون ہے لیکن اس کے باوجود کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ ایف آئی اے ان کو گرفتار کرے۔ آئی این پی کے مطابق سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی سے وصولیوں کے حوالے سے تحریری جواب طلب کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے وڑائچ فیملی سے 42 کروڑ کی وصولی نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ کوئی بااثر شخص ذمہ داروں کو تحفظ دے رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کا یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ حکومت کی کرپشن میں ڈوبی ہوئی رقم نکالتی رہے، جج بدنام بھی ہوتے ہیں اور کام بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر لیگل اعظم خان نے کہا کہ محسن حبیب ورائچ کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے، اکرم وڑائچ کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وقار حیدر کو ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور تعینات کر دیا گیا ہے وہ کچھ نہیں کریں گے اور یہ بھی پتہ ہے کہ کیوں نہیں کریں گے۔ عدالت نے این آئی سی ایل سکینڈل کیس میں ریکوری کے چیک کیش نہ ہونے اور ادارے کے سابق سربراہ ایاز نیازی کے غیر قانونی تقرر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ سیکرٹری تجارت نے کہا کہ کراچی میں ایک ارب روپے کی ریکوری ہوئی، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو 6 ماہ پرانی بات ہے، آپ نئی بات بتائیں، ظفر قریشی چلے گئے، ریکوری رقم کے چیک باﺅنس ہونا شروع ہو گئے، ایف آئی اے نے بتایا کہ محسن وڑائچ بیرون ملک ہے، پاسپورٹ منسوخی اور اشتہاری کر کے جائیداد ضبطگی کی کارروائی کر رہے ہیں، ہمارے کہنے پر ڈی جی پاسپورٹ نے محسن وڑائچ کا پاسپورٹ منسوخ نہیں کیا۔ بعد میں مقدمہ کی سماعت آج تک ملتوی کر دی گئی۔