مسلمانوں کے خلاف پوری دنیا میں سازشیں ہو رہی ہیں قوت کو پارہ پارہ نہ ہونے دیں‘ مسلمان حکمران عوام کے لئے آسانیاں پیدا کریں: خطبئہ حج

مسلمانوں کے خلاف پوری دنیا میں سازشیں ہو رہی ہیں قوت کو پارہ پارہ نہ ہونے دیں‘ مسلمان حکمران عوام کے لئے آسانیاں پیدا کریں: خطبئہ حج

میدان عرفات (نوائے وقت نیوز + نیٹ نیوز + ایجنسیاں) سعودی عرب کے مفتی¿ اعظم الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل شیخ نے کہا ہے کہ اسلام نے امن کی تعلیم دی ہے، اسلام دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ انسان کا ناحق خون بہانے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اسلام دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے، مسلمانوں کو امن پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے، آج امت مشکل دور سے گزر رہی ہے، مسلم ممالک کے سربراہان عوام کی خیرخواہی کریں ان کے لئے آسانیاں پیدا کریں، حکمران عوام کی مشکلات حل کرنے کے لئے اقدامات کریں، مسلمان حکمرانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ رعایا کی فلاح و بہبود اور بہتری کے لئے کام کریں۔ علما کو چاہئے کہ وہ تقویٰ اور اخلاص کو اختیار کریں۔ مسجد نمرہ میں خطبہ¿ حج دیتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام کے اقتصادی نظام کو اپنایا جائے تو دنیا سے معاشی بحران ختم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ذلت اور پستی سے نکلنا چاہتے ہیں تو دین کو مضبوطی سے تھام لیں، مسلمان دینی تعلیمات اپنا کر اپنے غلبے کا آغاز کریں، مسلمانوں میں اختلافات کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ ہر قسم کی فرقہ واریت کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ دین اسلام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ آج عظیم الشان دن ہے۔ ہمیں اللہ کی گرفت سے ڈرنا چاہئے۔ انسان کو اپنے رب کے احکامات پر عملدرآمد کرنا چاہئے، امت محمدی تمام امتوں سے افضل ہے۔ کائنات میں کوئی بھی اللہ کی مدد کے بغیر کسی کی مدد نہیں کر سکتا ہمیں حضور اکرم کی سنتوں کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، مسلمان تمام باطنی برائیوں سے بچیں، برائیوں کی وجہ سے انسان اللہ کی بارگاہ سے دور ہو جاتا ہے۔ اللہ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کا پابند کیا ہے۔ اسلام نے امن کی تعلیم دی، اسلام امن پسند مذہب ہے اور امن کی بات کرتا ہے۔ اسلام دہشتگردی کی ہر گز اجازت نہیں دیتا، ایک مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ مسلمانوں کو امن پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے، اسلام میں شب خون مارنے سے منع کیا گیا ہے، مسلمان اپنی قوت کو پارہ پارہ ہونے نہ دیں۔ مفتی اعظم نے کہا کہ اے مسلمان بھائیو! جو مصائب آپ پر آتے ہیں ان پر صبر کرو۔ آج امت محمدی مشکل دور سے گزر رہی ہے لوگ امانت میں خیانت نہ کریں، امیر لوگ اپنے مال کی پوری زکوٰة دیں۔ زکوٰة انسان کے مال اور جان میں پاکیزدگی پیدا کرتی ہے، حکمران عوام کی مشکلات کو حل کرنے کیلئے اقدامات کریں۔ اسلام کے اقتصادی نظام کو اپنایا جائے تو دنیا سے معاشی بحران ختم ہو جائیں گے۔ اگر کوئی اپنی قوت ضائع کرتا ہے تو وہ جاہل ہے۔ مسلمان اپنی سیاسی اور اخلاقی قوت ضائع نہ کریں، ایک جماعت ضرور رہے گی جو حق کو تھامے رہے گی۔ اسلام کی تعلیمات کا فروغ ہم پر لازم ہے۔ اے اللہ ملک شام کے مسلمانوں کی مدد فرما۔ پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف سازشیں پیدا ہو رہی ہیں، مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ آپس میں اتفاق پیدا کریں، حرام سے بچیں اور لوگوں کے حقوق ادا کریں، اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم کی مکمل اطاعت کا حکم دیا ہے۔ مفتی اعظم نے کہا کہ حجاج کرام! اللہ کا تم پر انعام ہو، اللہ نے تم کو اپنے قرب سے نوازا، جب مسلمان جنت میں ہونگے تو فرشتے سلام بھیجیں گے، زندگی بہت کم ہے ہمیں اللہ اور رسول کی اطاعت کرنی چاہئے، مسلمان ذلت اور پستی سے نکلنا چاہتے ہیں تو دین کو مضبوطی سے تھام لیں، مسلمان دینی تعلیمات اپنا کر اپنے غلبے کا آغاز کریں۔ مسلمانوں میں اختلافات کا خاتمہ ناگزیر ہے، مسلمانوں میں ہر قسم کی فرقہ واریت کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ دین اسلام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ والدین اپنے بچوں کی تربیت کے حوالے سے اللہ کو جوابدہ ہیں۔ آج امت محمدی مشکل دور سے گزر رہی ہے، مسلمان سنت مصطفی کی پیروی کریں۔ انہوں نے کہا امت محمدی تمام امتوں میں افضل ہے۔ انسان کو اپنے رب کے احکامات پر عملدرآمد کرنا چاہئے، زکوٰة انسان کے مال اور جان میں پاکیزدگی پیدا کرتی ہے۔ برائیوں کی وجہ سے انسان اللہ کی بارگاہ سے دور ہو جاتا ہے۔ اسلام کی تعلیمات کا فروغ ہم پر لازم ہے۔ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامیں اور تفرقوں میں نہ پڑیں۔ اسلام امن پسند مذہب ہے اور امن کی بات کرتا ہے۔ مسلمانوں کو امن پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ کائنات میں کوئی بھی اللہ کی مدد کے بغیر کسی کی مدد نہیں کر سکتا، حرام سے بچیں، اللہ کی گرفت سے بچیں، لوگ امانت میں خیانت نہ کریں۔ شریعت محمدی نے سابقہ شریعتوں کی تصدیق کی ہے۔ حرام سے بچیں اور لوگوں کے حقوق ادا کریں، اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم کی مکمل اطاعت کا حکم دیا ہے۔ زندگی بہت کم ہے ہمیں اسلام کی تعلیمات پر اور حضرت محمد کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہئے۔ بچوں کی تربیت اور اپنے کردار پر توجہ دینی چاہئے۔ حجاج کرام! اللہ کا تم پر انعام ہو، اللہ نے تم کو اپنے قرب سے نوازا، معاملہ انفرادی، اجتماعی یا قبائلی ہو، سنت نبوی میں سب کا حل ہے۔ آج عظیم الشان دن ہے، حدیث نبوی ہے کہ جس نے حج کی سعادت نصیب کی اور اس دوران کوئی گناہ نہ کیا تو وہ اپنے گھر ایسے لوٹے گا جیسے پہلے دن کا بچہ جس کے دامن میں گناہ کا کوئی داغ نہ ہو۔ ہمیں اللہ سے ڈرنا چاہئے، اللہ کی رضا کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا، انسان کو اپنے رب کے احکامات پر عملدرآمد کرنا چاہئے، مسلمان خلوص نیت پر ایمان لائیں اور سنت رسول پر ایمان لائیں کیونکہ رسول اللہ کا پیغام عالمگیر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام پچھلی تمام الہامی کتابوں کو جمع کرتا ہے، پچھلے ادیان کی تنسیخ کرتا ہے۔ امت محمدی تمام امتوں میں افضل ہے کیونکہ شریعت محمدی نے سابقہ شریعتوں کی تصدیق کی اس لئے تمام انسانوں پر یہ لازم ہے کہ وہ اسلام پر ایمان لائیں کیونکہ اس کا پیغام وہی ہے جو پچھلے تمام انبیائےؑ کرام کا پیغام تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے۔ مسلمان تمام باطنی برائیوں سے بچیں، برائیوں کی وجہ سے انسان اللہ کی بارگاہ سے دور ہو جاتا ہے، ہم ہر طرح کے نشے سے دور رہیں کیونکہ اس کے نتائج بہت سنگین ہوتے ہیں، امت مسلمہ بہت سنگین مسائل سے دوچار ہیں، حکمران وہ تمام اقدامات کریں جس سے اس امت کی بھلائی ہو۔ ہم آج لاتعداد مشکلات اور مصائب کا شکار ہیں جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی دینی تعلیمات سے دور ہوتے چلے گئے، ہمارے اعمال میں خلوص نیت نہ رہی اور ہماری زندگیوں سے امن و امان اور ایمان ختم ہو گیا۔ ہم نے اپنے تعلیمی نظام کو بھی خراب کرلیا، نصاب میں ایسی چیزیں شامل کر دیں جس کی شریعت میں کوئی جگہ نہیں تھی جس کہ وجہ سے ہم لبرل ازم اور الحاد کی جانب گامزن ہو گئے۔ اللہ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کاپابند کیا ہے، ہمیں چاہئے ہم ایک دوسرے کو توحید کی جانب بلائیں، ہم اللہ کے پیغام کی تبلیغ کریں، اللہ کا فرمان ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو اور کبھی تفرقہ نہ کرو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارکہ ہے کہ ہر زمانے میں میری امت سے ایک گروہ صحیح عقیدے میں گامزن ہو گا یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنا حسب نسب چھوڑ کر امت کے مفادات کو پیش نظر رکھیں گے اور اللہ تعالی ان کی برکت سے ہمیں تمام مصائب سے نکالتا رہے گا، آج ہم بے شمار مصائب میں گھرے ہوئے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم قرآن اور حدیث کی تعلیمات کو بھلا کر دوسرے راستے پر نکل پڑے ہیں، ہمیں چاہئے کہ ہم امت مسلملہ کو متحد کر کے اس راستے پر گامزن کریں جس کی ہمیں ہدایت کی گئی ہے، ہمیں چاہئے کہ ہم انسانیت کو فلاح کی جانب بلائیں جو صرف قرآن و سنت کا راستہ ہے، مسلمان اپنے عقیدے کو مضبوط کریں تو اللہ ہمارے ساتھ ہو گا اور تمام مصائب میں مدد فرمائے گا۔ مسلمان اپنا حال اور مستقبل دیکھتے ہوئے اپنے درمیان یکجہتی پیدا کریں، ان مسائل کو سمجھیں جن سے ہمیں نبرد آزما ہونا ہے، ہم خود کو کمزور نہ ہونے دیں کیونکہ کمزوری میں مصائب ہم پر قابو پالیں گے، بہادری کے ساتھ حق گوئی اور ہر طرح کی فرقہ پرستی سے بالاتر ہو کر امت مسلمہ کی مدد کریں، اسلام نے امن کی تعلیم دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اساتذہ کرام سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ تمام علوم جو موجودہ حالات میں ضروری ہیں وہ مسلمانوں تک پہنچائیں اور ان کی ایسی تربیت کریں جو ان کو ہر برے راستے سے روک کر رکھے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی بہت احتیاط کی ضرورت ہے اور ہم وہی راستہ اختیار کریں جس میں ہماری بھلائی ہے۔ مسلمان ہر قسم کے معاملات میں سچائی کا دامن کبھی نہ چھوڑیں، سچائی اور خلوص نیت سے حقائق بیان کریں، انہوں نے مسلمان حکمرانوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کی رعایا کو دشمنوں سے بچائیں اور ان کے خلاف سازشوں سے نبرد آزما ہوں، ہم میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جو خیانت کے مرتکب ہو رہے ہیں وہ منشیات اور دیگر غیر اخلاقی کاموں کو فروغ دے رہے ہیں، موت ایک حق ہے جو ہر ذی روح کو آنی ہے، سب کو چاہئے کہ وہ اس ساعت کو نہ بھولیں جب آپ کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے، روز محشر میں اس ترازو کو نہ بھولیں جس میں ان کے اعمال کو تولا جائے گا، اس کتاب کو بھی جو آپ کے بائیں یا دائیں ہاتھ میں دی جائے گی، اس دن مسلمان جنت میں داخل ہوں گے اور مشرکین جہنم واصل ہوں گے، اس دن جنتیوں کو اللہ کی جانب سے بشارت دی جائے گی کہ یہاں نہ موت ہے، نہ کسی چیز کی کمی، کوئی پریشانی ہے اور نہ ہی کوئی تکلیف، اسی طرح اہل جہنم سے بھی کہا جائے گا آج کے بعد انہیں موت نہیں آئے گی وہ یہیں ہمیشہ کے لئے ان چیزوں کا عذاب سہیں گے جو انہوں نے دنیا میں کی ہیں۔ اللہ تعالی مسلمانوں کے دلوں کو اپنی اطاعت اور پرہیز گاری کی جانب پھیر دے، مسلمانوں کو دشمنوں پر نجات اور فتح عطا فرما، ہم وہ عمل کریں جو صرف تیری ہی رضا کےلئے ہو اور ہمارے دلوں کو ایمان کی دولت سے منور کر دے۔ اسلام اللہ کا آخری دین ہے، وہ تمام ادیان پر ایک اتھارٹی بناکر پیش کیا گیا ہے لہٰذا تمام دنیا اور انسانیت کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کے اس دین حق کو تسلیم کریں۔ مسلمان کشادہ ظرف ہو‘ کشادہ دل ہو‘ صبر سے آراستہ ہوں‘ علم سے مزین ہو اور اسے چاہئے کہ وہ غرور و تکبر سے‘ دھوکے سے‘ بددماغی سے اور رعونیت سے اپنے آپ کو دور رکھے۔ دین کی امانت کا ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ کے دین کو دنیا میں نافذ کیا جانا چاہئے۔ اللہ سے ڈرتے رہو۔ اسلام کی دعوت و تبلیغ اور اس کی اشاعت اور اس کا پیغام زمین کے چپے چپے تک پہنچانا بھی سب کی انفرادی و اجتماعی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ہماری زندگیوں میں دین پر عمل ختم ہو گیا ہے اور ہمارے اخلاق خراب ہوگئے اور ہماری خلوص نیت اور ہمارے اندر خدا کا خوف نہیں رہا۔ اس کا نتیجہ یہی ہوا ہے کہ ہم تنزلی کا شکار ہو گئے اور آج مصائب اور مسائل کا سامنا کررہے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ بھی ہوا کہ ہماری زندگیوں میں امن و امان اور ایمان ختم ہو گیا ۔ ہم نے اپنے تعلیمی نظام کو بھی ختم کردیا اور نظام تعلیم میں ایسی چیزیں شامل کر لیں کہ جس کی شریعت اسلامیہ اور اسلامی نظام میں کہیں کوئی جگہ نہیں تھی اور اس کا نتیجہ ہم بھگت رہے ہیں۔
عرفات (مبشر اقبال لون استادانوالہ / ممتاز احمد بڈانی) میدان عرفات میں پاکستانیوں سمیت لاکھوں فرزندان اسلام نے حج کا رکن اعظم وقوف عرفہ ادا کیا اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ مسجد نمرہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں قصر و جمع باجماعت ادا کیں، خطبہ¿ حج سنا، وہ حجام کرام جو اپنے خیمے دور ہونے کے باعث مسجد نمرہ میں نہیں پہنچ سکے تھے ،انہوں نے اپنے خیموں میں ہی نمازیں ادا کیں، سعودی عرب کے مفتی¿ اعظم اور خطیب حج فضیلة الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ نے مسجد نمرہ میں خطبہ دیا۔ اہل ایمان کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر جو مختلف اقوام، زبانوں اور رنگ و نسل کے افراد پر مشتمل تھا، رب العالمین کے دربار اقدس کے مہمان ایک ہی لباس میں لبیک اللھم لبیک کہتے ہوئے اپنے رب کے حضور گڑگڑا رہے تھے، شاہی دربار میں عبدیت و بندگی، ضعف و بیکسی، عجز و درماندگی کا نذرانہ پیش کر رہے تھے کیونکہ اسی کی بندگی میں افتخار ہے، اللہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے، اس کی ازلی و ابدی بادشاہت کے سامنے ہر بادشاہت سرنگوں ہے۔ لبیک اللھم لبیک کی صدا¶ں نے زبانوں کا فرق مٹا دیا۔ اللہ رب العالمین سے اس بات کا وعدہ ہو رہا تھا کہ اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! ہم نے زندگی بھر دانستگی یا نادانستگی میں جو گناہ کئے ان کو معاف کر دے، درگزر فرما دے کہ تُو غفور الرحیم ہے، نہایت معاف کرنے والا ہے، یہاں بچے بھی رو رہے تھے، بوڑھے اور مرد و زن بھی۔ سفید چادریں اوڑھے گرمی کی پروا کئے بغیر بلک بلک کر رو رہے تھے، میدان عرفات سچ مچ ہنگامہ محشر کا منظر پیش کر رہا تھا، حجاج کرام کبھی خوف سے رو رو کر دعائیں مانگتے کبھی لبیک اللھم لبیک کا نعرہ لگاتے کبھی تکبیر کی گونج، کبھی تہلیل، کبھی لا الٰہ الا اللہ وحدہ، لاشریک لہ، سے وحدانیت و ربوبیت کی صدائیں بلند کرتے۔ یہاں اللہ رب العزت کی رحمت کا نزول ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ حجام کرام نے مغرب اور عشاءکی نمازیں مزدلفہ میں سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے قصر و جع ادا کیں اور میدان مزدلفہ میں شب بسری کی۔ آج صبح نماز فجر کے بعد وہ شیطان کی سرکوبی کے لئے منیٰ جمرات پہنچ کر بڑے شیطان کو کنکریاں ماریں گے، قربانی، حلق و تقصیر اور طواف و سعی ادا کریں گے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم 72 سالہ فضیلة الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ 33 سال سے مسجد نمرہ میں حج کا خطبہ دے رہے ہیں۔ گذشتہ روز انہوں نے 33واں خطبہ حج دیا۔ انہوں نے پہلی بار 1981ء(1402 ہجری) میں حج کا خطبہ دیا تھا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ وہ 1940ءمیں ریاض میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 12 سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا، 22 سال کی عمر میں امام الدعوہ انسٹیٹیوٹ سے شریعہ میں گریجوایشن کی۔ انہیں 1994ءمیں سعودی عرب کا نائب مفتی اعظم جبکہ 1995ءمیں مفتی¿ اعظم مقرر کیا گیا۔ وہ پیدائشی طور پر ہی ضعیف النظری کا شکار تھے، 1960ءمیں بینائی سے مکمل طور پر محروم ہو گئے۔ مفتی اعظم کی دلچسپی اور ترجیحات میں اسلامی دنیا کے بحران و مسائل کی آگاہی اور زندگی کے تمام شعبوں سے متعلقہ ایسے امور کی نشاندہی کرنا ہے جن کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ مفتی اعظم اپنے خطبے میں مسئلہ فلسطین پر خصوصی توجہ دیتے ہیں، اس کا اثر خطبہ کے دوران انکے لہجے اور چہرے پر واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ممتاز احمد بڈانی کے مطابق 24 لاکھ کے لگ بھگ فرزندان اسلام نے حج کا اہم رکن وقوف عرفہ ادا کیا۔ صدر ممنون حسین نے بھی اس سال حج کی سعادت حاصل کی۔ سفیر پاکستان محمد نعیم خان اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف ان کے ساتھ تھے۔ حجام کرام آج سنت ابراہیمیؑ ادا کرتے ہوئے قربانی کا جانور ذبح کر کے سر کے بال منڈوا کر احرام کھول دیں گے۔