توانائی بحران کے خاتمہ کے لئے ہنگامی حالت کا اعلان ‘ لائن لاسز برداشت نہیں کریں گے: نوازشریف

توانائی بحران کے خاتمہ کے لئے ہنگامی حالت کا اعلان ‘ لائن لاسز برداشت نہیں کریں گے: نوازشریف

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + آئی این پی) وزیراعظم نواز شریف نے ملک میں توانائی بحران کے خاتمے کے لئے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے پیداواری منصوبوں کی بروقت تکمل کرنے کی ہدایت کے ساتھ ساتھ پورٹ قاسم اور گڈانی میں دو نئے پاور پلانٹ لگانے کی بھی منظوری دے دی۔ پیر کو وزیراعظم نواز شریف کی سربراہی میں وزیر اعظم ہاو¿س میں ہونے والے اجلاس میں توانائی بحران سے نمٹنے کے لئے اب تک کئے جانے والے اقدامات پر غور کیا گیا۔ اجلاس کی بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا پورٹ قاسم میں بجلی کا پیداواری یونٹ لگانے کے لئے پنجاب حکومت نے دلچسپی ظاہر کی ہے، اس موقع پر وزیراعظم نے بجلی کے پیداواری منصوبوں کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے کی فوری ہدایت کی، وزیراعظم نے بجلی چوری اور لائن لاسز روکنے کے لئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا بجلی بچت کے منصوبوں پر بھی عمل کیا جائے۔ توانائی بحران کے اجلاس میں موسم سرما میں گیس لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکا، اس سلسلے میں وزیراعظم نے کابینہ اجلاس 26 اکتوبر کو طلب کیا ہے جس میں گیس لوڈ شیڈنگ کے دورانئے کی منظوری دی جائے گی۔ اجلاس میں انرجی بحران ‘ پاور سیکٹر کی کارکردگی اور لائن لاسز پر قابو پانے کےلئے حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف، وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید، وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی، چیئرمین نیپرا خواجہ نعیم، سیکریٹری پانی و بجلی، سیکریٹری پٹرولیم اور دیگر متعلقہ حکام شریک ہوئے۔ سیکرٹری پانی و بجلی نے قومی توانائی پالیسی پرعمل درآمد اور سیکرٹری پٹرولیم نے سردیوں میں گیس لوڈ مینجمنٹ پلان سے متعلق اجلاس کو بریفنگ دی۔ وزارت پٹرولیم اور وزارت پانی و بجلی کے حکام نے وزیر اعظم کو بجلی اور گیس کی چوری کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کے حوالے سے برےفنگ دی۔ نوائے وقت نیوز کے مطابق اجلاس میں بجلی چوری کے تدارک اور لائن لاسز کم کرنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ بجلی و گیس کے واجبات کی وصولی کے لئے مربوط میکنزم بنانے پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کسی صورت میں بھی بجلی ضائع کرنے کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر اعظم نے یہ ہدایت بھی کی نندی پور اور نیلم جہلم منصوبوں کو مقررہ وقت کے اندر ہر صورت مکمل کیا جائے۔ لائن لاسز کے خاتمے کےلئے ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں۔ اجلاس کے دوران بریفنگ میں وزیر اعظم کو بتایا گیا حکومت پنجاب نے پورٹ قاسم میں پاور پلانٹ لگانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ وزیراعظم کو بجلی کے لائن لاسز میں کمی کیلئے حکومت کی کوششوں کے بارے بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کو بجلی کی قلت پر قابو پانے کیلئے حکومت کے وسط مدتی اقدامات کے بارے بھی آگاہ کیا جن میں 2016ء تک 2000 میگاواٹ کی ونڈ انرجی، 2017ء تک 1000 میگاواٹ کا کاسا پراجیکٹ، 2017ء تک تربیلاV توسیع منصوبہ اور حکومت پنجاب کی پیش رفت کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا یہ منصوبے درست سمت میں گامزن ہیں۔ وزیراعظم کو یہ بھی بتایا گیا ایشیائی ترقیاتی بنک کی مدد سے کوئلے سے چلنے والا بجلی کا منصوبہ جامشورو میں شروع کیا گیا ہے اور دو سال میں مکمل ہو گا۔ وزیراعظم نے ہدایت کی ان منصوبوں پر جنگی بنیادوں پر کام جاری ہے اور وہ خود بھی ”انرجی ریسپانس“ کو ”انرجی ایمرجنسی“ کی حکمت عملی تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا عملدرآمد میں کسی قسم کی غفلت ناقابل قبول ہو گی۔ حکومت نے پورٹ قاسم میں پاور پلانٹ پر کام شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔