توانائی بحران ختم نہ کیا تو معاشی ہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے: ایشیائی بنک

توانائی بحران ختم نہ کیا تو معاشی ہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے: ایشیائی بنک

اسلام آباد (نوائے وقت نیوز + آئی این پی) ایشیائی ترقیاتی بنک نے خدشہ ظاہر کیا ہے حکومت پاکستان نے توانائی کے بحران کا خاتمہ نہ کیا تو مالی سال 2013-14ءکے معاشی اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے، پاکستان میں بجلی کی طلب و رسد میں 40 فیصد کا فرق موجود ہے جبکہ اس کی بنیادی وجہ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی نادہندگی ہے، وفاقی و صوبائی محکمے بروقت بجلی کے بل ادا کریں تو بجلی کا بحران کافی حد تک کم ہو جائے گا۔ سرکاری محکمے بجلی کے بے تحاشا ضیاع میں ملوث ہیں جبکہ سرکاری محکموں سے بلوں کی عدم وصولی کے نتیجے میں سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی آمد کم ہے جو پاور کمپنیوں کو بروقت مکمل رقم فراہم نہیں کر سکتی۔ گیس کی قلت سے کھاد کی درآمد میں اضافہ ہوا ہے۔ ایشائی ترقیاتی بنک نے پاکستان کے حوالے سے انرجی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں توانائی کے بحران کو پاکستان کا سب سے بنیادی مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بنک نے کہا ہے پاکستان میں گذشتہ کئی برسوں سے جاری توانائی کا بحران معیشت کے لئے شدید خطرہ ہے جبکہ حکومت نے توانائی بحران کے خاتمے کےلئے سنجیدہ اقدامات نہ کے تو رواں مالی سال کے معاشی بجٹ اہداف پورے ہونا مشکل ہےں۔ رپورٹ میں توانائی بحران کا بنیادی ذمہ دار وفاقی و صوبائی حکومتوں اور محکموں کو قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے پاکسان میں بالخصوص بجلی کی طلب و رسد میں 40 فیصد فرق موجود ہے یعنی ضرورت کا صرف 60 فیصد بجلی پیدا ہوتی ہے جس کی سب سے بنیادی وجہ یہ ہے وفاقی و صوبائی سرکاری محکمے سب سے زیادہ بجلی خرچ کرتے ہیں جبکہ سرکاری محکموں کی جانب سے بجلی کے بلوں کی وصولی مایوس کن حد تک کم ہے۔ بعض وفاقی اور بالخصوص صوبائی محکموں پر بجلی کی مد میں گذشتہ کئی برسوں سے اربوں روپے واجب الادا ہیں۔ علاوہ ازیں وفاقی و صوبائی سرکاری محکموں میں بجلی کا بے تحاشا ضیاع ہوتا ہے۔ سرکاری افسران بے دریغ بجلی کا عیاشانہ استعمال کرتے ہیں جس پر قابو پانے کےلئے وفاقی و صوبائی سطح پر کوئی خاطر خواہ کوششیں اور پالیسی مقصود ہے جبکہ سرکاری محکموں کی نادہندگی کے نیتجے میں سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی آمدن کم ہے جس کی وجہ سے وہ پاور کمپنیوں کو بروقت اور مکمل ادائیگی نہیں کر سکتی جبکہ پوری وصولیاں نہ ہونے کی وجہ سے پاور کمپنیاں استعداد سے کم پیداوار کرنے کےلئے مجبور ہیں۔ نیز ایشیائی ترقیاتی بنک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے حالیہ برسوں میں گیس کی قلت کی وجہ سے پاکستان میں کھاد کی درآمدات بڑھ گئیں جو تجارتی خسارے کو بڑھانے کا سبب بن رہی ہے۔