بجلی چوری کا بوجھ غریب عوام پر کیوں ڈالا جا رہا ہے: لاہور ہائیکورٹ ‘ نیپرا اور وفاقی حکومت کو نوٹس جاری

بجلی چوری کا بوجھ غریب عوام پر کیوں ڈالا جا رہا ہے: لاہور ہائیکورٹ ‘ نیپرا اور وفاقی حکومت کو نوٹس جاری

لاہور (وقائع نگار خصوصی) بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافے کے خلاف درخواست کی لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالتی بنچ نے استفسار کیا بجلی چوری کا بوجھ غریب عوام پر کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ عدالت نے نیپرا اور وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کر دیئے۔ عدالت نے نیپرا اور وفاقی حکومت کو 24 اکتوبر کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی۔ لاہور ہائی کورٹ نے بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف دائر درخواست میں وفاقی حکومت اور نیپرا سے 24اکتوبر تک جواب طلب کیا ہے۔ جوڈیشل ایکٹویزم پینل کیطرف سے محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ریکارڈ سے ثابت ہو چکا ہے کہ حکومت بجلی چوری، غیر ضروری بل و دیگر اخراجات ، لائن لاسز، سپلیمنٹل چارجز اور ایکولائزیشن سرچارجز عوام سے وصول کر رہی ہے یہ حکومت کی نااہلی ہے جس کی وجہ سے عوام کو سبسڈی دے رہی ہے اِس کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ عدالت کے کہنے پر بجلی چوروں کیخلاف کارروائی شروع ہوئی اور بجلی کے بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ سرچارج سمیت کئی معاملات پر آئینی درخواستیں اعلیٰ عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ جہاں اِن تمام چیزوں کو چیلنج کیا گیا ہے ۔ چیف جسٹس عمر عطاءبندیال نے ریمارکس دیئے کہ نیپرا بجلی کے نرخ کا تعین کر سکتی ہے جس پر محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً کئی ڈیسکوز میں 30% تک بجلی چوری ہوتی ہے اور کئی جگہ یہ 70% تک ہے تیل سے چلنے والے پبلک پاور پلانٹ بند پڑے ہیں جن میں پانی ڈال کر بند کر دیا گیا۔ یہ بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا جاسکتا۔ وفاقی حکومت، جینکوز، ڈیسکوز بجلی کی چوری، ناقص کارکردگی، غیر ضروری اخراجات اور ڈیم نہ بنانے کیوجہ سے بجلی کا بوجھ عوام پر منتقل کر رہی ہے۔ وفاقی حکومت کیطرف سے سبسڈی کو کم کرنا آئین کے آرٹیکل 9, 14, 18, 23, 24, 25, 37 اور 38 کیخلاف ورزی ہے۔ عدالتِ عالیہ نے وفاقی حکومت کی طرف سے آئی پی پیز کو 450 ارب سے زائد سرکلر ڈیبٹ ادا کرنے کے بارے میں تفصیلات طلب کی تھیں وہ فراہم نہیں کی گئیں کیونکہ اُس کے بعد بجلی کے ٹیرف پر نظر ثانی ہونا تھی۔ چیف جسٹس عمر عطاءبندیال نے ریمارکس دیئے کہ اِن تمام باتوں کا براہِ راست تعلق بنیادی حقوق سے ہے عدالت نے تفصیلی بحث سن کر وفاقی حکومت، نیپرا، کو 24 اکتوبر کے نوٹس جاری کرتے ہوئے قیمتیں بڑھانے کے بارے میں وجوہات طلب کر لیں اور عوام پر منتقل کیا جانیوالا لائن لاسز بجلی چوری وغیرہ کی تفصیلات بھی طلب کر لیں۔