قومی اسمبلی : گیلانی کو سمن پر حکومتی ارکان کا شدید احتجاج‘ رحمن ملک استعفی دیں

قومی اسمبلی : گیلانی کو سمن پر حکومتی ارکان کا شدید احتجاج‘ رحمن ملک استعفی دیں

اسلام آباد (وقائع نگار + وقت نیوز + ایجنسیاں) قومی اسمبلی میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو حج کرپشن کیس میں نوٹس جاری کرنے پر پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں کے ارکان نے شدید احتجاج کیا۔ قومی اسمبلی نے آج (جمعرات کو) یوسف گیلانی کے سمن جاری ہونے پر ڈی جی ایف آئی اے کو قائمہ کمیٹی استحقاق میں طلب کر لیا۔ وزیر مذہبی امور سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ ڈی جی ایف آئی اے قانون کے تحت پارلیمنٹ ہاﺅس نہ آئیں تو انہیں ہتھکڑی لگا کر پارلیمنٹ لایا جائے۔ صدر نشین یاسمین رحمن نے ڈی جی ایف آئی اے کی پارلیمنٹ میں طلبی کی رولنگ جاری کر دی ہے۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ایوان میں بیٹھے تمام ارکان کا سر شرم سے جھک گیا ہے۔ ایف آئی اے اگر سابق وزیراعظم کو نوٹس جاری کر سکتا ہے تو ڈی جی ایف آئی اے کو اس پارلیمنٹ کو طلب کرنا چاہئے۔ بیورو کریسی کی مستی نہیں چلنے دیں گے۔ ہم بیورو کریسی اور کسی اور ادارے کو پارلیمنٹ پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر گیلانی نے کہا کہ ایف آئی اے پھر دھمکیاں دے رہی ہے رحمن ملک ہمارے لئے کچھ نہیں کر سکتے تو استعفیٰ دیدیں، یوسف گیلانی کیخلاف سمن واپس لیا جائے، رحمن ملک نہیں تو پھر ہم دونوں بھائی چلے جاتے ہیں۔ انہوں نے گیلانی کے خلاف سمن سے دستبردار نہ ہونے کی صورت میں بھائی سمیت قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے اور ملک چھوڑنے کی دھمکی دے دی اور کہا کہ جس نے حج سکینڈل کے حوالے سے الزام لگایا تھا وہ اپنے بیان کو واپس لے چکے ہیں۔ والد گیلانی کے خلاف ایف آئی اے نے طلبی کے جونوٹسز جاری کئے تھے اس سمن کو واپس لیا جائے۔ پنجاب حکومت نے سکیورٹی واپس لے لی ہے۔ ہماری زندگیوں کو دہشتگردوں کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑا جا رہا ہے۔ کیا خاندان غدار ہے۔ایوان میں کوئی ہمارے حق میں آواز اٹھانے والا نہیں ہے۔ ہمیں انصاف نہ ملا تو ہم دونوں بھائی قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو جائیں گے۔ وزیرمملکت اطلاعات صمصام بخاری نے کہا کہ پارلیمنٹ اتنی کمزور نہیں کہ کسی کے سامنے استعفیٰ دے اگر استعفیٰ کا وقت آیا تو دونوں بھائی نہیں بہت سے لوگوں کے استعفے آئینگے۔ یاسمین رحمن نے کہا کہ پارلیمنٹ کی عزت و توقیر کیلئے جو بھی اقدامات کرنے پڑے کرینگے۔ حج کرپشن کیس میں سپریم کورٹ نے کلیئر کر دیا تھا ایف آئی اے پھر دھمکیاں دے رہی ہے۔ ایف آئی اے مجھے اور والد صاحب کو ہراساں کررہی ہے ہمیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔ رحمن ملک ہمارے لئے کچھ نہیں کر سکتے تو استعفےٰ دے دیں۔ نواز شریف کا پروٹوکول وزیراعظم سے زیادہ ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمرالزمان کائرہ نے کہا ہے کہ کسی اتھارٹی کے ہاتھ اپنے گریبان تک نہیں آنے دیں گے۔ جب بھی احتساب ہوا ہمارا ہی ہوا ہے اب بھی تیار ہیں۔ اپوزیشن لیڈر سرعام کہتے پھرتے ہیں کہ ہم عدالت کا حکم نہیں مانتے اپوزیشن لیڈر کے بیان کا کوئی نوٹس نہیں لے رہا۔ یاسمین رحمن نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ جمعرات کو ڈی جی ایف آئی اے کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں لائیں۔ استعفےٰ دو بھائیوں کے نہیں آئیں گے بلکہ بہت سارے ارکان مستعفی ہونگے۔ مسلم لیگ (ن) کے رانا تنویر حسین نے کہا کہ سابق وزیراعظم کو ایف آئی اے نے بلایا ہے تو اسے وہاں جانا چاہئے دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے ان کی اپنی حکومت ہے۔ ایف آئی اے نے جو معلومات مانگی ہے وہ دیں اس میں بے عزتی محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ کسی رکن نے قانون کی خلاف ورزی نہیں کی اگر کوئی ادارہ دوران سیشن کسی رکن کی توہین کرتا ہے تو ایسے روئیے کو کیسے برداشت کر سکتے ہیں۔ استحقاق کمیٹی میں فیصلہ ہو جائے گا۔ بشریٰ گوہر نے کہا کہ 1990ء میں جن سیاستدانوں نے پیسے لئے اور جن جرنیلوں نے تقسیم کئے ان کا احتساب کیا جائے۔ ریاض فتیانہ نے ڈی جی ایف آئی اے کی طلبی کی حمایت کی اور کہا کہ ہم ہراساں کرنے کے اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔ سابق وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی نے کہا کہ کوئی قانون سے بالاتر نہیں سب کو عدالت کے کٹہرے میں آنا چاہئے لیکن سابق وزیراعظم کا اس طرح سمن جاری نہیں ہونا چاہئے۔ وزیر ٹیکسٹائل انڈسٹریل مخدوم شہاب الدین نے بدھ کوقومی اسمبلی کو وقفہ سوالات میں آگاہ کیا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ملک میں توانائی بحران پر 40 ہزار پاور لومز بند ہوئیں، تقریباً 30 ہزار مزدور متاثر ہوئے ہیں۔ قومی اسمبلی میں قانون فوجداری ترمیمی بل 2011ء منظور کر لیا گیا۔ بل وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے پیش کیا۔ بل کے تحت پرائز بانڈ کے غیر قانونی کاروبار پر پابندی ہو گی۔ حکومت نے وقفہ سوالات کے دوران ایوان بالا میں اعتراف کیا کہ بنگلہ دیش میں منتقل ہونے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری کے اعداد و شمار نہیں ہیں، حکومت کی منظوری سے چار ٹیکسٹائل ملوں نے 2 کروڑ 92 لاکھ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ وفاقی وزیر میر چنگیز جمالی نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران چار ٹیکسٹائل کمپنیوں نے بنگلہ دیش میں دو کروڑ 92 لاکھ90 ہزار کی سرمایہ کاری کی ہے۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان کے لگ بھگ 8700 شہری مختلف ملکوں کی جیلوں میں قید ہیں۔ ایک تحریری بیان میں ایوان کوبتایا کہ سب سے زیادہ پاکستانی قیدی بھارت، افغانستان، چین اور عمان کی جیلوں میں ہیں۔ وزیر پانی و بجلی کی طرف سے تحریری طورپر بتایا گیا کہ بھارت نے اکتوبر 1999ءسے اب تک سندھ طاس معاہدے کی 5 مرتبہ خلاف ورزی کی۔ قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ حج پروازوں کے دوران پی آئی اے کی پروازوں کی تاخیر کا نوٹس لیا گیا ہے اور ان سے وضاحت مانگی گئی ہے تاہم یہ سلسلہ ہر ملک کے حاجیوں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ ڈپٹی سپیکر فیصل کریم کنڈی کے والد سابق ایم این اے فضل کریم کنڈی کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس آج جمعرات کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ بدھ کو بھی اجلاس مقررہ وقت پر شروع نہ ہو سکا۔ صدارت پینل آف چیئرپرسن کی رکن بیگم یاسمین رحمان نے کی۔