قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے احتساب کمشن بل منظور کرلیا‘ مسلم لیگ ن کا بھرپور مخالفت کا اعلان

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے احتساب کمشن بل منظور کرلیا‘ مسلم لیگ ن کا بھرپور مخالفت کا اعلان

اسلام آباد (نامہ نگار) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے مسلم لیگ (ن) کے اختلاف کے باوجود قومی احتساب کمشن بل 2012ءکی اکثریت رائے سے منظوری دیدی، بل کے تحت سیاست دانوں کو پانچ سال کیلئے نااہل جبکہ سرکاری ملازمین کو ملازمت سے برطرف کیا جا سکے گا، سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کا ریٹائرڈ جج یا گریڈ 22کا ریٹائرڈ آفیسر چیئرمین کمشن بننے کا اہل ہو گا جبکہ گریڈ 21کا آفیسر ڈپٹی چیئرمین بن سکے گا۔ مسلم لیگ (ن) نے بل کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی و سینٹ میں بھرپور مخالفت کرنے کا اعلان کر دیا۔ اجلاس چیئرپرسن کمیٹی بیگم نسیم اختر چودھری کی زیرصدارت ہوا۔ قومی احتساب کمشن بل 2012ءکی متنازعہ شقوں پر بحث کی گئی۔ مسلم لیگ (ن) نے تنازعہ شقوں پر چھ اعتراضات جمع کروا دئیے۔ بل کے تحت عدالت احتساب کمشن کے چیئرمین کی جانب سے ارسال کئے گئے نوٹس تک سماعت نہیں کر سکے گی۔ چیئرمین کوئی بھی ریفرنس حکومت کی شکایت یر غیرسرکاری شخص کی تحریر کردہ شکایات اوتھ کمشنر کی تصدیق اور کمپویٹرائز شناختی کارڈ کے ساتھ عدالت کو بھجوائے گا، الزام ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ سزا سات سال قید بامشقت ہو گی، غلط معلومات کی بنیاد پر شکایت درج کرانے پر شکایت کنندہ کو دو سال کی قید یا جرمانہ ہو گا۔ چیئرمین کی تقرری کی صدر چیف جسٹس کی مشاورت سے تین سال کیلئے کرینگے تاہم نئے چیئرمین کی تعیناتی تک وہ اپنا کام جاری رکھ سکے گا۔ بل میں یا عدالت کے اثاثے منجمد کرنے کے اختیارات کو محدود کر دیا گیا، بادی النظر میں دوران تحقیقات جرم کے شواہد موصول ہونے پر بھی ضمانتی مچلکوں پر رہائی ممکن ہو گی۔ بل کے تحت رقم کی رضاکارانہ واپسی پر کوئی سزا نہیں ہو گی جبکہ جرم ثابت ہونعے پر ریمانڈ ضابطہ فوجداری کے مطابق اور سزا کا اطلاق ہو گا۔ چیئرپرسن کمیٹی بیگم نسیم اختر چودھری نے بتایا کہ قومی احتساب کمشن بل 2012ءمتفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے تاہم اپوزیشن نے کچھ نکات پر اعتراض کیا تھا جس پر انہوں نے اختلافی نوٹ دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کو عالمی تعاون کے حوالے سے اعتراض تھا جسے اکثریت نے مسترد کر دیا۔ نسیم اختر چودھری کا کہنا تھا کہ 90کے قانون کا غلط استعمال کیا گیا تھا تاہم اب اس بل کے تحت الزام ثابت نہ ہونے تک اور شواہد کے بغیر ہاتھ نہیں ڈالا جا سکے گا، ہم نے احتساب کمشن کی کرپشن بھی روکنے کی کوشش کی ہے جبکہ بل میں سیاست دانوں کو بیورو کریٹس کے خلاف بھی سزائیں متعین کی گئی ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے زاہد حامد نے قومی احتساب بل 2012ءکو متنازعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے کمیٹی میں بل کی متنازعہ شقوں پر اختلافی نوٹ جمع کروا دیا ہے اور اجلاس میں منظوری کے دوران بل کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔ فاروق ایچ نائیک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بل کو آئندہ ہفتے ایوان میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔