عدنان خواجہ کا تقرر : یوسف رضا گیلانی کیخلاف ریفرنس کیوں دائر نہیں کیا گیا : سپریم کورٹ

عدنان خواجہ کا تقرر : یوسف رضا گیلانی کیخلاف ریفرنس کیوں دائر نہیں کیا گیا : سپریم کورٹ

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال پر ریفرنس دائر کرنے سے متعلق حتمی فیصلے کے لئے نیب کو چار دسمبر تک کی مہلت دے دی ہے جبکہ عدالت نے کہا ہے کہ سزا یافتہ شخص کی تقرری کے احکامات دے کر وزیراعظم نے اپنی اتھارٹی کا غلط استعمال کیا، نیب قانون کے مطابق عمل نہیں کرے گا تو حکم جاری کرتے ہوئے آبزرویشن دینا پڑے گی، انتہائی اہم مقدمہ ہے، ملک کا اعلیٰ ترین عہدےدار کرپٹ پریکٹسز میں ملوث ہے۔ جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے این آر او عملدرآمد کیس میں احمد ریاض شیخ اور عدنان خواجہ کی تقرری سے متعلق سماعت کی۔ عدنان خواجہ کے وکیل ڈاکٹر عبدالباسط نے اعتراف کیا کہ عدنان خواجہ کو او جی ڈی سی ایل کا ایم ڈی بنانا ایک غلطی تھی جسے درست کر دیا گیا، عدنان خواجہ نے نہ چارج سنبھالا نہ تنخواہ لی اور نہ ہی کوئی حکم دیا۔ عدنان خواجہ نے بطور چیئرمین نیوٹیک کوئی تنخواہ نہیں لی، مراعات بھی واپس کر دیں۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ عدنان خواجہ کی تقرری کے ذمہ داران کے خلاف ریفرنس دائر کئے گئے۔ یہ ریفرنس سابق سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ اسماعیل قریشی سمیت تین افراد کے خلاف بھجوائے گئے تاہم رجسٹرار احتساب عدالت نے اعتراضات لگا کر ریفرنس واپس بھجوا دئیے۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ کیا اعتراضات دور کر کے ریفرنس دوبارہ داخل کئے گئے؟ جس پر کے کے آغا نے کہا کہ اعتراضات دور کرنے کے لئے ریفرنس کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ وزیراعظم نے عدنان خواجہ کی تقرری کا حکم دیا ان کے خلاف ریفرنس کیوں نہیں بھجوایا گیا؟ نیب نے ازخود رائے کیسے قائم کر لی کہ کون قصوروار ہے اور کون نہیں؟ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سرکاری اتھارٹی کا غلط استعمال جرم ہے، مالی نقصان اس کا ن تیجہ ہے۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ نیب کے ریفرنس میں کئی گمشدہ کڑیاں ہیں، یہ کیسے ہو سکا ہے کہ جس کو تعینات کیا جائے اسی پر ریفرنس بنا دیں اور جس نے تقرری کی اسے چھوڑ دیں۔ عدنان خواجہ اور یوسف رضا گیلانی ایک ساتھ ایک جیل میں رہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وزیراعظم کو یہ معلوم نہ ہو کہ جس کی وہ تقرر کر رہا ہے وہ اس کے ساتھ جیل میں تھا۔ نیب مرکزی ملزمان کو بچا رہا ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ نیب فائدہ اٹھانے والوں کے سہارے چل رہا ہے۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ سزا یافتہ شخص کو وزیراعظم نے اپنی اتھارٹی استعمال کر کے فائدہ پہنچایا۔ جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ ملک کا اہم ترین عہدےدار بادی النظر میں کرپشن میں ملوث ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو تعینات کیا گیا اس کے خلاف ریفرنس بنا دیا جائے اور جس نے تقرری کی اسے چھوڑ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بھی ملک قیوم کے لکھے گئے خط کو ڈس اون کیا ہے۔ کای نیب ملک قیوم کے خلاف ریفرنس بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ عدالت نے نیب کو ہدایت کی کہ ملک قیوم کے خلاف کارروائی کے بارے میں عدالت کو آگاہ کرے۔ کے کے آغا کا کہنا تھا کہ عدالت ریفرنس کا ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں دوبارہ جائزہ لینے کے لئے ایک ہفتے کا وقت دے۔ نیب بورڈ نے سفارش کی ہے کہ یہ انکوائری ختم کر دی جائے۔ انکوائری بند کرنے کے فیلصے پر دوبارہ نظرثانی کریں گے، کیس کی مزید سماعت 4 دسمبر کو ہو گی۔