سپریم کورٹ پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، عدلیہ دیگر اداروں کے لیے رول ماڈل ہے۔ چیف جسٹس

سپریم کورٹ پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے، عدلیہ دیگر اداروں کے لیے رول ماڈل ہے۔ چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں فل کورٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ عدلیہ انصاف کی فراہمی کے لیے متحرک انداز میں کام کررہی ہے جس کے باعث لوگوں کے سپریم کورٹ پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ آج عدلیہ عوام اور دیگر اداروں کے لیے رول ماڈل ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی ادارہ اکیلےہی اچھی طرزحکومت کویقینی نہیں بناسکتا،اداروں کودوسروں کےکام میں مداخلت سےروکناسپریم کورٹ کافرض اور اسےکسی بھی معاملے کے عدالتی جائزے کا اختیارحاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں جسٹس شاکراللہ جان کے بعد کوئی نئی تقرری نہیں ہوئی،آج ہی حکومت نے جج کی تعیناتی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ عدالتوں میں مقدمات نمٹانے کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ فل کورٹ اجلاس معمول کی کارروائی ہے جس میں عدالتی اور انتظامی امور زیر بحث آئیں گے۔ فل کورٹ اجلاس میں چودہ ججز شریک ہیں جبکہ جسٹس جواد ایس خواجہ غیرملکی دورے جبکہ جسٹس اظہر سعید ناساز طبیعت کے باعث شریک نہیں ہوسکے۔