ریکوڈک کیس : سمجھ نہیں آتی بلوچستان حکومت کا رویہ اتنا غیر ذمہ دارانہ کیوں ہے : چیف جسٹس

 ریکوڈک کیس : سمجھ نہیں آتی بلوچستان حکومت کا رویہ اتنا غیر ذمہ دارانہ کیوں ہے : چیف جسٹس

 اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ میںچیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں ریکوڈک کیس کی سماعت ہوئی۔وکیل بلوچستان حکومت نے موقف اختیار کیا کہ عالمی ثالثی فورم پر اس لئے گئے کہ مخالف فریق کو کھلا میدان نہیں دینا چاہتے تھے۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ ہم تو یہ سمجھ رہے تھے کہ آپ نے انہیںجیتنے کیلئے اچھا میدان فراہم کیا۔وکیل رضا کاظم نے کہا کہ افغان حکومت نے ہم سے دس گناہ بہتر شرائط پر معاہدہ کیا۔تاریخ کی سب سے بڑی دولت ہے،اسے بہتر قومی مفاد میں استعمال کیاجائے۔سپریم کورٹ نے سیکرٹری پٹرولیم کو طلب کرلیا۔عدالت کے طلب کرنے پر سیکرٹری پٹرولیم سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کسی کواس مقدمے کی اہمیت کا اندازہ نہیں۔سمجھ نہیںآتا بلوچستان حکومت کا رویہ اتنا غیر ذمہ دارانہ کیوں ہے۔ جسٹس گلزار نے ریمارکس دئیے کہ جس شخص نے معاہدے پر دستخط کیئے اسے تو بد عنوانی پر سزا بھی ہوئی۔پھر کس طرح یہ بین الاقوامی ثالثی میں جاسکتے ہیں۔ان کیسز کے خلاف مناسب فورم پر غیر قانونی معاہدہ کرنے کی کارروائی ہونی چاہئے۔ وکیل رضا کاظم نے موقف اختیار کیا کہ یہ معاہدہ کرنے سے قبل 13قواعد میں نرمی کی گئی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ایک معاملہ معاہدے کی قانونی حیثیت اور دوسرا عالمی ثالثی کا ہے۔اسی دوران اس کی فائل260 ملین ڈالرز میں فروخت کردی گئی۔وکیل نے کہا کہ یہ معاہدہ 3کھرب ڈالر کا معاملہ ہے۔متعلقہ کمپنی 13ہزار کلو میٹر رقبے پر معدنیات کی تلاش چاہتی ہے۔ پاکستان کی 64 سالہ تاریخ میں یہ سب سے بڑی رقم کا معاہدہ ہے۔جوائنٹ وینچر معاہدے کی قانونی حیثیت پر معاملہ عدالت میں زیر سماعت تھا۔ریکوڈک کیس کی سماعت آج تک ملتوی کردی گئی۔عبدالحفیظ پیر زادہ نے کہا کہ معدنیات تلاش کرنے کا معاہدہ بی ایچ پی کو نہیں دیا گیا تھا۔معاہدہ بی ایچ پی اور بی ڈی اے کے جوائنٹ وینچر کو دیا گیا۔بی ایچ پی عالمی ثالثی عدالت میں نہیں گئی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 13ریلیکسیشن کا معاملہ ختم ہوچکا ہے ؟ عبدالحفیظ پیرزادہ نے جواب دیا کہ معاہدہ مکمل ہونے پر ریلیکسیشن کا معاملہ بھی ختم ہوچکا ہے۔