اب لاہور میں ڈیرہ لگاﺅں گا‘ سیاسی مخالفین سے جنگ جاری رہے گی : زرداری

اب لاہور میں ڈیرہ لگاﺅں گا‘ سیاسی مخالفین سے جنگ جاری رہے گی : زرداری

منڈی بہاءالدین + ملکوال (نامہ نگار + نوائے وقت نیوز) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ انتخابات اپنے وقت پر ہونگے، انتخابات صاف اور شفاف ہونگے، اقتدار اسی کو ملے گا جو جیت کر آئے گا، اےسی ووٹرز لسٹےں بنائی ہےں کہ دھاندلی نہ ہو سکے، اکثر دوستوں سے کہتا ہوں میری پنجابی کمزور ہے، لاہور جا کر اب ٹھکانا بنا کر ڈیرہ لگا¶ں گا، کارکنوں سے پنجابی میں بات کروں گا جس سے میری پنجابی ٹھیک ہو جائے گی۔ عوام سے بڑی طاقت کسی کی نہیں۔ اب ملک پانچ سال کی پلاننگ کے فلسفہ پر نہیں چل سکتے، ہمیں آگے بڑھنا ہو گا، 50 سال بعد کے پاکستان کے لئے سوچنا ہو گا۔ وہ ملکوال مےں وفاقی وزیر نذر محمد گوندل کی جانب سے دی گئی عید ملن تقریب مےں پنڈال مےں موجود ہزاروں افراد سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد کراچی مےں حالات خراب کر کے ہمےں الجھانا چاہتے ہےں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کیا جا سکے، یہ ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے، تمام اختیار پارلیمنٹ کو دے کر پارلیمنٹ کو بااختیار بناےا، مخالفین کو ماننا ہو گا کہ ہمارے ہوتے ہوئے یہ پارلیمنٹ پانچ سال پورے کر رہی ہے، ذوالفقار علی بھٹو دور کی پارلیمنٹ کے بعد مدت پوری کر رہی ہے۔ عوام سے بڑی طاقت کسی کی نہیں، ہر طاقت اب پارلیمنٹ کے سامنے جھکتی جا رہی ہے، ہم آج تک برداشت کر رہے ہےں اور آئندہ بھی برداشت کرتے رہےں گے، مارنے والا بہادر نہیں ہوتا بلکہ درد سہنے والا بہادر ہوتا ہے، پاکستان کی سوچ کو بلند کرنا ہو گا، مےں نے جوانی کے سات سال پنجاب کی جےلوں مےں گزارے ہےں، پاکستان اےک جمہوری ملک ہے، کوئی ملک اسے ڈرا سکتا ہے نہ ہی اسے للکار سکتا ہے۔ ہم پاکستان کو اےسا مہذب ملک بنائےں گے کہ دنیا کا ہم پر سے شک ختم ہو جائے گا، ہم نے کسی اےک جماعت کے لئے نہیں بلکہ ہمےشہ پاکستان کے لئے کام کیا ہے، شہید محترمہ بےنظیر نے بھی پاکستان کے لئے اپنی جان کا نذرانہ دیا ہے، ملک آگے بڑھے گا تو ہم سب آگے بڑھےں گے ورنہ ہم سب ڈوب جائےں گے، آج ہم جو کام کر رہے ہےں وہ آئندہ نسلوں کے لئے کر رہے ہےں، مےں سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتا ہوں، ملک مےں سیاسی قوتےں مضبوط ہوں تو ملک ترقی کر سکتا ہے۔ میں نے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو دے دئیے ہیں جبکہ کوئی پٹواری بھی اپنے اختیارات کسی کو نہیں دیتا، تاریخ ہمیں یاد رکھے گی، میں نے لاہور میں آکر ڈیرا لگانا ہے، مجھے ےاد ہے میں نے جوانی کے سات سال پنجاب کی جیلوں میں گزارے، کئی دوست مجھے جیل میں ملنے آتے تھے، محترمہ کی شہادت کے بعد میر ے پاس ”ایک شیر“ آیا اور مجھے کہا کہ الیکشن کا بائیکاٹ کرنا ہے، میں نے انہیں کہا کہ الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کرنا بلکہ جرنیل کو ہٹانا ہے، پھر ہم نے اکٹھے جرنیل کو ہٹایا اور پھر وہ ہم سے الگ ہو گئے، سیاست میں کوئی دشمنی نہیں ہوتی۔ مشرف کو نکالنے کے لئے شریف برادران سے ہاتھ ملایا، دوست اتنے دور نہ ہوں کہ واپسی کا راستہ نہ ملے۔ کراچی کے اندر وہ ہماری کمزوری پر ہاتھ رکھ رہے ہیں لیکن ہم نے ایک سوچ سے لڑنا ہے، وہ چاہتے ہیں ہمارے بچے آگے نہ بڑھیں۔ ملالہ ایک معصوم بچی ہے اس جیسی ہماری اور بچیوں کو بھی خطرہ ہے یہ لڑائی ہماری اپنی ہے اسے ہم نے لڑنا ہے، شہید بے نظیر نے اس دھرتی کے لئے جان دی، ہم بھی سیاست نہیں عبادت کرتے ہیں اگر ملک میں سیاسی جماعتیں مضبوط ہوں گی تو جمہوریت مضبوط ہو گی اور ملک مضبوط ہو گا، میں نے گڑھی خدا بخش میں دفن ہونا ہے اور قافلہ آگے بڑھانا ہے، آج ہم نے پارلیمنٹ، الیکشن کمشن، عدلیہ اور میڈیا کو آزادی دی ہے، میں ساری سیاسی جماعتوں سے کہتا ہوں کہ آﺅ مل کر بیٹھیں، ترکی نے پنجاب کے اندر کچھ منصوبے شروع کئے ہیں ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں، جو ہماری سیاست میں رکاوٹ ڈالے گا اس کے خلاف جنگ جاری رہے گی، ہم فیڈریشن کی بات کرتے ہیں، میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ برداشت کرنا سیکھیں، ہم نے پاکستان کو اکیسویں صدی میں لے کر جانا ہے، عوام نے جس کو ووٹ دئیے میں اس سے حلف لوں گا، کسی میں اتنی طاقت نہیں جو پاکستان کو میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔ اس موقع پر وفاقی وزرا میاں منظور وٹو، نذر محمد گوندل کے علاوہ زمرد خان، ندیم افضل چن، طارق تارڑ نے بھی خطاب کیا۔ قمر زمان کائرہ، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چودھری احمد مختار، تسنیم قریشی، راجہ ریاض، تنویر اشرف کائرہ، ملک شیروسیر، فوزیہ بہرام، جہانگیر بدر، بیلم حسنین، ثمینہ فخر پگانوالہ، رخسانہ بنگش، مہرین انور راجہ، غلام مرتضیٰ ستی، زمرد خان، آصف بشیر بھاگٹ، وسیم افضل چن، دیوان شمیم اختر، راجہ ممتاز احمد، رانا عارف بھی موجود تھے۔ نجی ٹی وی کے مطابق صدر نے کہا کہ کراچی کے خراب حالات ریاست کی ناکامی نہیں، کراچی میں حالات خراب کرنا دہشت گردوں کی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کیا جا سکے۔ ہر جگہ سے طاقت لا کر پاکستان کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ ملک اور قوم کو ضرورت پڑی تو اپنے پیٹ پر پتھر باندھیں گے۔ جمہوریت نے ابھی بلوغت کی منزلیں طے کرنی ہیں، فیڈریشن کو مضبوط کرنے کی کوششیں کرتے رہیں گے، بےنظیر کا کہنا درست تھا کہ ان کے ووٹوں پر ڈاکہ ڈالا گیا، سیاست کو سیاست سمجھنا چاہئے دشمنی نہیں، ہم تاریخ کے لئے جیتے اور تاریخ کے لئے مرتے ہیں، جمہوریت کا پودا پھل پھول رہا ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ الیکشن کا بگل بج چکا ہے، پارٹی ورکرز انتخابات کیلئے تیار رہیں، آئندہ الیکشن میں پیپلز پارٹی پنجاب اور ملک میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ صدر زرداری نے بدھ کو منڈی بہاءالدین اور سرگودھا کے اضلاع کے لئے 3.609 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ صدر نے منڈی بہاﺅالدین کے دو دیہات سرگودھا اور ملحقہ علاقوں کے لئے بالترتیب 1.433 ارب روپے اور 1.467 ارب روپے کے گیس کے منصوبوں کا افتتاح کیا۔ انہوں نے چن چوک سے روزہ پل کے درمیان 209 ملین روپے لاگت کے سڑک کے منصوبے اور منڈی بہاءالدین میں 174 ملین روپے کے ایک اور ترقیاتی منصوبے کا بھی اعلان کیا۔ صدرنے دریائے جہلم پر وکٹوریہ پل کے منصوبے کے لئے 324 ملین روپے کا اعلان کیا۔
نئی دہلی (آن لائن) صدر آصف علی زرداری نے بھارت سے خوشگوار تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اچھے پڑوسیوں کی طرح رہنا دونوں ممالک کے وسیع تر مفاد میں ہے، اس کے ذریعے باہمی مفادات کئی مواقعوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ صدر نے ان خیالات کا اظہار بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں وفد کے اعزاز میں ایوان صدر میں دیئے گئے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر نے دیوالی کے موقع پر وفد کے ذریعے بھارتی قوم کو مبارکباد دی اور کہا کہ ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہونے سے باہمی تلخیوں کو کم کیا جا سکتا ہے صدر نے کہا کہ بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے اور ہماری خواہش ہے دونوں ممالک اچھے پڑوسیوں کی طرح رہیں اور تعلیم، صحت اور معاشرتی ترقی کے لئے مل کر کام کریں صدر نے کہا کہ عوامی سطح پر روابط کا فروغ وفود کے تبادلوں کے علاوہ دونوں ممالک کو فرینڈ شپ گروپ تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ صدر نے کہا کہ کئی شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے کے وسیع تر مواقع موجود ہیں اور ان سے فائدہ اٹھا کر مشترکہ مفادات کا حصول ممکن بنایا جا سکتا ہے۔