کالعدم تنظیموں‘ مجرموں اور ان کے سرپرستوں کیخلاف بلاتفریق کارروائی کا فیصلہ

کالعدم تنظیموں‘ مجرموں اور ان کے سرپرستوں کیخلاف بلاتفریق کارروائی کا فیصلہ

کراچی (سٹاف رپورٹر + وقائع نگار + بی بی سی) کراچی میں اسماعیلی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی بس پر حملے کے تناظر میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی موجودگی میں ’ایپکس کمیٹی‘ کے اجلاس میں کالعدم تنظیموں سمیت جرائم میں ملوث افراد کے خلاف کسی قسم کی لسانی، مذہبی، فرقہ وارانہ اور سیاسی تفریق کے بغیر کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کور ہیڈ کواٹر کراچی میں ہونے والے اجلاس میں جنرل راحیل شریف کے علاوہ گورنر سندھ عشرت العباد اور وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے شرکت کی۔ ڈی جی ملٹری آپریشنز، ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس، ڈی جی آئی ایس پی آر اور آئی جی سندھ نے بھی شرکت کی۔ کراچی میں جاری آپریشن کا جائزہ لیا گیا اور خفیہ اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مربوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کے علاوہ شہر کی شاہراؤں پر نگرانی اور تلاشی کے کام کو مزید سخت کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ ایپکس کمیٹی نے دہشت گردوں اور ملزمان کے مالی ذرائع کی نشاندھی کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انٹیلی جنس کی ذیلی کمیٹیوں کی سطح پر فوج اور سول خفیہ اداروں میں معلومات کو بڑھایا جائے اور ان کے کام کو مربوط بنایا جائے۔ کمیٹی نے کراچی آپریشن میں مزید تیزی لانے کا فیصلہ کیا۔ طویل المدت استحکام کے لیے کراچی سمیت سندھ بھر میں افسران کی تعیناتی اور تقرریوں میں اہلیت اور شفافیت کو مدنظر رکھا جائے گا۔ دہشت گردوں کے مالی معاونت کے ذرائع ختم کئے جائیں گے اور ان کو ملنے والی امداد کے تمام ذرائع نہ صرف چیک ہوں گے بلکہ ان کی روک تھام کے لیے متعلقہ ادارے مل کر کام کریں گے۔ کراچی شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر چیکنگ کے نظام کو مزید سخت کیا جائیگا۔ فورسز کی چوکیاں بنائی جائیں گی۔ اجلاس میں سانحہ صفوراگوٹھ میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی حکمت عملی طے کی گئی۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ کراچی کے مضافاتی علاقوں میں پولیس کے گشت اور انٹیلی جنس نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور نواحی علاقوں میں بھی آپریشن کیے جائیں گے۔ اجلاس میں انٹیلی جنس اداروں کو مل کر کام کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں انٹیلی جنس بنیادوں پرکی جانے والی کارروائیوںکو مؤثر بنانے کے لئے ایک سب کمیٹی کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا، جو تمام متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں کو مربوط بنانے کے لیے کام کرے گی۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سول اور ملٹری انٹیلی جنس اداروں کے رابطوں کو مزید موثر بنایا جائے گا۔ دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والوں پر نگاہ رکھی جائے گی اور ان عناصر کے خلاف نہ صرف کارروائی کی جائے گی بلکہ ان کے مالی وسائل کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اپیکس کمیٹی کا اجلاس ہر ہفتے بلایا جائے گا۔ ایپکس کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں انٹیلی جنس اداروں کو باہم مربوط طریقہ سے مل کر کام کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ گھنائونے جرائم میں ملوث دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے۔ افسروں پر نظر رکھنے کا طریقہ کار بھی وضع کیا جائے گا۔ یہ ہدایت کی گئی کہ کراچی کے وسیع نواحی علاقوں میں دہشت گردوں اور حملہ آوروں کے گھسنے کو روکنے کے لئے موثر پولیس نگرانی کا نظام قائم کیا جائے۔ تمام داخلی اور خارجی راستوں پر سخت چیکنگ کا نظام وضع کیا جائے۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ قانون نافذکرنے والے ادارے مل کر دہشت گردوں کاخاتمہ کردیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور سرحدوں کی حفاظت کیلئے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اجلاس کے دوران آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ روز صفورا گوٹھ میں اسماعیلیوں کی بس پر فائرنگ کے واقعے پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایسے واقعات روکنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں کراچی میں مقیم لاکھوں افغان مہاجرین سمیت دیگر غیر ملکیوں کی فوری واپسی سے متعلق بھی اقدامات کرنے پر بھی غور کیا گیا ہے۔ فیصلہ کیا گیا کہ کراچی کو دہشت گردوں سے پاک کریں گے۔ آئی این پی کے مطابق داخلی و خارجی راستوں پر فورسز کی مشترکہ چوکیاں بنانے اور وہاں سخت چیکنگ کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیا کہ دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق آپریشن جاری رکھا جائے گا، سول و ملٹری انٹیلی جنس رابطوں کومزید مؤثر بنایا جائے گا۔