دہشت گردی میں ’’را‘‘ ملوث ہے‘ افغانستان اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دے: پاکستان

دہشت گردی میں ’’را‘‘ ملوث ہے‘ افغانستان اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دے: پاکستان

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+اے پی پی+آئی این پی) سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان نے بارہا بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را ‘ کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور ملک کی صورتحال کو غیر مستحکم کرنے کا معاملہ اٹھایا۔ پاکستان نے بھارت کو پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات میں را کے ملوث ہونے کے حوالے سے آگاہ کیا ہے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کی افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کے دوران پاکستان نے افغان حکومت کو کہا ہے کہ وہ ’ را ‘ کو افغانستان کی سرزمین پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پرعزم ہے اور آخری دہشتگرد کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔ داعش کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ داعش کے پاس یہ صلاحیت ہے کہ وہ ہر ملک کے لئے خطرہ بن سکتی ہے اور اس خطرے سے سکیورٹی ایجنسیاں بخوبی نمٹ رہی ہیں۔ دہشت گرد تنظیم کی پاکستان میں موجودگی نہیں ہے‘ سکیورٹی ادارے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ کراچی میں بس پر فائرنگ کے واقعے میں غیر ملکی ہاتھ کے ملوث ہونے کے سوال کے جواب میں سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ اس ضمن میں تحقیقات جاری ہیں اور کوئی بھی حتمی بات ابھی نہیں کی جاسکتی۔ آئی این پی کے مطابق سیکرٹری خارجہ نے کہا کہ کراچی میں دو ملزمان نے تسلیم کیا کہ وہ ’’را‘‘ سے تربیت حاصل کرکے آئے۔ واضح کردیا ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دے چاہے وہ طالبان کریں یا بھارت‘ دہشت گردی کے خلاف ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی‘ قومی قیادت متحد ہے دہشت گردانہ ذہنیت کا خاتمہ کرنا ہے۔ سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے مزید کہا پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے‘ قوم اور قیادت میں دہشت گردی کے خاتمے پر اتفاق ہے۔ قومی قیادت متحد ہے کہ دہشت گردی کی ذہنیت کا خاتمہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی دہشت گردوں کے کچھ گروہ باقی ہیں باقی بچ جانے والے گروہ اب کارروائیاں کررہے ہیں۔ بچے کھچے دہشت گردوں نے کراچی میں کارروائی کی۔ اعزاز چودھری نے کہا کہ بھارت کو بار ہا ’’را ‘‘ کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کرچکے ہیں بھارت پر واضح کرچکے ہیں کہ را پاکستان میں بدامنی پھیلا رہی ہے۔ آئی این پی کے مطابق سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا دوسرا نام ’’را‘‘ ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے’’را‘‘کا ہاتھ ہے، بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ ’’را‘‘ افغان سرزمین استعمال کر رہی ہے۔ ’’را‘‘ بدامنی پھیلا رہی ہے اور پاکستان میں ہونے والی تمام قسم کی دہشت گردی کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ کا ہاتھ ہے۔ ’’را‘‘ ہی دہشت گردی کا دوسرا نام ہے، ’’را‘‘ خاد اور کے جی بی کے ساتھ مل کر بدامنی پھیلا رہی ہے۔ علاوہ ازیں دفتر خارجہ کے ترجمان خلیل اللہ قاضی نے ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ صفورا میں داعش کے ملوث ہونے کے ثبوت نہیں ملے تاہم تحقیقات کر رہے ہیں۔ ترجمان دفتر خارجہ خلیل اللہ قاضی نے مزید کہا اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا پاکستان کو کوئی علم نہیں تھا اس حوالے سے امریکی صحافی کے الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے ،خطے میں قیام امن تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔ پاکستان کی قیادت اور پارلیمنٹ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے یکجا ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ملک میں جاری آپریشن ضرب عضب پاکستان کی نیت کا صاف ثبوت ہے۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی ان کوششوں کا دنیا بھی اعتراف کررہی ہے۔ خطے میں امن واستحکام تمام ممالک کے مفاد میں ہے، انہوں نے کہا کہ فلسطینی ہمارے بھائی ہیں ہم اپنے فلسطین بھائیوں کی ہرسطح پر حمایت جاری رکھیں گے، ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ بحالی خوش آئند ہے۔کسی تنازعے کی آڑ میں ہمارے فیصلے کھیلوں پر اثر انداز نہیں ہونے چاہئیں۔ سٹاف رپورٹر کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد آپریشن کا علم نہیں تھا۔ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کر رہا ہے اور تمام سطحوں پر بھارت کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی پاکستان میں بدامنی پھیلا رہی ہے اور اسے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نگورنو کاراباخ آذربائیجان کا علاقہ ہے وہاں آرمینیا کے تحت انتخابات غیر قانونی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں دہشت گردی کا افسوسناک واقعہ ہوا ہے جس پر پوری قوم دکھی ہے۔ واقعہ کی تحقیقات سے قبل کچھ کہنا مناسب نہیں ہو گا۔ داعش کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے تاہم ہم اس خطرے سے غافل نہیں ہے۔ ہمارے ادارے مستعد ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ آپریشن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے جوائنٹ آپریشن کی نہیں بلکہ مربوط آپریشن کی بات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے سعودی عرب کی جانب سے یمن میں جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ نلتر حادثے میں ہلاک ہونے والے تین غیر ملکیوں کی میتیں بجھوا دی گئی ہیں۔ ملائیشیا کے سفیر کی اہلیہ کی میت آج جمعرات کے روز بجھوائی جا رہی ہے۔ ایران کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کا ایک دیرینہ دوست ملک ہے، وزیر اعظم کے ویژن ’’پرامن ہمسائیگی‘‘ کے تحت خطہ کے تمام ممالک کے ساتھ مل کر امن اور ترقی کے لئے کام کر رہے ہیں۔