خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے والے کو سزا ملے گی‘ سیاستدانوں کی غلطیاں اپنے سر نہیں لیں گے: چیف الیکشن کمشنر

خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے والے کو سزا ملے گی‘ سیاستدانوں کی غلطیاں اپنے سر نہیں لیں گے: چیف الیکشن کمشنر

اسلام آباد (خبر نگار + آن لائن) بلدیاتی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس میں چیف الیکشن کمشنر سردار رضا نے ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کی سرزنش کرتے ہوئے تحریری وضاحت طلب کرلی اور کہا ٹی وی ٹاک شو میں میرٹ کی باتیں کرنے والے خود ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں، مستقبل میں سیاستدانوں کی غلطیاں اپنے سر نہیں لیں گے، الیکشن کمشن میں ڈپٹی سپیکر جاوید مرتضیٰ عباسی کے خلاف بلدیاتی انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی پر فل بنچ نے ان کیمرہ سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ویڈیو دکھائی جس میں ڈپٹی سپیکر ایک جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے جلسے میں کروڑوں روپے کے ترقیاتی کاموں کا اعلان کیا جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا آپ کا وہاں جانا ہی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے اس پر آپ نے ترقیاتی کاموں کا بھی اعلان کیا۔ اس پر ڈپٹی سپیکر نے کمشن کے سامنے پیش کئے ثبوتوں کی کاپیاں طلب کیں اور کہا وہ آئندہ تاریخ میں اپنے وکیل کے ذریعے الزامات کا جواب دیں گے۔ کیس کی آئندہ تاریخ 20 مئی مقرر کی گئی ہے۔ آن لائن کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان نے کہا ہے الیکشن میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنا قانون کی خلاف ورزی ہے جس نے بھی خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا اس کو سزا ضرور ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پی کے 95 لوئر دیر میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکے جانے پر از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا خواتین کا حق رائے دہی کا استعمال ان کا آئینی حق ہے‘ خواتین کو ووٹ سے محروم نہیں رکھا جاسکتا‘ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن نے تمام امیدواروں سے بیان حلفی اور جواب آئندہ سماعت پر طلب کرلیا‘ تاہم جماعت اسلامی کے کامیاب امیدوار اعزاز الملک نے الیکشن کمیشن کو بتایا خواتین نے حلقے میں ووٹ پول کئے تھے۔ علاقوں کی روایت کی وجہ سے کچھ خواتین ووٹ پول کرنے نہیں آئیں‘ پی کے 95 میں جماعت اسلامی کومینڈیٹ ملا ہے۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے سماعت 18 مئی تک ملتوی کردی۔