بیلٹ پیپرز کی چھپائی میں غلطیاں ہوئیں‘ جن حلقوں میں تحریک انصاف جیتی وہاں بھی اضافی چھاپے: محبوب انور

بیلٹ پیپرز کی چھپائی میں غلطیاں ہوئیں‘ جن حلقوں میں  تحریک انصاف جیتی وہاں بھی اضافی چھاپے: محبوب انور

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت/ایجنسیاں) عام انتخابات2013 میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے بارے میں قائم انکوائری کمیشن نے تیسرے گواہ سابق الیکشن کمشنر پنجاب انور محبوب کا بیان قلم بند کرلیا جبکہ فریقین وکلا نے ان پرجرح بھی مکمل کرلی ہے،کمشن نے مزید تین گواہوں،  پرنٹنگ کارپوریشن اسلام آباد موسیٰ رضا، پرنٹنگ کارپوریشن لاہور کے جنرل منیجر رفیق  اورپوسٹل فائونڈیشن کے ایم ڈی اعجاز منہاس کو بیان قلمبند کرانے اور جرح کیلئے آج بروز جمعہ کو طلب کرلیاہے چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں قائم تین رکنی کمشن کے روبرو تحریک انصاف کے وکیل عبدالخفیظ پیرزادہ نے کہا مخالف وکیل نے عدالتی ہدایات کے باوجو د ان کیمرہ سماعت کے حوالے سے میڈیاسے بات چیت کی۔ عدالت کو اس کانوٹس لیناچاہئے کمشن کے سربراہ چیف جسٹس نے ان سے کہا کمشن تک ان کانکتہ نظر پہنچ گیاہے کمشن اس کا بعد میں جائزہ لے گا۔ مسلم لیگ ن کے وکیل شاہدحامد کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے گواہ  سابق الیکشن کمشنر پنجاب محبوب انورنے بتایا الیکشن 2013ء کے دوران ریٹرننگ افسران کی ڈیمانڈ پرکچھ حلقوں کیلئے اضافی بیلٹ پیپرزچھاپے گئے تھے  قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122لاہورمیں 326028رجسٹرڈ ووٹرزکیلئے کل 326200بیلٹ پیپرز فراہم کئے گئے تھے جہاں سے موجودہ سپیکرقومی اسمبلی سردارایازصادق  مسلم لیگ ن کے امیدوارتھے این اے 53 میں 382000 رجسٹرڈ ووٹرزکیلئے چارلاکھ چھپن ہزاربیلٹ پیپرزفراہم کئے گئے‘ تاہم میں یہ نہیں جانتا کہ وہاں سے پی ٹی آئی کے امیدوار غلام سرور کامیاب ہو چکے ہیں۔  این اے 150میں 351130 رجسٹرڈ ووٹرزکیلئے چارلاکھ بیلٹ پیپرزچھاپے گئے لیکن میں نہیں جانتا کہ وہاں سے پی ٹی آئی کے شاہ محمود قریشی نے کامیابی حاصل کی۔ این اے 48 میں کل294193 رجسٹرڈووٹرزکیلئے 320300 بیلٹ پیپرزچھاپے گئے لیکن مجھے نہیں معلوم یہاں سے پی ٹی آئی کے اسد عمر جیت گئے ہیں، این اے 34 میں رجسٹرڈ ووٹرزکی تعداد 504091 تھی جہاں کیلئے 588600 بیلٹ پیپرزچھاپے گئے تھے‘ میں نہیں جانتا اس حلقے سے جماعت اسلامی کے صاحبزادہ یعقوب خان کامیاب ہوئے ہیں۔ این اے 72میں 371374 ووٹرزکیلئے 402100 بیلٹ پیپرزچھاپے گئے۔ لیکن مجھے نہیں معلوم وہاں سے پی ٹی آئی کے احمد علی خان کامیاب وئے تھے۔ فاضل وکیل نے ان سے سوال کیا کیا کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کیخلاف کسی نے انتخابی عذرداری  دائر کی تھی تو گواہ نے لاعلمی کا اظہار کیا، ایک سوال کے جواب میں انہوںنے بتایا ریٹرننگ افسران نے 19اپریل کو بیلٹ پیپرز کی جو تعداد بتائی گئی تھی ، وہ حتمی نہیں بلکہ  ایک عمومی اندازہ  تھا ریٹرننگ افسران سے بیلٹ پیپرز کی تعداد پولنگ سکیم طے کرنے کے بعد لی گئی تھی۔ محبوب انور  نے کہا بیلٹ پیپرز پلان کے مطابق چھاپے گئے تھے لیکن اس میں کچھ غلطیاں ہوئی تھیں۔ نوائے وقت رپورٹ کے مطابق محبوب انور نے بتایا جن حلقوں میں تحریک انصاف جیتی وہاں بھی اضافی بیلٹ پیپرز چھاپے گئے۔ این این آئی کے مطابق محبوب انورنے این اے 122 میں اضافی بیلٹ پیپرز چھاپنے کا الزام مسترد کرتے ہوئے عام انتخابات میں تحریک انصاف کے 3 امیدواروں کے حلقے میں اضافی بیلٹ پیپرز چھاپنے کا انکشاف کیا۔ محبوب انور نے بتایا کہ این اے 122 لاہور میں ایک بھی اضافی بیلٹ پیپر نہیں چھاپا گیا۔ تحریک انصاف کے غلام سرور، امجد علی، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کے حلقوں میں بالترتیب 71ٗ 31ٗ 27 اور 26 ہزار اضافی بیلٹ پیپر چھاپے گئے۔ آن لائن کے مطابقشاہد حامد نے انتخابی عذرداریوں کاحوالہ دینے کی کوشش کرتے ہوئے جب گواہ سے سوال کرناچاہاتوکمشن نے انہیں انتخابی عذرداریوں کے بارے میں بات کرنے سے روک دیا۔