اقتصادی راہداری منصوبہ ہر حال میں مکمل کرینگے‘ صرف حکومت نہیں سب کو ایماندار رہنا ہو گا: نواز شریف

اقتصادی راہداری منصوبہ ہر حال میں مکمل کرینگے‘ صرف حکومت نہیں سب کو ایماندار رہنا ہو گا: نواز شریف

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ + ایجنسیاں) وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے 46 ارب ڈالر کے منصوبے ہر حال میں مکمل کئے جائینگے۔ بعض سیاسی فورسز کو ایسے منصوبے ہضم نہیں ہو رہے۔ ان کا خیال ہے کہ ہم حکومت میں نہیں تو کچھ بھی نہیں ہونا چاہئے۔ بعض غیر ملکی عناصر بھی پاکستان کی ترقی نہیں چاہتے، چھوٹے کاشتکاروں کے لئے قرضہ سکیم کے اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ 46 ارب ڈالر کے پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہے وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان کے اندھیرے ختم ہوں۔ بجلی، گیس واپس آئے، سڑکیں، موٹر وے بنیں اور پاکستان مسائل حل کرے۔ ہم اپنے منصوبے مکمل کریں گے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور آپریشن ضرب عضب کامیاب ہو گا۔ چھوٹے کاشتکاروں کے لئے قرضہ سکیم کا اجرا میرے لئے دلی خوشی کا باعث ہے اس کے ذریعے چھوٹے کاشتکاروں کو اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کا موقع ملے گا وہ اپنی زمین کو زیادہ زرخیز اور بارآور بنا سکیں گے۔ حکومت کو کمزور کرنے والوں کے عزائم ناکام ہوگئے ہیں۔ ملک کا پیسہ قوم کی امانت ہے کسی کو ہضم نہیں کرنے دیں گے۔ حکومت دیانتداری سے چلانے کا فیصلہ کر رکھا ہے بڑے طبقے کا قصور اور سزا معاف ہو جاتی ہے ان سے پیسہ ریکور نہیں ہوتا، بڑا طبقہ خود کو دیوالیہ ظاہر کرکے پیسہ ہڑپ کر جاتا ہے، یہ کسی کے باپ کا نہیں ملک و قوم کا پیسہ ہے اسے صحیح ہاتھوں میں جانا چاہئے۔ شفاف حکومت صرف اسلام آباد کے ایوانوں نہیں پورے ملک میں ہو گی۔ پورے ملک کے اداروں کو شفاف ہونا ہو گا، اگر ادارے شفاف نہیں ہو سکتے تو پھر اپنے لئے اور راستہ ڈھونڈ لیں۔ اندرونی قوتیں راہداری اس لئے ہضم نہیں کر رہیں کہ ان کی حکومت نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں ہونا چاہئے۔ بیرونی قوتیں اس لئے ہضم نہیں کر رہیں کہ وہ پاکستان کو ترقی کرتے نہیں دیکھ سکتیں۔ آپریشن ضرب عضب میں ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کراچی میں بزدل دہشت گردوں نے محب وطن لوگوں کونشانہ بنایا، سانحہ میں ملوث مجرموں کو قرار واقعی سزا ملے گی۔ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو کچھ لوگ کھوکھلے نعرے لے کر میدان میں اترے اور ناکام رہے۔ مل ملا کر قرض لئے اور پھر معاف کرائے جاتے ہیں، صرف حکومت کو ہی نہیں سب کو ایماندار رہنا ہو گا ورنہ کوئی اور راستہ ڈھونڈیں۔ حکومت کے زرعی منصوبوں کا فائدہ کاشتکاروں کو ہوگا۔ کچھ لوگ منفی نعرے لے کر نکل آئے ہیں، ہم نے کھوکھلے نعرے لگانے والوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ترقی کا سفر جاری رکھا۔ معیشت کومستحکم کرنے کا عمل آج پوری رفتار کے ساتھ جاری ہے۔ اپنا پیٹ کاٹ کر مسائل حل کر رہے ہیں۔ توانائی کی کمی دور کرنے کے لئے متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔ کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ پاکستان تیزی سے ترقی کرے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کو نظربد سے محفوظ رکھے۔ اسماعیلی کمیونٹی کے محب وطن لوگوں کو گولیوں سے نشانہ بنایا گیا، سانحہ کراچی کے ملزموں کو قرار واقعی سزا ملے گی۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں پیشرفت ہو رہی ہے اپنے ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی ختم کریں گے۔ دہشت گردی کا نام و نشان خطے میں نہیں ہونا چاہئے، دہشت گردی کرنے والوں کو تیزی سے سزائیں ملیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت دہشتگردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پرعزم ہے، کئی اندرونی اور بیرونی قوتوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا خیر مقدم نہیں کیا کیونکہ وہ پاکستان میں ترقی و خوشحالی نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہوں نے اپنے حالیہ دورہ کابل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اور افغان صدر محمد اشرف غنی دہشتگردی کے خاتمے کے لئے مشترکہ اقدامات کے حوالے سے ایک موقف رکھتے ہیں۔ 45 ارب ڈالر کی اقتصادی راہداری کے لئے سرمایہ کاری کئی عناصر کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بنک غریب طبقہ کے ساتھ انصاف نہیں کررہے، بنکوں کو اب روش بدلنا ہوگی اور غریبوں کے لئے بھی دروازے کھولنا ہوں گے۔ غریب لوگ سب سے زیادہ قرض واپس کرتے ہیں تاہم امیروں کو لاکھوں روپے قرضہ مل جاتا ہے غریبوں کو ایک لاکھ بھی نہیں ملتا۔ 1990ء میں ہمارے دور میں بنکوں کی نجکاری کی گئی تھی، بنکوں نے ترقی کی، نفع کمانے لگے حکومت کو ٹیکسوں کی مدد میں اربوں روپے دے رہے ہیں تاہم غریبوں کے ساتھ انصاف نہیں ہورہا۔ ناانصافی پر معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ بنک اپنی روش بدلیں، غریب طبقہ صرف ایک فیصد نادہندہ ہوتا ہے، بڑے لوگ لاکھوں ہڑپ کرجاتے ہیں پکڑے بھی نہیں جاتے۔ بنک کسی کے باپ نہیں اگر ملک کے ہیں ان کے پاس 20 کروڑ عوام کا پیسہ ہے اس لئے عام لوگوں کو بھی قرضوں میں شامل کیا جائے۔ ملک کا پیسہ قوم کی امانت ہے، کسی کو ہضم نہیں کرنے دیں گے۔ حکومت دیانتداری سے چلانے کا فیصلہ کررکھا ہے، اداروں کو بھی ٹرانسپیرنٹ ہونا پڑیگا، جو نہیں ہوسکتا وہ اپنا رستہ الگ کرلے۔ کچھ اندرونی و بیرونی قوتیں پاکستان کو ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتیں، سانحہ کراچی کے ملزموں کو قرار واقعی سزا ملے گی، افغانستان کیساتھ مل کر دہشت گردی ختم کرینگے، کاشتکار کی بہتری سے ہی پاکستان کی معیشت بہتر ہوگی۔
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) وزیراعظم محمد نوازشریف نے ہدایت کی ہے کہ صرف وہی منصوبے زیر عمل لائے جائیں جو منظور شدہ ہوں اور ان سے عوام کو فائدہ ملے۔ وزیراعظم نے یہ بات پی ایس ڈی پی کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں پی ایس ڈی پی کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ تمام مقررہ وقت میں مکمل کئے جائیں تاخیر سے اخراجات بڑھتے ہیں۔ وزیراعظم نے موجودہ مالی سال کی پی ایس ڈی پی کی غیر استعمال شدہ رقم اور مختلف وزارتوں کی بچت کو ترجیحی منصوبوں میں استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ ملک کے مختلف حصوں میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے پی ایس ڈی پی کی رقوم کو استعمال کیا جائے۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ اور پی ایس ڈی پی کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ انہوں نے پی ایس ڈی پی کا جائزہ پیش کیا اور آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔ وزیراعظم نے سیکرٹری شہری ہوابازی کو ہدایت کی کہ پی آئی اے کی سروسز کو بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے تفریحی پروگرام بہتر بنانے‘ لیگج کی آمد میں تاخیر ختم کرنے‘ خوراک کا معیار بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے ترقیاتی اخراجات کا حجم بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبے مقررہ وقت پر مکمل کئے جانے چاہئیں۔ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی، وزیر مملکت برائے پٹرولیم جام کمال خان، ارکان قومی اسمبلی کیپٹن (ر) محمد صفدر، حمزہ شہباز، افضل کھوکھر، سابق رکن قومی اسمبلی سعود مجید، چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد سمیت وزارت خزانہ، ایوی ایشن، پلاننگ، ریلویز، ہائوسنگ، مواصلات اور پانی و بجلی کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ فنڈز اس طور سے مختص کئے جائیں کہ جہاں ان کی زیادہ ضرورت ہو فنڈز وہیں استعمال ہونے چاہئیں۔ انہوں نے سیکرٹری ایوی ایشن کو ہدایت کی کہ پی آئی اے کی سروس میں بہتری کیلئے اقدامات کئے جائیں جس میں طیاروں کی بہتر ٹرانسپورٹیشن، مسافروں کے لئے نشستوں پر بہتر تفریحی پروگرام، سامان کی آمدورفت میں تاخیر کا خاتمہ، معیاری خوراک اور طیاروں میں وائی فائی کی سہولت کی فراہمی شامل ہے۔