وزیراعظم نے بجلی 2.50 روپے یونٹ مہنگی کرنیکی منظوری دیدی‘ پڑوسی ممالک سے درآمد کا جائزہ لیا جائے: نوازشریف

وزیراعظم نے بجلی 2.50 روپے یونٹ مہنگی کرنیکی منظوری دیدی‘ پڑوسی ممالک سے درآمد کا جائزہ لیا جائے: نوازشریف

اسلام آباد (احمد احمدانی / دی نیشن رپورٹ) وزیراعظم نوازشریف نے بجلی کے نرخوں میں 2.50 روپے یونٹ اضافے کی منظوری دیدی ہے۔ بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ کی لعنت کے خاتمے کیلئے مسلم لیگ (ن) کے قائد ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔ وہ اس حوالے سے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے۔ وزیراعظم نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا یہ فیصلہ توانائی بحران کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ہے۔ یہ اعلیٰ سطح کی کمیٹی وزیر خزانہ اسحق ڈار، ایوی ایشن کے بارے میں مشیر کیپٹن شجاعت عظیم، شوکت فیاض احمد ترین اور نوید ملک پر مشتمل تھی۔ اس موقع پر بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے پیش نظر بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے جامع اور ٹھوس اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ بجلی چوری، یکساں ٹیرف اور لائن لاسز کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ مہینے کے آخر تک انرجی پالیسی مرتب کی جائیگی۔ وزارت پانی و بجلی کے ذرائع نے بتایا کہ نئی حکومت کو 350 ارب روپے کی سبسڈی دینا پڑ رہی ہے کیونکہ بجلی جو 14 روپے یونٹ میں خریدی جا رہی ہے اسے 9 روپے یونٹ میں فروخت کیا جا رہا ہے اور ٹیرف میں 2.50 روپے یونٹ اضافہ کرنے سے 150 ارب روپے کی بچت ہو سکے گی۔ اجلاس میں وزیر خزانہ اسحق ڈار، وزیر پٹولیم شاہد خاقان عباسی، وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف، مشیر ایوی ایشن کیپٹن شجاعت عظیم، شوکت فیاض احمد ترین، نوید ملک اور سینئر حکام نے شرکت کی۔ اسلام آباد سے خبر نگار کے مطابق بجٹ مےں سےلز ٹےکس کی شرح مےں ایک فےصد اضافے کے بعد بجلی کی قےمتوں مےں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ صارفےن کو بجلی پر دی جانیوالی سبسڈی کو بھی ختم کرنے کا حکومت نے اصولی فےصلہ کرلےا ہے۔ ذرائع کے مطابق سبسڈی ختم کرنے سے حکومت کو اضافی رےونےو حاصل ہوگا جس سے سرکلر ڈےٹ ختم ہونے مےں مدد ملے گی۔ حکومت اس بات کو بھی مدنظر رکھے ہوئے ہے کہ اس اضافے سے 100 ےونٹس تک بجلی استعمال کرنیوالے صارفےن پر بوجھ نہ پڑے، 300 ےونٹ سے زےادہ بجلی استعمال کرنیوالے صارفےن پر بوجھ ڈالا جائیگا، اس کا اثر انڈسٹری اور کمرشل صارفےن پر بھی ڈالے جائیگا۔ 
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی/ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ہدایت کی ہے کہ توانائی پالیسی کے بارے میں مشاورتی عمل میں صوبوں کو بھی شامل کیا جائے۔ وزیراعظم نے یہ ہدایت توانائی کے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں توانائی کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا گیا اور بجلی کی سپلائی بہتر بنانے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پیداوار بڑھانے اور متبادل ذرائع کی تلاش کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے۔ اجلاس میں چوری روکنے، ٹیرف بہتر بنانے اور نقصانات میں کمی لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں انرجی ایکسپرٹس نے لوڈشیڈنگ میں کمی کے لئے نظام الاوقات اور حکمت عملی پر عملدرآمد کے بارے میں بریفنگ دی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ نئی جامع انرجی پالیسی میں قلیل ‘ درمیانی اور طویل المیعاد انرجی پلان بنایا گیا ہے۔ یہ پالیسی ماہ رواں کے آخر میں تیار ہوگی۔ ڈیفالٹرز سے وصولی کے لئے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ وزارت پانی و بجلی میں اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار کی پراجیکٹ انتظامیہ بنائی جا رہی ہے۔ عملدرآمد سیل بھی بنایا جا رہا ہے۔ پراجیکٹ منیجمنٹ آفس پالیسی فیصلوں پر عمل کی نگرانی اور عملدرآمد پر نظر رکھے گی۔ وزیراعظم ہر ہفتے صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے اجلاس منعقد کریں گے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پڑوسی ممالک سے توانائی کی درآمد کا بھی جائزہ لیا جائے تاکہ صورت حال کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق وزیراعظم نوازشریف نے وزارت پانی و بجلی کو توانائی، سکیورٹی اور بجلی پیداوار منصوبوں کیلئے پالیسی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم کو بریفنگ میں وزارت پانی و بجلی کے حکام نے بتایا کہ توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی منصوبوں کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشورہ کیا جائے گا۔ نئی توانائی پالیسی اسی ماہ پیش کر دی جائے گی۔ بجلی چوری روکنے اور بجلی نادہندگان سے وصولیوں کیلئے ایکشن پلان تیار کر لیا ہے۔ بڑے نادہندگان کے خلاف فوری کارروائیاں شروع کی جائیں گی۔ چھوٹے ڈیفالٹرز کو بھی نوٹس جاری کئے جائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ عام آدمی کو فوری ریلیف دیں اور بجلی کی قیمتوں میں ردوبدل کرتے وقت عام صارف کا خصوصی خیال رکھیں۔ انہوں نے بجلی پر دی جانے والی قریباً 6 روپے فی یونٹ سبسڈی مرحلہ وار کم کرنے کے بارے میں پروگرام طلب کر لیا ہے۔ وزیراعظم نے بھارت سمیت قریبی ہمسایہ ملکوں سے بجلی کے فوری حصول کے مواقع تلاش کرنے کی ہدایت بھی کی۔ بھارتی حکام کے مطابق پاکستان سے 500 میگاواٹ بجلی کی بات چل رہی ہے۔