تنخواہیں نہ بڑھنے پر ملازمین کے مظاہرے جاری‘ دھرنے‘ تحریک انصاف کا بھی احتجاج

تنخواہیں نہ بڑھنے پر ملازمین کے مظاہرے جاری‘ دھرنے‘ تحریک انصاف کا بھی احتجاج

لاہور + کراچی (سپیشل رپورٹر + نمائندگان + نوائے وقت رپورٹ) حالیہ بجٹ میں تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے کیخلاف لاہور، حافظ آباد، ننکانہ صاحب، قصور، کوئٹہ، ملتان، ڈی جی خان، فیصل آباد سمیت کئی شہروں میں سرکاری ملازمین نے دوسرے روز بھی احتجاجی مظاہرے کئے دھرنے دئیے اور ریلیاں نکالیں جبکہ ریلوے ملازمین نے بھی دوسرے روز احتجاج کرتے ہوئے انجن روک لئے کئی شہروں میں کلرکوں نے قلم چھوڑ ہڑتال کرتے ہوئے دفاتر کی تالہ بندی بھی کی۔ جبکہ تحریک انصاف کی طرف سے بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے وفاقی بجٹ میں سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافے کو مسترد کر دیا ہے۔ گوجرانوالہ میں ملازمین نے ڈی سی او آفس کے سامنے علامتی پھانسی لی اور سینہ کوبی کی۔آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن نے ملک گیر یوم سیاہ منایا اور بھرپور احتجاج کیا۔ احتجاجی مظاہروں سے خطاب کرتے ہوئے رہنماﺅں نے کہا کہ زبردست مہنگائی کے دور میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کیا جانا معاشی قتل ہے، حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے تو خودکشیوں پر مجبور ہو جائیں گے۔ مہنگائی کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے احتجاج کرینگے۔ لاہور میں پریس کلب کے سامنے آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے کے زیر اہتمام پاکستان ورکرز کنفیڈریشن واپڈا کے سینکڑوں کارکنوں نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے کمر توڑ مہنگائی کے خاتمہ کے لئے اور بجٹ میں محنت کشوں کی تنخواہوں میں اضافہ کے حق میں بینرز اٹھا رکھے تھے، جلوس کی قیادت خورشید احمد، روبینہ جمیل، یوسف بلوچ مہو دیگر مزدور کر رہے تھے۔ خورشید احمد نے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ناجائز منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں کو کنٹرول کیا جائے۔ ادھر ریلوے ملازمین نے دوسرے روز بھی احتجاج کیا اور انجن روک لئے۔ لاہور میں ریلوے ملازمین نے انجن شیڈ میں احتجاج کرتے ہوئے ریلوے کے انجن روک لئے اور ان پر چڑھ کر احتجاج کیا۔ملازمین کا کہنا تھا یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا بجٹ ہے جس میں ملازمین کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن نے لاہور، فیصل آباد، شیخوپورہ، سرگودھا، گوجرانوالہ، راولپنڈی، جہلم، چکوال، اٹک، اوکاڑہ، ساہیوال، ملتان، بہاولپور، ڈی جی خان و دیگر شہروں میں بھرپور احتجاج کیا۔ لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے اور پنجاب سول سیکرٹریٹ کے سامنے ایپکا کے دو گروپوں نے مظاہرے کئے۔ جس میں لاہور بھر کے ہزاروں ملازمین جلوسوں کی شکل میں احتجاجی بینرز کے ہمراہ شامل ہوئے۔ رہنماﺅں نے کہا کہ سنٹرل کمیٹی کا اجلاس بلا کر تمام سرکاری ملازمین پارلیمنٹ ہاﺅس کا گھیراﺅ کریں گے اور مطالبات کی منظوری تک دھرنا دیں گے۔ دوسرے دھرنا سول سیکرٹریٹ کے سامنے ہا جس میں ایپکا پنجاب کے صدر ظفر علی خان نے مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگرحکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے 100 فیصد اضافہ کا اعلان نہ کیا تو ہم بلوچستان سے لے کر اسلام آباد تک لانگ مارچ کریں گے۔ علاوہ ازیں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی میاں محمود الرشید نے سیلز ٹیکس، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات میں قیمتوں میں اضافے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکمران پیپلز پارٹی کے انجام سے سبق حاصل کریں، قوم پر مہنگائی کے بم برسانا چھوڑ دیں، چند مہینے پہلے لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہروں کی قیادت کرنیوالے آج احتجاج کرنیوالوں پر ڈنڈے برسا رہے ہیں۔ وہ گزشتہ روز آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کے وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف نے لاہور مظاہرہ کیا مظاہرین نے حکومت کی جانب سے مہنگائی پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پٹرول بجلی کی قیمتیں کم کرے اور جی ایس ٹی میں اضافہ واپس لیا جائے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔ مظاہرہ میں اعجاز چودھری، عبدالعلیم خان، نوشین معراج، یاسمین راشد کے علاوہ کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی جس میں انہوں نے نعرہ لگائے کہ الیکشن سے پہلے کئے گئے وعدے پورے کرو۔ جعلی مینڈیٹ مردہ باد، لوڈشیڈنگ بند کرو، پٹرول، بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے ............ اس موقع پر کارکنوں نے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے، اس موقع پر اعجاز چودھری نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ کا اصل چہرہ چند ہی روز میں عوام نے دیکھ لیا ہے۔ تحریک انصاف بجٹ کو نامنظور کرتے ہوئے عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ علاوہ ازیں سول سیکرٹریٹ اور دیگر سرکاری محکموں کے ملازمین کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا اور ملازمین نے احتجاجاً بازوﺅں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر کام کیا۔ علاوہ ازیں پنجاب سول سیکرٹریٹ ایمپلائز کو آرڈینیشن کونسل نے مطالبہ کیا ہے کہ پنجاب حکومت بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا اعلان کرے اگر پنجاب کے بجٹ میں سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافہ نہ کیا گیا تو 18 جون کو احتجاجی تحریک شروع کر دی جائے گی۔ ننکانہ صاحب سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا) کے زیر اہتمام ملازمین نے قلم چھوڑ ہڑتال کی اور ڈی سی او آفس کے سامنے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرین کی قیادت ایپکا ایجوکیشن کے صدرسید ولادت حسین شاہ نے کی۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن اور مزدور اتحاد کے ممبران نے احتجاجی ریلی نکالی اور ڈی سی او آفس کے باہر علامتی پھانسی لینے کے علاوہ سینہ کوبی کی۔ واسا آفس ےس احتجاجی ریلی نکالی گئی جو ڈی سی او آفس پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی شرکاءنے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے اس دوران سرکاری ملازمین بجٹ نامنظور اور تنخواہوں میں اضافے کے نعرے لگاتے رہے۔ پتوکی سے نامہ نگار کے مطابق سرکاری ملازمین نے قلم چھوڑ ہڑتال کی اور احتجاج کیا اور مطالبات کی منظوری کی اپیل کی ہے۔ ڈپٹی ایجوکیشن آفس کے کلرکوں نے مین روڈ پر احتجاج کیا۔ کوئٹہ سے بیورو رپورٹ کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان میں بھی آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن کی کال پر تمام سرکاری دفاتر میں تالہ بندی کی گئی۔ قصور سے نامہ نگار کے مطابق تحریک انصاف قصور نے وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے احتجاج کیا احتجاجی ریلی نے ایپکا ایسوسی ایشن، محنت کشوں کے علاوہ شہریوں نے شرکت کی۔ احتجاجی ریلی مختلف سڑکوں سے ہوتی ہوئی مزار حضرت بابا بلھے شاہ پہنچی سردار محمد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں نے عوام دشمن بجٹ بنایا بجٹ میں مخصوص طبقہ کو نوازا گیا ٹیکسوں کی وصولی کی بجائے ٹیکسوں کو بڑھایا گیا ہے۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق آل پاکستان ک لرکس ایسوسی ایشن حافظ آباد نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھائے جانے کے خلاف ضلع بھر میں دفاتر کی مکمل تالا بندی اور احتجاجی ریلیاں و جلوس نکالنے کا اعلان کر دیا۔ فیصل آباد، سیالکوٹ، سرگودھا، ساہیوال، دیپالپور، چیچہ وطنی اور دیگر شہروں میں بھی سرکاری ملازمین نے احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ کلرکوں نے قلم چھوڑ ہڑتال کی۔ ادھر متحدہ محاذ اساتذہ پاکستان نے 19 جون کو ملک بھر میں پریس کلبوں کے باہر احتجاجی مظاہروں اور 21 جون کو 11 بجے دن پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے احتجاجی دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں ایم کیو ایم نے بجٹ میں سیلز ٹیکس میں اضافہ کو مسترد کر دیا۔ متحدہ وفاقی حکومت کو جلد اپنے تحفظات سے آگاہ کریگی۔ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی لندن اور پاکستان کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں متحدہ نے وفاقی بجٹ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مصطفےٰ کمال کو رابطہ کمیٹ یمیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ بجٹ سے عوام کی مشکلات کم نہیں ہوئیں اس میں اضافہ ہوا ہے۔ 98 فیصد متوسط اور غریب طبقے پر ٹیکس کا بوجھ ڈال دیا گیا۔ لوڈشیڈنگ میں کمی کیلئے اقدامات بجٹ میں نظر نہیں آئے۔ بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے تجویز کئے گئے ٹیکس بالواسطہ ہیں جاگیردار، وڈیرے پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ وہ 30 لاکھ افراد جو ٹیکس نہیں دیتے انہیں بھی ٹیکس نیٹ میں نہیں لایا گیا۔ زرعی آمدنی پر ٹیکس لگایا جائے اور سیلز ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے۔ متحدہ قومی موومنٹ سیلز ٹیکس میں کمی کا مطالبہ کرتی ہے۔ تنخواہ دار افراد پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا گیا ٹیکس عائد کرنے پر چھوٹے تاجروں کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔ سرکلر ڈیٹ ختم کرنے کیلئے درکار 500 ارب پر کوئی وضاحت نہیں کی گئی پڑھنے والے پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا اور پڑھانے والے پر بھی۔