یمن میں القاعدہ نے اپنے رہ نما ابراہیم الربیش کی میزائل حملے میں ہلاکت کی تصدیق کر دی

یمن میں القاعدہ نے اپنے رہ نما ابراہیم الربیش کی میزائل حملے میں ہلاکت کی  تصدیق کر دی

امریکا نے ابراہیم الربیش کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالرز مقرر کررکھی تھی۔انھیں امریکا کے جزیرے گوانتا نامو بے میں واقع بدنام زمانہ حراستی مرکز سے 2006 میں رہا کیا گیا تھا جس  کے بعد وہ یمن میں القاعدہ میں شامل ہوگئے تھے۔انھیں اس گروپ کا مرکزی نظریاتی رہ نما خیال کیاجاتا تھا اور ان کی تحریریں اور خطبات جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی مطبوعات میں شائع کیے جاتے تھے۔
گذشتہ سال انھوں نے القاعدہ کی حریف سخت گیر جنگجو تنظیم دولت اسلامی (داعش) کے عراق اور شام کے ایک بڑے علاقے پر قبضے اور وہاں اس کی حکومت کے قیام کو سراہا تھا۔