سلامتی کونسل نے حوثیوں کو اسلحہ فراہمی پر پابندی کی قرارداد منظور کر لی

سلامتی کونسل نے حوثیوں کو اسلحہ فراہمی پر پابندی کی قرارداد منظور کر لی

نیویارک، جدہ، صنعا (نیوز ایجنسیاں+ نمائندہ خصوصی)  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن میں حوثی باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی پر پابندی عائد کردی۔ سلامتی کونسل نے حوثی باغیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر لڑائی بند کردیں اور صنعا سمیت دیگر زیرقبضہ علاقوں سے نکل جائیں جبکہ وزیراعظم نوازشریف اور امریکی وزیرخارجہ جان کیری میں گذشتہ روز ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں یمن کی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن ریپبلکن گارڈ کے سابق سربراہ احمد صالح اور حوثی قبائل کے رہنما عبدالمالک حوثی پر بیرون ملک سفر کی پابندی عائد کردی اور انکے بین الاقوامی اثاثوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔ صالح کے والد اور سابق صدر علی عبداللہ صالح اور حوثی قبائل کے دو دیگر رہنمائوں عبدالخالق الحوثی اور یحییٰ الحکیم کو سلامتی کونسل نے گذشتہ برس نومبر میں ’’بلیک لسٹ‘‘ کردیا تھا۔ روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اس کا کہنا ہے کہ قرارداد تیار کرنیوالے اُردن اور دیگر صلیبی ممالک نے اسکی تجاویز کو شامل نہیں کیا ۔ نیویارک میں نمائندہ خصوصی کے مطابق خلیجی ممالک اور روس کے درمیان ایک ہفتے تک بندکمرے میں مذاکرات کے باوجود سلامتی کونسل نے روس کی طرف سے مکمل طور پر اسلحہ کی فراہمی روکنے کی تجویز کو نہیں مانا گیا۔ روسی سفیر ویٹلی چورکن نے کہا ہے کہ ہم نے تمام فریقین سے متعلق بات کی تھی اور امن مذاکرات شروع کرنے کی بات کی تھی۔ اُردن نے روس کی طرف سے فضائی حملے روکنے کی تجویز کو یکسر نکال دیا۔ تمام عرب ممالک نے روس کی تجاویز کی مخالفت کی۔ انکا کہنا تھا کہ ایسا کرنا حوثیوں کو دوبارہ منظم کرنیوالی بات ہوگی۔ سلامتی کونسل نے قرارداد کثرت رائے سے منظور کی۔ عرب ٹی وی کے مطابق حوثی باغیوں کے سربراہ عبدالمالک الحوثی اور معزول صدر عبداللہ صالح کے بیٹے پر پابندی عائد کردی گئی۔ حوثی باغیوں اور انکے حامیوں کو ہر قسم کے ہتھیاروں کی فراہمی پر بھی پابندی ہوگی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ  یمنی صدر منصور ہادی کیخلاف باغیوں کی فوجی مہم کو ختم کیا جائے اور تمام گروپ تشدد ختم کر کے امن مذاکرات کا حصہ بنیں۔ قراردادکی مخالفت میں کسی نے ووٹ نہیں ڈالا جبکہ روس نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ قرارداد کے حق میں 14 ووٹ ڈالے گئے۔ عبدالمالک الحوثی اور ان کے حامی سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے بیٹے احمد علی کے اثاثے منجمد کرنے اور ان پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ خیال رہے کہ یمن کے سابق صدر عبداللہ صالح اور حوثی باغیوں کے متعدد رہنماؤں پر گذشتہ سال نومبر میں بھی اسی قسم کی پابندیاں عائد کی جاچکی ہیں۔ دریں اثنا ایران نے یمن میں قیام امن کیلئے چار نکاتی  جنگ بندی منصوبہ پیش کر دیا۔منصوبے کو آج اقوام متحدہ میں پیش کیا جائیگا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے چار نکاتی مجوزہ پلان میڈرڈ میں پیش کیا جس میں تجویز دی گئی ہے کہ باہمی مذاکرات کے بعد یمن میں حکومت تشکیل دی جائے۔ یمن کے مستقبل کے فیصلے کا اختیار عوام کو ہونا چاہئے۔ جواد ظریف نے کہا کہ یمن میں جنگ بندی اور فضائی و زمینی آپریشن بند کیا جائے۔ جنگ بندی کو غیرملکی طاقتیں مانیٹر کریں۔ متاثرین کی مدد کیلئے امداد بھجوائی جائے۔ یمن میں متحارب تمام فریقین کے درمیان مذاکرات شروع کئے جائیں۔  جواد ظریف نے میڈرڈ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امن کیلئے تجویز دی کہ سیزفائر کیا جائے، متاثرین کو مدد دی جائے، تیسرے نمبر پر فریقین مذاکرات کریں جبکہ وسیع البنیاد حکومت قائم کی جائے۔ دریں اثنا سعودی اتحادی فوج کے لڑاکا طیاروں نے یمن کے دارالحکومت اور عدن میں حوثی باغیوں پر بمباری جاری رکھی۔ اتحادی فضائیہ نے اسلحے کے ذخیروں، گاڑیوں اور میزائلوں کو نشانہ بنایا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق یمن میں لڑائی کے دوران اب تک  600 افراد ہلاک، 2200 زخمی جبکہ ایک لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ اتحادی ترجمان کا کہنا ہے کہ حوثی باغیوں کے خاتمے تک کارروائی جاری رہے گی۔ دریں اثناء ترجمان دفتر خارجہ تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ یمن میں محصور 11 پاکستانیوں کو انکے اہل خانہ کے ساتھ جہاز میں سعودی عرب کے شہر جزمان پہنچا دیا گیا۔ 11 پاکستانی پی آئی اے کے طیارے سے آج پاکستان پہنچیں گے۔ پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے جزمان میں محصورین کا استقبال کیا۔ 11پاکستانی بذریعہ سڑک جدہ پہنچے، سعودی حکومت نے پاکستانیوں کو اپنی روایتی مہمان نواز کا ثبوت دیتے ہوئے انہیں اور انکے خاندان کو خصوصی ویزہ دیا کہ وہ اللہ کا شکر بجا لانے کیلئے عمرہ کی سعادت حاصل کرسکیں۔ پاکستان کے قونصل جنرل نے سعودی حکومت کا حکومت پاکستان اور وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے شکریہ ادا کیا۔ دریں اثنا سعودی  ترجمان بریگیڈئر جنرل احمد العسیری کا کہنا ہے کہ ہمارے حملوں کا مقصد عدن میں باغیوں کو سپلائی پہنچنے سے روکنا ہے۔ ہمارے فضائی حملوں سے ہمیں اس مقصد میں کافی حد تک کامیابی ہوئی ہے۔ انہوں نے آپریشن سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ عدن کے علاقے میں اتحادی فوج نے باغی ملیشیاوں کی نقل و حرکت کو بڑی حد تک محدود کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام یمنی شہریوں کے قتل میں مصروف ملیشیاوں کو جنگ بندی کا اعلان کر دینا چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں جنرل عسیری نے کہا کہ حوثیوں کے اہم کمانڈر کی ہلاکت سے متعلق ہمارے پاس مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔