الطاف سے لندن کے تھانے میں ساڑھے 5 گھنٹے تفتیش

الطاف سے لندن کے تھانے میں ساڑھے 5 گھنٹے تفتیش

لندن (  وقار ملک  + نوائے وقت رپورٹ) منی لانڈرنگ کیس میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی ضمانت میں 9جولائی تک توسیع کر دی گئی جس کے بعد سکاٹ لینڈ یارڈ نے انہیں  پولیس سٹیشن سے واپس  جانے کی اجازت دیدی۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین گزشتہ روز منی لانڈرنگ کیس میں سینٹرل لندن کے تھانے سوک میں پیش ہوئے جہاں ان سے سکاٹ لینڈ یارڈ کے افسروں نے ساڑھے 5گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ رپورٹ کے مطابق الطاف حسین نے اطمینان سے سکاٹ لینڈ یارڈ کے  سوالوں کا جواب دیا۔ انہوں نے ہر سٹیج پر سکاٹ لینڈ یارڈ سے تعاون کیا۔ الطاف حسین کے ساتھ معاونت کیلئے بیرسٹر سیف اور وکلا کی ٹیم تھی جبکہ تھانے کے باہر ایم کیو ایم کے رہنما بابر غوری، محمد انور بھی موجود تھے۔ نجی ٹی وی کے مطابق پولیس نے الطاف حسین سے جارحانہ رویہ اختیار نہیں کیا، ضمانت کیلئے کوئی نئی شرائط عائد نہیں کی گئیں۔ بعدازاں الطاف حسین تھانے کے پچھلے دروازے سے واپس اپنے گھرایم کیو ایم سیکرٹریٹ لندن روانہ ہو گئے۔ نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق ضمانت میں توسیع میڈیکل چیک اپ پر دی گئی۔ قبل ازیں 6ماہ کی ضمانت کی مدت پوری ہونے پر پولیس سٹیشن جاتے ہوئے الطاف حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام پاکستانیوںکو سلام پیش کرتا ہوں۔ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔ اس موقع پر  الطاف حسین پُراعتماد نظر آ رہے تھے۔  دریں اثناء ترجمان ایم کیو ایم نے کہا ہے کہ الطاف حسین کا کوئی فیس بک یا ٹویٹر اکائونٹ نہیں۔ الطاف حسین کے نام سے سوشل میڈیا پر بنے ہوئے اکائونٹ جعلی ہیں۔ ایم کیو ایم منی لانڈرنگ میں کسی بھی طور پر ملوث ہونے کی تردید کرتی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق لندن میٹروپولیٹن پولیس نے الطاف حسین سے پوچھا کہ غیرقانونی رقم کہاں سے اور کیسے آئی؟ بنک اکاؤنٹس اور پاکستان سے بیرون ملک ادائیگیوں کے متعلق سوالات پوچھے گئے جبکہ 20 سال کی بنک سٹیٹمنٹ بھی طلب کی گئی ہے۔ نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ پہلی مرتبہ الطاف حسین سے عمران فاروق قتل کیس سے متعلق بھی سوالات پوچھے گئے۔ سرفراز مرچنٹ، طارق میر، محمد انور اور دیگر افراد سے تعلقات سے متعلق بھی تفتیش کی گئی۔ لندن پولیس نے الطاف حسین سے درجنوں سوالات کئے جبکہ ایم کیو ایم کے مالی معاملات سے متعلق بھی سوالات کئے گئے۔ پاکستان سے لندن، دبئی اور کینیڈا کیلئے ادائیگیوں کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔ آئی این پی کے مطابق تفتیش کے دوران ساڑھے پانچ گھنٹوں میں تین وقفوں کے دوران الطاف حسین سے تقریبا 800 کے قریب سوالات پوچھے گئے جن میں سے زیادہ تر پر انہوں نے’’نوکمنٹس‘‘ کا جواب دیا، الطاف حسین کو پولیس سٹیشن میں ناشتہ بھی دیا گیا، الطاف حسین کے وکیل کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کا پاسپورٹ سکاٹ لینڈ یارڈ کے پاس ہی رہے گا۔ الطاف حسین جب پولیس سٹیشن سے باہر نکلے تو انہیں جلوس کی شکل میں گھر تک لایا گیا اور ان پر گل پاشی بھی کی گئی۔ لندن پولیس کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامئے میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین سمیت ضمانت پر رہا تمام افراد پولیس کے سامنے مقررہ تاریخ پر پیش ہونے کے پابند ہیں۔ لندن پولیس کے مطابق الطاف حسین سے کاؤنٹر ٹیررزم کمانڈ کے افسروں نے پوچھ گچھ کی۔ الطاف حسین کی ضمانت میں جولائی تک توسیع کر دی گئی۔ منی لانڈرنگ کیس میں دیگر 5 افراد بدستور ضمانت پر رہا ہیں۔ بی بی سی کے مطابق الطاف حسین کی گاڑی پولیس سٹیشن سے چند قدم پر ہی روک دی گئی تھی اور انہیں بیرسٹر سیف گاڑی سے باہر لائے۔ کالے سوٹ میں ملبوس الطاف حسین کے چہرے پر پریشانی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے۔ الطاف حسین نے گاڑی سے نکلتے ہی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا اور کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے عوام سے دعا کرنے کی اپیل کی۔ پولیس سٹیشن کے باہر مقامی اور غیر ملکی میڈیا کے نمائندے موجود تھے۔ سڑک پر گزرتے بہت سے برطانوی نژاد پاکستانیوں نے بی بی سی کے عملے سے پوچھا کہ یہاں کیا ہورہا ہے۔ جب انہیں تفصیلات بتائی گئیں تو ان میں سے ایک نے کہا ’’اب باہر آنا مشکل ہے۔ اس بار لمبے گئے‘‘۔ جبکہ ایک اور راہگیر نے کہا کہ ’’جاپانی جوتے، جرمن گاڑیاں اور برطانوی پولیس۔ تینوں دھوکہ نہیں دیتیں‘‘۔ دریں اثناء بیرسٹر سیف اور بابر غوری نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں برطانیہ قانون پر پورا یقین ہے اور اعتماد ہے ایم کیو ایم پاک اور صاف ہے منی لانڈرنگ میں ایم کیو ایم کا کوئی تعلق نہیں ہم عوام کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج ہم سرخرو ہوئے ہم پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں ایم کیو ایم تمام تر مقدمات کا مقابلہ کرے گی۔ سینیٹر بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ وقت ثابت کرے گا الطاف حسین کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں سکاٹ لینڈ پولیس کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی قانون میں اجازت ہے تفتیش کے جواب میں نو کمنٹس کہا جائے، تفتیش کا دائرہ کار بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے خلاف ثبوت نہیں مل رہا ہم نے کوئی غلط کام نہیں کیا اس لئے انہیں کوئی ثبوت بھی نہیں ملے گا۔ الطاف حسین کو جولائی میں پھر طلب کیا گیا ہے پولیس یا کسی ادارے کے پاس کوئی ثبوت نہیں، شک کی بنیاد پر تفتیش کی جارہی ہے اگر کیس عدالت میں جاتا ہے تو مقدمہ لڑیں گے چودھری  نثار، الطاف حسین کے کیس کی بجائے بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو پکڑیں برطانیہ میں پولیس اور عدلیہ آزاد ہے ہمیں ان پر اعتماد ہے۔