پانامہ کیس میں نیب بطور ادارہ مکمل ناکام ہوا ، یقینی بنائیں گے، مقدمہ میں تعصب نہ برتا جائے: سپریم کورٹ

خبریں ماخذ  |  ویب ڈیسک
پانامہ کیس میں نیب بطور ادارہ مکمل  ناکام ہوا ، یقینی بنائیں گے، مقدمہ میں تعصب نہ برتا جائے: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے پانامہ کیس فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت نے فیصلہ تسلیم شدہ حقائق پر کیا اور دستاویزات کہتی ہیں کہ نواز شریف نے کمپنی کے ملازم کی حیثیت سے تنخواہ وصول کی ہے جسے ظاہر نہیں کیا گیا، قانون شہادت میں تحریر کو زبانی بات پر فوقیت حاصل ہے، تحریری معاہدے میں کہیں نہیں لکھا تھا کہ نواز شریف تنخواہ نہیں لیں گے، سپریم کورٹ یہ بات یقینی بنائے گی کہ مقدمہ میں کوئی تعصب نہ برتا جائے،عدالت پر بھروسہ کریں ، سڑکوں پر نہ کریں، اثاثے چھپانے والا نمائندگی کا حقدار نہیں رہتا،پانامہ کیس میں نیب بطور ادارہ مکمل طور پر ناکام ہوا،درخواست گزارشایدچاہتے ہیں ہم کوئی فیصلہ بھی دیں ، ہم نے فیصلہ دیا تو بہت خطرناک کام ہوگا۔ہم کسی چیز کو ناقابل تردید سچ نہیں کہہ رہے آپ جے آئی ٹی رپورٹ میں کمی یا کوتاہیاں ٹرائل کورٹ میں اٹھائیں، احتساب عدالت میں گواہیاں اور جرح ہو گی، جج صرف مانیٹرنگ کے لئے ہوتا ہے باریک بینی کے لئے نہیں، نگراں جج ٹرائل پر اثرانداز نہیں ہوگا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس اعجازافضل خان، جسٹس عظمت شیخ سعید، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل 5رکنی لارجر بینچ نے پانامہ کیس میں شریف خاندان کی نظرثانی اپیلوں کی سماعت کی ۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا عدالت میں پیش ہوئے ۔ عدالت نے نواز شریف کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے اور اسحاق ڈار کے وکیل کے دلائل کے بعد سماعت کل جمعہ تک کے لئے ملتوی کردی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا آج اپنے دلائل دیں گے۔ سماعت کے دوسرے روز آغاز پر خواجہ حارث نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ نااہلی اور الیکشن کو کالعدم قرار دینا دو الگ الگ معاملات ہیں، اگر اثاثے ظاہر نہ کرنے پر الیکشن کالعدم ہوتا ہے تو نااہلی ایک مدت کےلئے ہوتی ہے جبکہ نااہلی کے لیے باقاعدہ ٹرائل ضروری ہوتا ہے، ٹرائل میں صفائی کا موقع ملتاہے اورشواہد پیش ہوتے ہیں۔ آرٹیکل 62کادائرہ کار بڑا وسیع ہے، 62ون ایف صرف اثاثے چھپانے کے لئے استعمال نہیں ہوتا اس کے علاوہ آرٹیکل 76اے اور 78کی نسبت 62ون ایف کے اثرات زیادہ سنگین ہیں۔ نوازشریف کو اقامہ اور تنخواہ ظاہر نہ کرنے پر نااہل کیا گیا، بلیک لا ڈکشنری کی تاریخ کی زیادہ گہرائی میں نہیں جاﺅں گا، اثاثے کے لفظ کے ایک سے زیادہ معنی اور تشریح ہیں۔ نواز شریف نے کبھی تنخواہ کا دعویٰ نہیں کیا اور نہ کبھی تنخواہ کو اثاثہ سمجھاانہوں نے تنخواہ کو اثاثہ نہ سمجھنے کے باعث ظاہر کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا اور سمجھنے میں غلطی پر کہا گیا کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے جبکہ غلطی کرنے پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دئیے کہ قانون شہادت میں تحریر کو زبانی بات پر فوقیت حاصل ہے، تحریری معاہدے میں کہیں نہیں لکھا تھا کہ نواز شریف تنخواہ نہیں لیں گے جبکہ معاہدے میں یہ ضرور تھا کہ نواز شریف کو 10ہزار درہم تنخواہ ملتی ہے اب ہم یہ کیسے مان لیں وہ تنخواہ کو اثاثہ نہیں سمجھتے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں تنخواہ ظاہر نہ کرنے پر روپا کے تحت کارروائی ہونی چاہیے نااہلی نہیں؟۔ نواز شریف نے تنخواہ والا اکاﺅنٹ ظاہر نہیں کیا جبکہ دستاویزات کے مطابق طریقہ کار کے تحت نوازشریف نے اکاﺅنٹ کھولا ۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جے آئی ٹی نے یہ نہیں کہا تھا کہ اکاﺅنٹ چھپایا گیا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دستاویزات کہتی ہیں کہ تنخواہ وصول کی گئی ہے، نواز شریف کے ہی نام پر ایک ذیلی اکاونٹ کھولا گیا تھا، جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم 9میں ریکارڈ موجودہے، دستاویزات کے مطابق طریقہ کار کے تحت اکاﺅنٹ کھولاگیا، اس کے ساتھ ساتھ نواز شریف کے کیپٹل ایف زیڈ ای اکاﺅنٹ میں اگست 2013کو تنخواہ بھی آئی، عدالت نے فیصلہ تسلیم شدہ حقائق پر کیا تھا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہم کسی چیز کو ناقابل تردید سچ نہیں کہہ رہے آپ جے آئی ٹی رپورٹ میں کمی یا کوتاہیاں ٹرائل کورٹ میں اٹھائیں، احتساب عدالت میں گواہیاں اور جرح ہو گی، کیا آپ استدعا کررہے ہیں کہ جے آئی ٹی کو دوبارہ زندہ کرکے رپورٹ مکمل کرنے کا کہیں؟ آپ چاہتے ہیں کہ ریفرنس کا معاملہ بھی ہم چیئرمین نیب پر چھوڑ دیتے؟ آپ چیئرمین نیب کا بیک گراﺅنڈ اور کنڈکٹ بھی ذہن میں رکھیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر نیب کام کرتا تو کیس سپریم کورٹ میں نہ آتا، ہر جج نے اپنے فیصلے میں اس کا ذکر بھی کیا ہے اور عدالت نے فیصلے میں لکھا، سب جانتے ہیں کہ کیا کیا ہوا دہرانا نہیں چاہتا جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت نے کبھی کسی کوملزم نامزدکرکے مقدمہ اندراج کانہیں کہاعدالت صرف حکم دیتی ہے کہ تحقیقات کی جائے اور قصوروار کے خلاف مقدمہ کیاجائے جس پرجسٹس عظمت سعید نے کہا کہ 9سی کاکیس ہمیشہ ہی نامزدملزمان کے خلاف ہوتا ہے۔خواجہ حارث نے کہا کہ ایک دن میں جے آئی ٹی رپورٹ پر ریفرنس فارغ ہوجائے گاجس پرعدالت نے واضح کیا کہ پھر مسئلہ کیا ہے جائیں اور فارغ کروائیں لیکن مریم نواز کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو پیغام دیدیں کہ کیس موخر نہیں کیاجائے گا۔خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت کو کہنا چاہیے تھا کہ کیس بنتا ہے تو ریفرنس دائر کریں۔ جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ چیئرمین نیب کی جانبداری پر کئی فیصلے دے چکے ہیں۔ خواجہ حارث نے کہا کہ چاہتے ہیں نوازشریف سے بھی عام شہری جیسا برتاﺅ ہو۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ماضی میں نوازشریف کے مقدمات آتے رہے ہیں اورنوازشریف کوریلیف بھی اسی عدالت میں ملتا رہا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ نہ کہیں کہ سپریم کورٹ مدعی بن گئی ہے جب بھی نوازشریف کے حقوق متاثرہوئے عدالت نے ریسکیو کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرائل میں زیادتی ہوئی توسپریم کورٹ ریسکیوکرے گی ہم ہرشہری کے حقوق کاتحفظ کریں گے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ ہم پریقین کریں سڑکوں پرنہیں۔نواز شریف کے وکیل نے سماعت کے دوران نیب ریفرنس کے لئے نگراں جج کی تعیناتی پر سوالات اٹھائے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ مخصوص ٹرائل کی نگرانی کے لیے کبھی جج تعینات نہیں کیا گیا۔ عدالت نے پہلے بھی جے آئی ٹی کی نگرانی کی اور اب ٹرائل کورٹ کی بھی نگرانی کی جارہی ہے۔عدالت نے اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نگراں جج کی تعیناتی کوئی نئی بات نہیں احتساب عدالتوں کے لیے بھی نگراں جج ہوتے ہیں۔ عدالت نے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ شیخ لیاقت حسین کیس میں نگراں جج تعینات کیا گیاجب کہ پنجاب کی انسداددہشت گردی عدالت میں نگراں جج لگایا گیا۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ الگ سے نگراں جج نہیں لگانا چاہیے تھا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جج صرف مانیٹرنگ کے لئے ہوتا ہے باریک بینی کے لئے نہیں جبکہ پانامہ کیس میں بھی بعض ہدایات دی گئی تھیں۔خواجہ حارث نے کہا کہ مخصوص کیس کی نگرانی سے کیس پر اثر پڑتا ہے جس پر جسٹس کھوسہ نے انہیں یقین دلایا کہ نگراں جج ٹرائل پر اثرانداز نہیں ہوگا۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ عدالت نیب کو قانون کے مطابق تحقیقات کاحکم دے سکتی ہے، آپ نے تو بچوں پر بھی ریفرنس دائرکرنے کاحکم دیاجس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بچہ کوئی نہیں ہے وہ سب بچوں والے ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اپنے دلائل مکمل کرلیے جس کے بعد وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے اپنے دلائل شروع کیے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل شاہد حامد نے اپنے دلائل کے آغاز پر کہا کہ عدالتی فیصلے میں ان کے موکل کے خلاف کوئی حکم نہیں ہے، جے آئی ٹی نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا جبکہ اسے اسحاق ڈار سے متعلق ہدایات نہیں دی گئی تھیں۔جس پر جسٹس گلزار نے کہا کہ اثاثے 9 ملین سے بڑھ کر 980 ملین ہوجائیں تو وضاحت ٹرائل کورٹ کو دے دیں جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا آپ کہتے ہیں کہ 90 گنا اثاثے بڑھ جائیں اور ہم آنکھیں بند رکھیں۔اس موقع پر اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ اثاثے مختصر وقت میں نہیں بلکہ 15 سال میں بڑھے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سوال کیا کہ آپ کے موکل نے 164کے اعترافی بیان کو چیلنج کیا جس پر شاہد حامد ایڈووکیٹ نے کہا کہ اعترافی بیان جعلی ہے اور اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔اس موقع پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ آپ شاید چاہتے ہیں ہم کوئی فیصلہ بھی دیں اور اگر ہم نے فیصلہ دیا تو بہت خطرناک کام ہوگا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آبزرویشن دی کہ آئین پر چلنا کسی کو برا لگتا ہے تو لگے، ہم تو آئین اور قانون کے مطابق ہی چلیں گے، آج آپ کے خلاف فیصلہ آیا ہے تو خدشات کا شکار نہ ہوں، عدالتوں پر اعتماد کریں، عدالتوں نے پہلے بھی آپ کے حقوق کا تحفظ کیا، اب بھی کریں گے، ہم نے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا حلف لیا ہے۔سپریم کورٹ نے نواز شریف کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے اور اسحاق ڈار کے وکیل کے دلائل کے بعد سماعت کل جمعہ تک کے لئے ملتوی کردی۔ادھر احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے دائر مزید 2 ریفرنسز میں شریف خاندان کو19 ستمبر کو طلب کرلیا۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے جمع کرائے گئے العزیزیہ سٹی اور ایون فیلڈ پراپرٹی سے متعلق ریفرنسز پرابتدائی سماعت کی، احتساب عدالت نے نیب کی جانب سے دائر مزید 2 ریفرنسز میں شریف خاندان کے دیگر افراد کو بھی طلب کرلیا ہے۔نوازشریف اور ان کے بیٹوں کو العزیزیہ سٹیل مل ریفرنس جبکہ مریم اور کیپٹن(ر)صفدر کو لندن فلیٹ ریفرنس میں طلب کیا گیا ہے اور اس کیس کی سماعت بھی19ستمبر کو ہوگی ۔ احتساب عدالت نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نیب ریفرنس پر 20ستمبر کو طلب کرلیا۔نیب نے اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات کا ریفرنس اسلام آباد کی احتساب عدالت کے رجسٹرار آفس میں جمع کرایا تھا جس پر رجسٹرار نے اعتراض لگا کر اسے واپس کردیا تھا اور ضروری دستاویزات بھی لگانے کا حکم دیا تھا۔نیب نے ریفرنس مکمل اور اضافی دستاویزات کے ساتھ رجسٹرار آفس میں جمع کرایا جس کی اسکروٹنی کے بعد رجسٹرار آفس نے ریفرنس عدالت میں جمع کرایا۔اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو 20ستمبر کو طلب کرلیا جس کے لیے انہیں نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے۔