این اے120 ‘ ہائیکورٹ نے کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف ددخواستیں مسترد کر دیں

این اے120 ‘ ہائیکورٹ نے کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف ددخواستیں مسترد کر دیں

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی امیدوار بیگم کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف دائر درخواستیں اکثریتی رائے سے مسترد کردیں۔ جسٹس امین الدین خان، جسٹس عبادالرحمن لودھی اور جسٹس شاہد جمیل پر مشتمل تین رکنی فل بنچ نے سماعت کی۔ ریٹرننگ افسر محمد شاہد نے پیش ہو کر بتایا کہ انہوں نے سمری ٹرائل کرتے ہوئے درخواست پر فیصلہ سنایا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل کے عدالت پیش ہونے پر درخواست گزاروں کا اعتراض عدالت نے مسترد کر دیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس عدالت کو درخواستوں کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں۔ حلقے کے ووٹرز ہی اپنے ووٹوں کے ذریعے امیدواروں کی اہلیت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ بیگم کلثوم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ درخواست گزاروں نے جو اعتراضات عائد کئے اسکے کوئی ثبوت فراہم نہیں کئے۔ قانون کے تحت ریٹرننگ افسرصرف کاغذات نامزدگی مسترد کرنے پر جواز فراہم کرنے کا پابند ہے۔ بیگم کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے اسی لئے درخواستوں کو مسترد کرنے کا جواز فراہم نہیں کیا گیا۔ جس پر بنچ کے ایک رکن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس سوال کا جواب ریٹرننگ افسر کی بجائے آپ کی جانب سے آنے پر بہت سارے سوالات جنم لے سکتے ہیں۔ اگر کاغذات نامزدگی کے منظوری یا مسترد کرنے پر جواز فراہم کرنا لازم نہیں تو کاغذات کی جانچ پڑتال کرنے کا عمل بند کر دیا جائے اور الیکشن ٹربیونل کو ختم کر دیا جائے۔ درخواست گزاروں کے وکلاء نے دلائل دئیے کہ بیگم کلثوم نواز نے کاغذات نامزدگی میں اپنی آمدن اور اثاثوں سے متعلق حقائق چھپائے۔ بیگم کلثوم نواز نے خود کو نوازشریف کی زیرکفالت ظاہر کیا مگر وہ کئی کمپنیوں میں شیئر ہولڈر ہیں۔ بیگم کلثوم نواز نے زرعی انکم ٹیکس کی ادائیگی نہیں کی۔ اقامہ ظاہر کیا مگر تنخواہ کی رسید اور اس سے ہونے والی بچت کو ظاہر نہیں کیا۔ بیگم کلثوم نواز نے مری کی رہائش گاہ میں موجود فرنیچر اور دیگر گھریلو اشیاء کا کوئی ذکر نہیں کیا۔بیگم کلثوم نواز نے کاغذات نامزدگی میں حقائق چھپائے۔ عوامی تحریک کے وکیل نے بتایا کہ بیگم کلثوم نواز کے خلاف سندھ میں بغاوت کا مقدمہ درج ہے جس میں بیگم کلثوم نواز مفرور ہیں۔ عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے درخواستوں کو مسترد کردیا۔ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر ڈاکٹر آصف کرمانی نے کہا ہے کہ عدالت عالیہ کے فل بنچ کا فیصلہ آگیا۔ بیگم کلثوم نواز کے اثاثوں میں کوئی بے ضابطگی نہیں پائی گئی۔ شریف فیملی کا کل بھی ہاتھ صاف تھا اور آج بھی ہاتھ صاف ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں آصف کرمانی نے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے تمام اعتراضات سن کر فیصلہ کیاجسے ایپلیٹ ٹربیونل اور لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے برقرار رکھا۔ مسلم لیگ (ن) کا کوئی رکن اسمبلی انتخابی مہم نہیں چلا رہا ہے۔ این اے 120 میں انتخابی مہم مریم نواز چلا رہی ہیں جو کہ کامیابی سے جاری ہے۔ انتخابی مہم اور الیکشن میں کوئی بے ضابطگیاں نہیں ہیں۔ ریکارڈ جلانے کے حوالے سے بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ بیگم کلثوم نواز کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی منظور کرنے کے فیصلے کیخلاف تین فورمز پر درخواستیں مسترد ہوچکی ہیں۔