ڈرون حملہ پاکستان کی سالمیت کا معاملہ ، وفاق اور وزارت داخلہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں : اسلام آباد ہائیکورٹ

ڈرون حملہ پاکستان کی سالمیت کا معاملہ ، وفاق اور وزارت داخلہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں : اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد (صباح نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے میر علی ڈرون حملہ کیس میں ایڈووکیٹ جنرل کی عدم پیشی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل پیش نہ ہوئے تو درخواست گزار کا موقف سن کر فیصلہ کریں گے۔ پیر کو عدالت نے طلبی کا دوبارہ نوٹس جاری کیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس میں کہا کہ ڈرون حملہ پاکستان کی سالمیت کا معاملہ ہے، وفاق اوروزارت داخلہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں، ایڈووکیٹ جنرل کہیں اور حاضری لگانے سے بہتر ہے اپنی کارکردگی کو بہتر بنائیں۔ آئندہ سماعت پر ایڈووکیٹ جنرل پیش نہ ہوئے تو درخواست گزار کا موقف سن کر فیصلہ دے دونگا۔ عدالت نے کیس کی سماعت 24 نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔ واضح رہے کہ 31 دسمبر 2009ء کو میر علی میں ڈرون حملے میں کریم خان کے بھائی آصف اقبال اور بیٹا زعیم اللہ مارے گئے تھے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر قتل کا مقدمہ سابق سی آئی اے سٹیشن چیف جوناتھن اور لیگل کونسل جون اپروز کے خلاف درج ہوا تھا۔