مذاکراتی کمیٹی کے تین ارکان کی طالبان قیادت سے ملاقات‘ قوم کو مایوس نہیں کرینگے : شاہد اللہ شاہد

مذاکراتی کمیٹی کے تین ارکان کی طالبان قیادت سے ملاقات‘ قوم کو مایوس نہیں کرینگے : شاہد اللہ شاہد

پشاور (نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) حکومت اور طالبان کے مذاکرات فیصلہ سازی کے مرحلے میں داخل ہوگئے‘ تحریکِ طالبان پاکستان کی نامزد کردہ مذاکراتی کمیٹی کے اراکین  نے طالبان شوریٰ سے ملاقات کیلئے جمعرات کو خصوصی ہیلی کاپٹر کے ذریعے وزیرستان کا دورہ کیا۔ وزیرستان جانے والوں میں پروفیسر ابراہیم خان‘ مولانا یوسف شاہ اور جے یو آئی (س) کے شمالی وزیرستان کے امیر مولانا عبدالحئی حقانی شامل ہیں جو معاون کے طور پر کمیٹی کے ہمراہ  گئے۔ کمیٹی کے اراکین اور طالبان کی شوریٰ کے درمیان ملاقات میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ طالبان کمیٹی نے طالبان شوریٰ کو اپنی ایک روز قبل وزیر داخلہ سے ہونے والی ملاقات‘ نئی حکومتی کمیٹی کے قیام سمیت دیگر  معاملات سے آگاہ کیا۔  ذرائع کے مطابق  طالبان کی طرف سے  اپنی کمیٹی کے ارکان کو  بعض مطالبات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ طالبان کمیٹی آئندہ 2 روز میں  نئی حکومتی کمیٹی کو اپنی پہلی ملاقات میں طالبان شوریٰ کی طرف سے کئے جانے والے مطالبات سے باضابطہ طور پر آگاہ کرے گی۔ وزیرستان روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا یوسف شاہ نے کہا کہ پہلا مرحلہ کامیابی سے طے ہوا اور اب فیصلہ سازی کے مرحلے پر بھی وہ کامیابی کے لئے پرامید ہیں۔ اس موقع پر پروفیسر ابراہیم کاکہنا تھا کہ وہ عوام سے مذاکرات کی کامیابی کے لئے دعا کی اپیل کرتے ہیں۔ قوم کو خوشخبری دینگے، ملک کو امن کا تحفہ دینا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے حکومت نے طالبان سے براہ راست مذاکرات کے لئے نئی کمیٹی تشکیل دی، اس کمیٹی کے سربراہ سیکرٹری پورٹس اینڈ شپنگ حبیب اللہ خٹک ہوں گے جبکہ دیگر اراکین میں وزیر اعظم کے ایڈیشنل سیکرٹری فواد حسن فواد، سیکریٹری فاٹا ارباب عارف اور تحریک انصاف کے نمائندے کے طورپر رستم شاہ مہمند شامل ہیں۔ بی بی سی کے مطابق طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے ذاتی معاون احمد شاہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تین اراکین پر مشتمل مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کل طالبان قیادت کا پیغام لے کر واپس لوٹیں گے۔ وہ نامعلوم مقام پر پہنچ کر طالبان قیادت سے ملاقات کریں گے۔ طالبان کی سیاسی شوریٰ کی سربراہی قاری شکیل کر رہے ہیں جبکہ مولوی ذاکر، مولانا اعظم طارق اور مولوی شبیر بھی موجود ہیں۔ طالبان کمیٹی اور طالبان رہنماؤں اور حکومتی کمیٹی کے درمیان براہ راست مذاکرات کے لئے جگہ اور وقت کے تعین کے بارے میں بات کرے گی۔ ادھرگزشتہ روز کالعدم تحریک طالبان نے ایک ناراضی بھرا تحریری بیان میڈیا کو ارسال کیا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ بیان میں تحریک طالبان نے پشاور، مہمند (غلنئی) اور کراچی سینٹرل جیل میں قید اسیروں کو چکیوں میں بند کر کے اذیت دینے کا الزام بھی لگایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سینٹرل جیل سے بلاوجہ قیدیوں کو سندھ، پنجاب اور بلوچستان کی دیگر جیلوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ دریں اثناء ترجمان کالعدم تحریک طالبان شاہداللہ شاہد نے کہا ہے کہ اہم امور پر پیشرفت کی توقع ہے، قوم کو مایوس نہیں کرینگے۔ سیزفائر میں توسیع شوریٰ اجلاس کے بعد کی جائے گی۔ طالبان کے تمام گروپ امیر کی اطاعت کے پابند ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذاکراتی طالبان کمیٹی اور طالبان سیاسی شوریٰ کا اجلاس ہوا جس میں بات چیت کے مطابق حکومتی اور طالبان کمیٹی مذاکرات ایف آر بنوں آزاد منڈی میں کرانے پر متفق ہیں۔ دریں اثناء عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ طالبان کمیٹی کے ارکان شمالی وزیرستان جا چکے ہیں۔ ایک دو دن میں شمالی وزیرستان سے واپس آ کر رپورٹ دینگے۔ امید ہے یہ اقدامات کامیاب ہونگے اور ملک میں امن قائم ہو گا۔ طالبان نے ہماری سیزفائر کی بات مان لی۔ طالبان کو پہلی بار تحریری نکات بھیجے۔ پاکستان کامیابی سے ہمکنار ہو گا۔ مذاکرات کے خدوخال ایک دو روز میں واضح ہو جائیں گے۔ طالبان کی جانب سے بھی کچھ مطالبات سامنے آ سکتے ہیں۔ عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے اب تک پابندی اٹھانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا تاہم اگر ایسا مطالبہ سامنے آیا تو افہام و تفہیم سے فیصلہ کریں گے۔ دریں اثناء طالبان سے مذاکرات کیلئے حکومٹی کمیٹی کے رکن رستم شاہ مہمند نے کہا ہے کہ حکومتی کمیٹی فیصلہ کرنے کی مجاز نہیں، حتمی فیصلہ وزیراعظم نے کرنا ہے۔ حکومتی کمیٹی کسی اتفاق رائے کے بعد حکمت عملی حکومت کو بنا کر دے سکتی ہے۔ حکومت اور طالبان میں دوریاں بہت ہیں، قریب لانے میں وقت لگے گا۔ قیدی تحریک طالبان کے نہیں بلکہ مختلف دھڑوں کے پاس ہیں، تحریک طالبان کو سویلین قیدیوں کو رہا کرانے میں کردار ادا کرنا ہو گا، امن مذاکرات کو بارآور اور نتیجہ خیز بنانا ہو گا۔  خیبر، مہمند اور باجوڑ میں آپریشن ہوئے، کیا وہاں امن قائم ہوا؟ حکومت سنجیدگی اور اخلاص سے مذاکرات کرے تو آپریشن کی نوبت نہیں آئیگی۔ این این آئی کے مطابق طالبان اور حکومتی ٹیموں کے درمیان مذاکرات کے پیش نظر سکیورٹی فورسز نے اپنی پوزیشن تبدیل کرلی ہے۔ طالبان کیساتھ مذاکرات کے مقام کو محفوظ اور فریقین کیلئے قابل اطمینان بنانے کیلئے جنوبی وزیرستان کے دو مقامات سے فورسز نے اپنی پوزیشن تبدیل کی۔ مقامی ذرائع کے مطابق جنوبی وزیر ستان کے علاقے جنگاڑا اورشکتوئی سے فورسز نے پوزیشن تبدیل کی، جنوبی وزیرستان کے ان دو مقامات پر مذاکرات متوقع ہیں، طالبان کی جانب سے سکیورٹی فورسز کے ان اقدامات کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔
طالبان کمیٹی/ شاہد اللہ شاہد