غداری کیس : مشرف آج ہر صورت پیش ہوں : خصوصی عدالت‘ فون کال سے حملہ کا پتہ چلا‘ حساس ادارے کی بریفنگ سربراہ پیش نہ ہوئے

غداری کیس : مشرف آج ہر صورت پیش ہوں : خصوصی عدالت‘ فون کال سے حملہ کا پتہ چلا‘ حساس ادارے کی بریفنگ سربراہ پیش نہ ہوئے

اسلام آباد (ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) سابق صدر مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کے دوران خصوصی عدالت نے عدالت میں پیشی کا حکم برقرار رکھتے ہوئے (آج) جمعہ کو ہر صورت پیش ہونے کی ہدایت کی ہے تاکہ ان پر فردجرم عائد کی جا سکے۔ سابق صدر کے وکیل انور منصور ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ خرابی صحت کے باعث درخواستوں پر دلائل نہیں دے سکتا، ڈاکٹروں نے فوڈ پوائزننگ کے باعث کچھ دن آرام کا مشورہ دیا ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ہم کسی وکیل کو درخواست پر زبردستی دلائل دینے پر مجبور نہیں کر سکتے، ملزم کی درخواست پر کل دلائل سن لیں گے۔ انور منصور ایڈووکیٹ نے کہا کہ میں (آج) جمعہ کو بھی دلائل دینے کے قابل نہیں ہوں گا۔ جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ آپ کی مرضی کی تاریخ طے کر کے درخواستوں پر آئندہ سماعت کی جائیگی، آپ درخواستوں پر دلائل کیلئے بے شک 2 ماہ لے لیں۔  پراسیکیوٹر طارق حسن نے کہا کہ سماعت ملتوی کرنے پر اعتراض نہیں تاہم (آج) جمعہ کو سماعت ہونی چاہیے۔ چودہ مارچ کو ملزم پرویز مشرف پر فرد جرم عائد کرنے کیلئے سماعت مقرر ہے، جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ عدالت کو معلوم ہے تاہم کسی وکیل کو زبردستی دلائل دینے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ ہم وکیل صفائی کی مرضی سے ان کی درخواست پر سماعت ملتوی کرتے ہیں، آپ کو آزادی ہے جب چاہیں اپنی درخواست پر دلائل دیں۔ دلائل کیلئے وکلاء صفائی کے تیار ہونے پر سماعت کا آغاز کریں گے۔ انور منصور نے عدالت سے درخواست کی کہ آج پرویز مشرف کی پیشی کو بھی اگلے ہفتے تک مؤخر کیا جائے جس پر عدالت نے کہا کہ مشرف کی پیشی کو ملتوی نہیں کیا جا سکتا اور انہیں عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔ مشرف کے وکیل رانا اعجاز کو دوسرے روز بھی عدالت میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ میڈیا سے گفتگو میں رانا اعجاز نے کہا میں نے اخلاق سے گری ہوئی کوئی بات نہیں کی۔ بعدازاں خصوصی عدالت کے طلب کرنے کے باوجود خفیہ ایجنسی کے سربراہ بریفنگ کیلئے پیش نہ ہوئے بلکہ کرنل رینک کے افسر نے ججوں کو مشرف کی سکیورٹی سے متعلق ان کیمرہ بریفنگ دی۔ خفیہ ایجنسی کے حکام نے بتایا کہ شدت پسند سابق صدر کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ معمول کی ایک ٹیلی فون کال پکڑی تھی جس سے پتہ چلا کہ ان پر حملہ ہو سکتا ہے۔ اب تک سابق صدر کی سکیورٹی سے متعلق 28الرٹ بھجوائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے وزارت داخلہ کو باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا جاتا ہے۔ پرویز مشرف کی وطن واپسی کے بعد ان پر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ 2003ء میں بھی مشرف پر حملے میں اندر کے لوگ ملوث تھے، اس بار بھی اس قسم کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مشرف کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ حکومت کی گارنٹی پر اعتبار نہیں۔ عدالت گارنٹی دے تو سابق صدر کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ آج ان کی پیشی کا فیصلہ مشاورت سے ہو گا۔ این این آئی کے مطابق حساس ادارے نے مشرف پر حملوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسند کسی بھی وقت مشرف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ عدالت نے مشرف کی پیشی کے موقع پر وزارت داخلہ کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ادھر اسلام آباد پولیس، انتظامیہ، رینجرز اور سکیورٹی اداروں نے مشرف کی خصوصی عدالت میں پیشی  کیلئے  مشترکہ سکیورٹی پلان مرتب کر لیا، پرویز مشرف کو تھری لیئر سکیورٹی فراہم کی جا ئے گی، سکیورٹی پر پولیس، رینجرز، کمانڈوز اور سپیشل برانچ کے اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ خصوصی عدالت میں پیش کرنے کے لئے 3روٹس لگائے جائیں گے، فوج ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے الرٹ رہے گی، خواتین سمیت کسی بھی شخص کو جامہ تلاشی کے بغیر احاطہ عدالت میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا، ایس پی سکیورٹی چودھری اشفاق کی سربراہی میں سکیورٹی سکواڈ اے ایف آئی سی ہسپتال سے خصوصی عدالت پہنچائے گا۔  سابق صدر کی سکیورٹی کے لئے پولیس کے 1600 اہلکار اور رینجرز کے 500اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ اے ایف آئی سی ہسپتال سے خصوصی عدالت تک 1000سے 1500تک سکیورٹی اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔ مشرف کے قریب سکیورٹی کلیئرنس والے اہلکاروں کو مامور کیا جائے گا جبکہ جامہ تلاشی کے بغیر کسی کو بھی احاطہ عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔ پرویز مشرف کے لئے لگائے جانے والے تینوں روٹس کو وی وی آئی پی کا درجہ بھی دے دیا گیا۔ انہیں بم ڈسپوزل سکواڈ سے کلیئر کرایا جائیگا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ خواتین صحافیوں کو بھی جامہ تلاشی سے استثنیٰ حاصل نہیں ہو گا۔ سابق صدر کی خصوصی عدالت میں پیشی کے موقع پر عدالتی احاطے میں کسی کو بھی موبائل فون، لیپ ٹاپ، آئی پیڈ سمیت کسی قسم کی الیکٹرونک اشیاء لے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔