تھر میں مزید پانچ بچے جاں بحق‘ پی پی انتشار کا شکار‘ پگاڑا مخدوم امین فہیم کے گھر پہنچ گئے‘ قائم علیشاہ یاد رکھیں میں انکی پارٹی کا صدر ہوں : امین فہیم

تھر میں مزید پانچ بچے جاں بحق‘ پی پی انتشار کا شکار‘ پگاڑا مخدوم امین فہیم کے گھر پہنچ گئے‘ قائم علیشاہ یاد رکھیں میں انکی پارٹی کا صدر ہوں : امین فہیم

کراچی (نوائے وقت رپورٹ) تھر کی صورتحال پر پی پی سندھ انتشار کا شکار ہو گئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق تھر کی صورتحال پر وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اور مخدوم خاندان آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ پی پی میں اندرونی اختلافات پر سندھ کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے تھر کی صورتحال کا ذمہ دار مخدوم امین فہیم کے بیٹوں کو قرار دے دیا ہے جب کہ مخدوم خاندان کے خلاف بیان بازی پر امین فہیم کی سروری جماعت بھی میدان میں آئی ہے۔ سروری جماعت نے اعلامیہ میں کہا ہے کہ تھر کی صورتحال کے ذمہ دار مخدوم نہیں قائم علی شاہ ہیں۔ ہالہ میں سروری جماعت کے کارکنوں نے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ بلاول بھٹو نے قائم علی شاہ کو ہدایت کی ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ وزیراعلیٰ نے اب تک مخدوم جمیل اور مخدوم عقیل کی معطلی کا حکم جاری نہیں کیا۔ مخدوم خاندان کی ناراضی پر پی پی میں کئی گروپس متحرک ہو گئے۔ امین فہیم کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا صوبائی وزیر ریونیو و ریلیف ہے لیکن وہ بے اختیار ہے۔ سندھ میں سیاسی ہلچل کے بعد پیر پگارا، مخدوم امین فہیم کے گھر پہنچ گئے۔ چیئرمین سروری جماعت مخدوم سعیدالزمان کا کہنا ہے سانحہ تھر کے ذمہ دار وزیراعلیٰ ہیں مخدوم جمیل اور مخدوم عقیل نہیں۔ مخدوم جمیل الزمان نے تھر کیلئے فنڈز کی فراہمی کیلئے دو ماہ پہلے خط لکھا وزیراعلیٰ نے خط کا جواب نہیں دیا۔ پیر آف پگاڑا پیر صبغت اللہ شاہ راشدی نے مخدوم امین فہیم سے ملاقات میں سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ مخدوم امین فہیم کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنمائوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سیاسی فیصلوں پر ایک دوسرے کو اعتماد میں لیا جائے گا اور مشاورت کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تمام تر ذمہ داری مخدوم امین فہیم کے بیٹے صوبائی رکن مخدوم جمیل زمان پر ڈال دی جس پر مخدوم فیملی کے مریدوں ،سروری جماعت نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا کہ ڈپٹی کمشنر اور مخدوم جمیل زمان نے تھر میں گندم کی ٹرانسپورٹیشن کے لئے وزیر اعلیٰ کو دو ماہ تک خطوط لکھے لیکن انہوں نے ان کا جواب تک نہیں دیا، جس پر سروری جماعت کے خلیفہ بچل مغل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے مخدوم فیملی کے خلاف بیان دے کر لاکھوں مریدوں کی دلآزاری کی ہے، انہیں برطرف کیا جائے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی میں پڑی ہوئی پھوٹ ختم کرنے کے لئے آصف زرداری اچانک دبئی سے کراچی اور مخدوم امین فہیم پیر پگاڑا کے گھر پہنچ گئے، دونوں باپ بیٹا پیپلز پارٹی سندھ کونسل کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ سروری جماعت کے مطابق مخدوم جمیل  نے تھر میں فنڈز کی فراہمی کے لئے وزیراعلی کو دو ماہ  پہلے خط لکھا تھا مگر وزیراعلی نے جواب نہیں دیا پھر تھر کے سابق ڈپٹی کمشنر مخدوم عقیل  نے تھر میں فنڈز کی فراہمی  کے لئے وزیراعلی کو دو ماہ پہلے خط لکھا تھا، مگر وزیراعلی نے جواب نہیں دیا۔ سروری جماعت  ہی کے ایما پر بالا میں مظاہرہ کیا گیا جس میں وزیراعلی سندھ کے خلاف نعرے لگائے۔  امین فہیم کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ میرا بیٹا وزیر تو ہے لیکن بے اختیار ہے۔ 1990 کی دہائی میں مخدوم خلیق اور مخدوم رفیق فنکشنل لیگ کی راہوں سے گزرتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے تھے۔  مخدوم امین فہیم نے پیپلز پارٹی سے اپنا تعلق  برقرار رکھا تھا۔ بڑے مخدوم  وزارت عظمی کا منصب نہ ملنے پر پہلے  بھی پیپلز پارٹی سے ناراض ہو چکے ہیں  دیکھئے اس مرتبہ کیا ہوتا ہے۔  دوسری جانب مخدوم امین فہیم نے کہا ہے وزیراعلی جس پارٹی کا ہے میں اس کا سربراہ ہوں یہ بولنا غلط ہے کہ تھر میں قحط  میرے بیٹوں کی وجہ سے آیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے انہوں نے کہا تھر کے واقعہ کی پہلے تحقیقات  ہونی چاہئے۔ سروری جماعت کو ہماری عزت عزیز ہے قائم علی شاہ یاد رکھیں  انہوں نے 5 سال میرے ماتحت کام کیا ہے قائم علی شاہ سید ہیں لیکن سید کے ماتحت کام کرنا جرم نہیں،  حالات کو دیکھتے  ہوئے ایک دوسرے پر الزام تراشی  ٹھیک نہیں  پی پی کے چند لوگوں نے قحط سالی کا ذمہ دار میرے بیٹوں کو ٹھہرایا ہے۔