یورپی پارلیمنٹ نے بھارت کیساتھ آزاد تجارت کا سمجھوتہ مسئلہ کشمیر سے مشروط کر دیا

برسلز (نمائندہ خصوصی) یورپی پارلیمنٹ نے بھارت کے ساتھ آزاد تجارت کے سمجھوتے پر دستخطوں کو مسئلہ کشمیر سے مشروط کر دیا ہے۔ بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدہ م¶خر کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے اور انہیں مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق یورپی پارلیمنٹ نے فروری 2011ءمیں یورپی پارلیمنٹ میں کشمیر سنٹر برسلز، کشمیری قیادت اور حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق اور بیرسٹر عبدالمجید ترمبو کی طرف سے دی گئی معلومات اور بات چیت کے نتیجے میں بھارت کے لئے اس تجارتی رعایت کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیاں روکنے سے مشروط کیا ہے۔ بھارت کو تنبیہہ کی گئی ہے کہ وہ یورپی منڈی میں اپنی مصنوعات کی ترسیل سے قبل خطے میں سکیورٹی‘ جمہوریت اور امن کو بحال کرے، کشمیری قیادت نے یورپی یونین کو پاکستان کو درپیش چیلنجز سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ پاکستان خطے میں علیحدہ حیثیت رکھتا ہے۔ وہ دہشت گردی کے خاتمے میں فرنٹ لائن پر کھڑا ہے، پاکستان خود دہشت گردی کا شکار ہو رہا ہے، دونوں رہنماﺅں نے اعلیٰ حکام کو مطلع کیا کہ مضبوط پاکستان کشمیر اور افغانستان کے مسائل کے حل کے لئے سودمند ثابت ہو گا جس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کے ساتھ بھی تجارت کا ٹھوس بنیادوں پر سلسلہ شروع کیا جائے، دونوں راہنماﺅں کی بات چیت کے دوران مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں اور بھارت کی طرف سے ظلم و تشدد‘ نوجوانوں کی نسل کشی جیسے دیگر اہم معاملات زیربحث آئے۔ بعدازاں یورپی یونین اور یو این او کے سپیشل رپورٹر نے کشمیر سنٹر کی تجاویز پر عملدرآمد کرتے ہوئے بھارت سے کہا کہ وہ یورپی ممالک میں تجارت سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی پامالیوں کو روکے، جمہوریت کو مستحکم کرے، بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے سنجیدگی دکھائے۔ جنیوا نے بھارت کو تنبیہہ کی کہ وہ دنیا کے خدشات اور تحفظات دور کرے کیونکہ بھارت کے رویہ سے دنیا میں تشویش پائی جاتی ہے۔ یورپی یونین اور جنیوا کے ردعمل سے کشمیری قیادت نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو سمجھنے لگی ہے۔ کشمیر سنٹر برطانیہ کے چیف ایگزیکٹو پروفیسر نذیر شال نے اسے اہم پیشرفت قرار دیتے ہوئے کشمیر سنٹر برسلز کی خدمات کو سراہا۔ دریں اثناءکشمیر میڈیا سروس کے مطابق سرینگر کے مقامی روزنامے کی اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ 11مئی کو یورپی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کی گئی قرارداد کے 33ویںپیرے میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ، جمہوریت اور سکیورٹی یورپی یونین اور بھارت کے درمیان تعلقات کے بنیادی اجزاءہیں۔ قرارداد میں دونوں فریقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کشمیر کے دیرینہ تنازعے سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلئے مذاکراتی عمل میں تیزی لائیں۔ اس سے قبل یورپی یونین نے کشمیر کو دنیا کا خوبصورت ترین جیل خانہ قرار دیا تھا۔ حریت چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر میں میڈیا انٹرویو میں یورپی یونین کی طرف سے بھارت کے ساتھ آزاد تجارت کے سمجھوتے کو مسئلہ کشمیر سے مشروط کرنے کا خیرمقدم کیا اور کہاکہ یہ مثبت پیشرفت ہے ہم چاہتے ہیں کہ یورپی یونین مسئلہ کشمیر کے حل میں مدد کرے ۔ میر واعظ نے کہاکہ انھوں نے گزشتہ ماہ اپنے دورہ برسلز کے دوران یورپی یونین کے ارکان پارلیمنٹ کو مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوﺅں کے بارے میں آگا ہ کیا تھا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یورپی یونین مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے مﺅثر کوششیں جاری رکھے گی۔ شبیر شاہ نے کہاکہ مسئلہ کشمیر عوامی خواہشات کے مطابق حل کئے بغیر پائیدار امن نہیں ہو گا۔
مسئلہ کشمیر/مشروط