کراچی میں ٹارگٹ کلنگ‘ متحدہ‘ اے این پی کے کارکنوں سمیت 16 ہلاک

کراچی (کرائم رپورٹر) مختلف مقامات پر فائرنگ کرکے 16افراد کو ہلاک اور 7کو زخمی کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق اورنگی ٹاﺅن میں عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان مسلح تصادم کے نتیجے میں متحدہ کے 2کارکن، اے این پی ایک جبکہ 3راہگیر ہلاک ہو گئے جس کے بعد اورنگی ٹاﺅن کے مختلف مقامات پر مسلح افراد نے فائرنگ کرکے کاروبار بند کرا دیا۔ فائرنگ کا سلسلہ کئی گھنٹے تک جاری رہا اور اس دوران رینجرز اور پولیس بے بس نظر آئی۔ شدید فائرنگ کی وجہ سے دکانیں اور بازار بند جبکہ ٹریفک کی آمدورفت معطل ہوگئی اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ اورنگی ٹاﺅن اور بنارس میں مزید دو افراد اشفاق اور اسماعیل بھی ہلاک ہوگئے۔ ادھر دوسری طرف لیاری میں گذشتہ کئی روز سے جاری فائرنگ کا سلسلہ پیر کو بھی جاری رہا، لوگوں نے خوف کے باعث دوسرے علاقوں میں منتقل ہونا شروع کردیا۔ نیا آباد کے علاقے سے ایک نوجوان کی لاش بھی ملی۔ عوامی کالونی کورنگی سے 40 سالہ ا قبال کی لاش ملی۔ کیماڑی کے گیٹ نمبر ایک کے پاس نامعلوم افراد نے برطرف کانسٹیبل ملک فیاض کو ہلاک کردیا۔ خواجہ اجمیر نگری میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے متحدہ کا کارکن حسیب، شاہ لطیف ٹاﺅن میں 28سالہ نیک محمد زخمی ہو گیا۔ دریں اثناء اورنگی ٹاﺅن میں فائرنگ سے زخمی نوجوان عدیل نے دم توڑ دیا جبکہ حسین آباد میں رحمانی چوک کے پاس موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے اسٹیٹ ایجنٹ رضوان رزاق ہلاک اور الیاس زخمی ہوگیا۔ نارتھ کراچی میں مسلح افراد نے ضیاء عالم ایڈووکیٹ کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا۔ مقتول کا تعلق پیپلزپارٹی سے تھا اور وہ ٹارگٹ کلنگ کے ملزم اجمل پہاڑی کے مقدمات کی پیروی کررہا تھا‘ چند روز قبل اس نے اجمل پہاڑی کو ایک مقدمے میں بری بھی کرایا تھا۔ ملیر بکرا پیڑی کے علاقے میں نامعلوم افراد نے 30سالہ نوجوان جبکہ بلدیہ ٹاﺅن عابد آباد میں مسلح افراد نے 25سالہ جمشید کو ہلاک کر دیا۔ لیاری میں بھی فائرنگ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔ دریں اثناءلیاری ندی سے 20مارٹر گولے برآمد کر لئے گئے۔ دریں اثناءسندھ اے این پی کے صدر شاہی سید نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ٹی وی بیچ کر اسلحہ خریدنے کے احکامات دئیے۔ ایم کیو ایم کے سینیٹروں اور قومی اسمبلی کے ارکان کا اجلاس وفاقی وزیر بابر غوری کی صدارت میں ہوا۔ قصبہ علی گڑھ سمیت کراچی میں ایم کیو ایم کے ذمہ داران اور کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں طاہر مشہدی‘ خوش بخت شجاعت‘ شیخ صلاح الدین اور دیگر نے شرکت کی۔دریں اثنا حیدر عباس رضوی نے کہا کہ اگر ہمارے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بند نہ ہوا تو سینٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں کے بائیکاٹ پر بھی غور ہو گا اور اس سلسلے میں آج لائحہ عمل ترتیب دیا جائیگا۔
متحدہ / سینیٹرز
کراچی/ قتل