ڈی جی رینجرز‘ آئی جی سندھ کو ہٹانے کے حکم پر من و عن عمل ہو گا : اٹارنی جنرل....ایسا کوئی بیان نہیں دیا : حکومتی ترجمان

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + ریڈیو نیوز + وقت نیوز + ایجنسیاں) اٹارنی جنرل آف پاکستان مولوی انوار الحق نے کہا ہے کہ ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو ہٹانے کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر نہیں کرینگے۔ نظرثانی درخواست فریق کی طرف سے دائر کی جاتی ہے جبکہ ازخود نوٹس کیس میں کوئی فریق ہی نہیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پر من و عن عمل ہو گا۔ متاثرہ افسران اگر چاہیں تو ذاتی حیثیت میں اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ وفاق کی نظرثانی کی درخواست زیر غور نہیں، قانونی طور پر نظرثانی کی گنجائش نہیں۔ ایسی اطلاعات غلط ہیں کہ وفاقی حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ حکومتی ترجمان نے آئی جی اور ڈی جی رینجرز سندھ کی تبدیلی سے متعلق اٹارنی جنرل کے بیان کی سختی سے تردید کی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل نے تبدیلی کا کوئی بیان نہیں دیا۔ سپریم کورٹ کی بلڈنگ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو تین روز میں عہدوں سے ہٹانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت عدالت کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے میں مخلص ہے۔ وزیراعظم اتھارٹی ہیں اور وہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرینگے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ نئی پٹیشن تیار کرکے جلد سپریم کورٹ میں دائر کی جائیگی۔ کیس کی تفتیش مکمل ہوگئی ہے۔ ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ وفاقی ملازم ہیں۔ وفاق کا معاملہ ہے اور وفاق ہی کوئی حل نکالے گا۔ امکان ہے کہ ملزموں کیخلاف ایک دو روز میں چالان پیش ہو جائیگا۔ وفاق نے بابر اعوان کو دفاع کیلئے وکیل مقرر کیا ہے۔ بابر اعوان طے کرینگے کہ کیا کرنا ہے۔ علاوہ ازیں سابق وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے صدر اور وزیراعظم سے ملاقات کی ہے۔ وقت نیوز کے مطابق ملاقات میں کراچی واقعہ پر ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ کو ہٹانے کے خلاف نظرثانی کی اپیل پر مشاورت کی گئی۔ علاوہ ازیں نجی ٹی وی کے مطابق بابر اعوان نے ملاقات میں مختلف ایشوز پر صدر اور وزیراعظم کو 90 منٹ تک بریفنگ دی اور سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات‘ رینجرز واقعہ اور بھٹو ریفرنس سمیت دیگر امور پر قانونی اور آئینی پہلو¶ں سے آگاہ کیا۔ آئی این پی کے مطابق ازخود نوٹس کے سپریم کورٹ کے فیصلے کو چار روز گزرنے کے باوجود حکومت عملدرآمد کے حوالے سے کوئی واضح فیصلہ نہ کر سکی‘ اٹارنی جنرل نے سندھ حکومت کو نظرثانی کی اپیل دائر کرنے سے روک دیا جبکہ وزارت داخلہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد یقینی بنانے کےلئے وزیراعظم اور دیگر متعلقہ اداروں کو خطوط بھجوا دئیے۔ پیر کو ذرائع کے مطابق ایوان صدر میں بابر اعوان نے صدر آصف زرداری اور وزیراعظم گیلانی کو سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات‘ این آر او کیس‘ این آئی سی ایل سکینڈل‘ کراچی رینجرز فائرنگ کیس سمیت دیگر آئینی مقدمات پر بریفنگ دی۔ باخبر ذرائع کے مطابق اجلاس میں یہ بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے بابر اعوان کو آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز کو 3 دن میں تبدیل کرنے کے عدالتی احکامات کے فیصلے پر نظرثانی کی اپیل دائر کرنے کی ہدایت کی ہے اور سابق وزیر قانون کو اپنا وکیل مقرر کیا ہے تاہم اس اجلاس میں اس وقت صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی جب سابق وزیر قانون کی سفارش پر تعینات کئے گئے اٹارنی جنرل جسٹس (ر) مولوی انوارالحق کا یہ بیان پیش کیا گیا جس میں انہوں نے عدالتی احکامات پر من و عن عمل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور سندھ حکومت کو نظرثانی کی اپیل دائر کرنے سے روکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی سندھ کو ہٹانے کی سمری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری نے وزیراعظم کو بھجوا دی ہے۔
اٹارنی جنرل