پاکستان سمیت دنیا بھرمیں آج خون عطیہ کرنے کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھرمیں آج خون عطیہ کرنے کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پریہ دن منانے کا مقصد خون کےعطیات کی اہمیت اورخون کے محفوظ انتقال کویقینی بنانے کے لیے شعوراجاگر کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کےعالمی ادارہ صحت نے انیس سو ستانوے میں خون کی فروخت روکنے اور خون رضاکارانہ طورپرعطیہ کرنے کی حوصلہ افزائی کی ضرورت پرزوردیا تاہم دوہزارسات میں دنیا کے ایک سوچوبیس میں سے اڑسٹھ ممالک میں کیئے گئے ایک سروے کے مطابق امریکا سمیت کسی بھی ملک میں اس سلسلے میں قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی۔ عالمی ادارہ صحت کےمطابق اس وقت دنیا کے ستاون ممالک میں ایک سوفیصد خون رضاکارانہ طورپر دیا جاتا ہے جبکہ بیالیس ممالک ایسے ہیں جہاں رضا کارانہ طورپرعطیہ کردہ خون کی شرح پچیس فیصد سےبھی کم ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی صرف ایک فیصد آبادی خون عطیہ کرتی ہے جبکہ پاکستان میں سالانہ ایک لاکھ خون کی بوتلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے مطابق ملک میں سرکاری بلڈ بینکس کوعطیہ کیا جانے والا صرف بیس فیصد خون رضاکارانہ طورپرحاصل ہوتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہرصحت مند شخص جس کا ہیموگلوبن لیول باراعشاریہ پانچ ہو، وہ خون کا عطیہ دے سکتا ہے اورخون کی ایک بوتل تین انسانی زندگیاں بچا سکتی ہے۔