مسلم لیگ (ن) کا قومی اسمبلی میں احتجاج‘ علامتی واک آﺅٹ

اسلام آباد (لیڈی رپورٹر + نیوز ایجنسیاں + مانیٹرنگ ڈیسک) قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے پارلیمنٹ کی مشترکہ اجلاس کی قراردادوں‘ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے‘ کراچی میں رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت اور سانحہ خروٹ آباد کے خلاف شدید احتجاج کیا‘ ہنگامہ کیا اور نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے علامتی واک آ¶ٹ کر گئے۔ پیپلز پارٹی (شیرپا¶) اور مسلم لیگ ہم خیال کے ارکان نے مسلم لیگ (ن) کے ارکان کا ساتھ دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی‘ شیم شیم‘ ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے‘ عدلیہ کا احترام کرو‘ لوٹ مار بند کرو کے نعرے لگاتے رہے۔ پیپلز پارٹی کے ناصر علی شاہ نے حکومت پر تنقید کی اور قومی اسمبلی سے واک آ¶ٹ کر گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے خواجہ سعد رفیق نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ وزیراعظم بار بار ایوان کی توہین کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے رینجرز کو بچانے کی کوشش کیوں کی۔ یہ سوال بھی ہے کہ ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں کمشن کے قیام کے لئے اپوزیشن سے مشاورت کیوں نہیں کی گئی۔ عدلیہ کے حکم پر آئی جی سندھ‘ ڈی جی رینجرز کو ہٹایا جائے‘ پارلیمنٹ کی قراردادوں کے بعد درجنوں ڈرون حملے ہوئے۔ سردار مہتاب احمد نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ معاملات کو قالین کے نیچے ڈالنے کی کوشش کی۔ وفاقی وزیر خورشید شاہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی کی بات کر کے اپوزیشن خود پارلیمنٹ کی توہین کر رہی ہے‘ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں‘ وہ نہیں جو عدلیہ پر حملہ کریں۔ آفتاب شیرپا¶ نے کہا کہ حکومت جب تک پارلیمنٹ کی قرارداد پر عمل نہیں کرتی اپوزیشن احتجاج کرتی رہے گی۔ سپیکر کی ہدایت پر سید خورشید شاہ اپوزیشن کو منا کر ایوان میں واپس لائے۔ سپیکر نے کہا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی تمام ممبران کی ذمہ داری ہے‘ اگر نعروں سے پرہیز کریں گے تو پارلیمنٹ کی بالادستی ہو گی۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں بلاوجہ نعرے لگانے کا شوق نہیں‘ عوام نے موجودہ حکومت کو 5 سال کے لئے کرپشن کا لائسنس نہیں دیا۔ بجٹ اجلاس میں پشاور‘ اسلام آباد اور بلوچستان میں ہونے والے بم دھماکہ میں جاںبحق ہونے والوں کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اجلاس اپنے مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا کی صدارت میں ہوا۔ فرح ناز اصفہانی نے کہا کہ خروٹ آباد واقعہ کی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے۔ وفاقی وزیر غلام احمد بلور نے کہا کہ ملک میں ایک ریلوے پھاٹک لگانے کے لئے 65 لاکھ روپے درکار ہیں‘ 2 ہزار 382 ایسے مقامات ہیں جہاں پر پھاٹک نہیں ہیں۔ خورشید شاہ نے مزید کہا کہ میثاق جمہوریت پر 90 فیصد عمل کر لیا ہے۔ اے پی پی کے مطابق بجٹ پر بحث ساتویں روز بھی جاری رہی۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان نے بجٹ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اخراجات پورے کرنے کے لئے مزید قرضے لینے سے ملکی معیشت تباہ ہو جائے گی۔ اجلاس میں کئی اہم رہنما¶ں نے شرکت نہ کی جبکہ وزیراعظم یوسف گیلانی اجلاس کے دوران ارکان سے فرداً فرداً ملاقاتیں کرتے رہے۔ ناصر شاہ نے کہا کہ صدر‘ وزیراعظم اور وزرا کی تنخواہ اور مراعات میں کمی کی جائے‘ پارلیمنٹ کی قرارداد کے مطابق ڈرون حملے بند کرائے جائیں‘ بجٹ عوامی نہیں۔
قومی اسمبلی / احتجاج