سینٹ : اپوزیشن کا پھر واک آﺅٹ‘ اے این پی کا دفاعی بجٹ کم کرنیکا مطالبہ

اسلام آباد (وقائع نگار + ایجنسیاں) ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف کی تقرری کے معاملے مسلم لیگ (ن) سمیت اپوزیشن کی جماعتوں کا احتجاج نویں روز بھی جاری رہا اور اجلاس سے پھر واک آ¶ٹ کیا گیا۔ بجٹ پر بحث جاری رکھتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے ارکان نے مطالبہ کیا دفاعی بجٹ میں 10 فیصد کٹوتی کر کے اس بجٹ کا احتساب کیا جائے۔ سینیٹر زاہد خان نے کہا ملک میں پٹرول کی قلت اور بحرانی کیفیت پیدا ہو چکی ہے جبکہ مشیر پٹرولیم ذاتی کاموں میں لگے ہوئے ہیں‘ بتایا جائے حکومت کدھر گئی۔ آئی این پی کے مطابق سینٹ میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے فنانس بل 2011ءپر اپنی سفارشات ایوان میں پیش کر دیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی اور اپوزیشن نے سفارشات کو متفقہ قرار نہ دیتے ہوئے کہا بجٹ کے حوالے سے ہمارے تحفظات موجود ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی عدیل نے کہا خزانہ کمیٹی کے اجلاس میں ہماری سفارشات شامل نہیں کی گئیں اور نہ ہی ہمیں سنا گیا‘ یہ سفارشات متفقہ نہیں۔ پروفیسر خورشید احمد نے کہا اپوزیشن کے چار ارکان واک آ¶ٹ پر تھے جب کمیٹی نے سفارشات کی منظوری دی اس لئے ان کو متفقہ تجاویز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ چیئرمین سینٹ نے رولنگ دی آئندہ ارکان سینٹ کی بجٹ کے حوالے سے دی جانے والی تحاریک اور ان کے محرکین کو مجلس قائمہ سنے گی اور پھر ان کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔ بجٹ پر بحث کے دوران بابر غوری نے کہا ملکی صورتحال پر گول میز کانفرنس بلائی جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے راجہ ظفر الحق‘ اسحاق ڈار‘ نے کہا قائد حزب اختلاف کی تقرری دو اشخاص یا دو جماعتوں کے درمیان ہر گز نہیں یہ رولز آف بزنس کا معاملہ ہے‘ چیئرمین پہلے فیصلہ معطل کریں پھر بحث ہو گی۔ ایوان بالا میں قائد حزب اختلاف مولانا عبدالغفور حیدری نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے معاملے پر بحث کرتے ہوئے کہا اس معاملے پر بحث کرائی جائے‘ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اپوزیشن ارکان نے چھوٹے صوبے سے مولوی ہونے کے باعث میری تقرری کو ایشو بنا لیا ہے۔ قبل ازیں مولانا شیرانی نے کہا اپوزیشن بالخصوص پی ایم ایل (ن) کا رویہ افسوسناک ہے۔ سینٹ میں ارکان نے بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا دفاعی بجٹ کا احتساب کیا جانا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل احمد‘ ثریا امیرالدین‘ صابر حسین بلوچ‘ وفاقی وزیر بابر غوری‘ زاہد خان اور دیگر نے کیا۔ حاجی عدیل احمد نے کہا پاکستان آرمی‘ رینجرز‘ لیویز‘ پولیس‘ دہشت گردی کے نام پر اسلحہ کی خریداری کر رہے ہیں‘ اس خریداری کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ سینیٹر صابر بلوچ نے اپوزیشن کے روئیے کو غیر شائستہ‘ غیر پارلیمانی قرار دے دیا۔ پاکستان میں ورک پرمٹ نظام رائج کیا جائے۔ سینیٹر عباس آفریدی نے کہا زرعی ٹیکس لگائے بغیر غیر ملکی امداد اور قرضوں سے کیسے جان چھڑا سکتے ہیں۔ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کے لئے کوئی پروگرام نہیں رکھا گیا۔ سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کراچی کے واقعے میں اداروں کے سربراہوں کو ذمہ دار ٹھہرانا درست نہیں۔ ایسے اقدامات اداروں کو کمزور کر رہے ہیں۔ سینیٹر ثریا امیرالدین نے کہا بجٹ دستاویزات ارکان کو بروقت فراہم کی جائیں۔
سینٹ احتجاج