جمہوری‘ خوشحال پاکستان کیلئے ملکر کام کرینگے‘ امریکی نائب وزیر خارجہ ....صرف فوجی کارروائی موجودہ مسائل کا حل نہیں : گیلانی

جمہوری‘ خوشحال پاکستان کیلئے ملکر کام کرینگے‘ امریکی نائب وزیر خارجہ ....صرف فوجی کارروائی موجودہ مسائل کا حل نہیں : گیلانی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + وقت نیوز + ریڈیو نیوز) امریکی نائب وزیر خارجہ برائے مینجمنٹ و ریسورسز تھامس نائیڈز نے صدر آصف علی زرداری‘ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی‘ وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔ ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ دوطرفہ تجارتی روابط‘ خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی‘ پاکستان امداد پر تجارت کو ترجیح دیتا ہے۔ وزیراعظم نے ملاقات کے دوران کہا کہ صرف فوجی کارروائی موجودہ مسائل کا حل نہیں‘ مفاہمت اور مذاکرات کا راستہ بھی اختیار کرنا ہو گا۔ عالمی برادری اور امریکہ عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقوں کی سماجی و اقتصادی ترقی پر توجہ دیں۔ تھامس نائیڈز نے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کی ان کے ساتھ اسلام آباد میں امریکی سفیر کیمرون منٹر‘ پاکستان اور افغانستان کے لئے نائب نمائندہ خصوصی ڈان فلڈ مین اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔ ملاقات میں وزیر دفاع چودھری احمد مختار‘ وزیر داخلہ رحمان ملک‘ وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ‘ سیکرٹری جنرل سلمان فاروقی‘ وزیر مملکت امور خارجہ حنا ربانی کھر‘ رکن اسمبلی فرح ناز اصفہانی‘ سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر‘ سیکرٹری اقتصادی امور عبدالواجد رانا بھی موجود تھے۔ اس موقع پر دوطرفہ تعلقات اور سٹرٹیجک مذاکرات کے تحت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون سمیت علاقائی استحکام‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ افغانستان میں قیام امن اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان امریکہ تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کے فروغ سے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا اور اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی سے متاثرہ اور ترقی پذیر علاقوں میں غربت‘ بیروزگاری جیسے معاملات حل کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستان کو تجارت اور مارکیٹ تک رسائی کے مواقع دیئے جانے چاہئیں۔ پاکستانی حکومت اور عوام نے اس جنگ میں بے پناہ جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اس کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گی۔ پاکستان اور امریکہ کے مفاد میں ہے کہ ان کے تعلقات‘ سالمیت اور باہمی اعتماد کے لئے احترام پر قائم ہونے چاہئیں اور باہمی مفاد کو لے کر آگے بڑھنا چاہئے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے اہم اتحادی قرار دیا۔ انہوں نے عالمی امن کے لئے پاکستانی عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دی گئی قربانیوں کا بھی اعتراف کرتے ہوئے یقین دلایا کہ امریکی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دیگر شعبوں میں پاکستان کی مدد اور تعاون جاری رکھے گی۔ تھامس نائیڈز سے ملاقات میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سٹرٹیجک مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی فوری ضرورت ہے، مستقبل میں علاقائی امن و استحکام کیلئے مشترکہ حکمت عملی میں پاکستان اور افغانستان میں سیاسی و اقتصادی استحکام کو یقینی بنایا جانا چاہئے، پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کیا جانا چاہئے۔ افغانستان میں امن اور مفاہمت کیلئے پاکستان، امریکہ اور افغانستان کے کور گروپ کا اس عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ہے۔ سٹرٹیجک مذاکرات فوری شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان امریکہ کے ساتھ تعلقات کو مستحکم بنانا چاہتا ہے‘ پاکستان انسانی جانوں کی شکل میں روزانہ اس جنگ میں قربانیاں دے رہا ہے اور پہلے بھی قربانیاں دی ہیں جو اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے ہمارے غیر متزلزل عزم کا ثبوت ہیں۔ اس نازک موقع پر عالمی برادری کی پاکستان کیلئے امداد ضروری ہے، پاکستان کی جمہوری حکومت کو سیاسی طور پر کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ توانائی کے شعبہ میں پاکستان کو فوری امداد کی ضرورت ہے اور انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں بجلی کے بڑے منصوبوں کیلئے اقتصادی امداد فراہم کرے۔ وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ کیری لوگر بل کی امداد تیزی سے فراہم کی جائے گی اور امریکہ آزاد تجارت کے معاہدہ پر مذاکرات کا آغاز کرکے پاکستانی مصنوعات کیلئے وسیع تر منڈیوں تک رسائی اور ترجیحی تجارتی سہولیات فراہم کرے گا۔ تھامس آرنائیڈز نے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو علاقائی امن اور امریکہ کی قومی سلامتی کیلئے انتہائی اہم قرار دیا اور کہا کہ دوطرفہ سٹرٹیجک تعلقات کے ثمرات حاصل کرنے کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی انتظامیہ بجٹ میں کٹوتیوں کیلئے دباﺅ کے باوجود پاکستان کیلئے اپنی اقتصادی امداد کی سطح برقرار رکھنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ ملاقات میں وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیر پانی و بجلی سیّد نوید قمر، وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر اور پانی و بجلی اور اقتصادی امور ڈویژن کے سیکرٹری بھی موجود تھے۔
تھامس نائیڈز / ملاقاتیں
اسلام آباد (آئی این پی + وقت نیوز) امریکہ اور پاکستان نے مشترکہ مقاصد کے حصول کیلئے ملکر کام کرنے، تعلقات کو مزید وسعت دینے کیلئے وفود کے تبادلوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے‘ امریکہ نے تربیلا ڈیم کی توسیع کیلئے مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ وزارت خارجہ میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے مذاکرات ہوئے۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر اور امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب وزیر خارجہ تھامس نائیڈز نے کی۔ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان اور امریکہ کے سٹریٹیجک ڈائیلاگ کے اگلے مرحلے کا جائزہ لیا گیا۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات بہت اہم ہیں، مذاکرات میں اقتصادی اور تجارتی تعاون بڑھانے پر بھی گفتگو کی گئی۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں پاکستان بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی چاہتا ہے۔ پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد نے حکومت کو آگے بڑھنے کا موقع دیا ہے۔ تھامس نائیڈز نے کہاکہ ان کے پاکستانی وفد کے ساتھ مذاکرات انتہائی اچھے ماحول میں ہوئے۔ امریکہ تربیلا ڈیم کی توسیع کیلئے پاکستان کو مدد فراہم کرےگا۔ جمہوری اور خوشحال پاکستان کیلئے دونوں ملکوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔ علاقائی تجارت کو ترقی کیلئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ہونےوالا ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ خوش آئند ہے جس کے خطے کی ترقی کے حوالے سے دوررس اور مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ امریکہ پاکستان میں جمہوریت کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان کو مستحکم اور ترقی یافتہ ملک دیکھنا چاہتے ہیں ترقی و خوشحالی کیلئے پاکستان کے ساتھ ملکر کام جاری رکھیں گے۔ تھامس نائیڈز نے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی پاکستان کے ساتھ طویل المدت شراکت داری ہے۔ امریکہ پرامن‘ مستحکم اور خوشحال پاکستان چاہتا ہے‘ سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے 190 ملین ڈالر دئیے۔ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی مدد کرنے پر امریکہ کے شکرگزار ہیں۔ امریکہ اور پاکستان کے درمیان نجی شعبے میں تعاون بڑھایا جائے گا۔ ہم امداد کی بجائے تجارت کو ترجیح دینا چاہتے ہیں۔ امریکی سفارتخانہ کے بیان کے مطابق تھامس آر نائیڈز نے کہا کہ مجھے پاکستان آنے کی خوشی ہے جو درحقیقت میرا اس ملک کا پہلا دورہ ہے۔ پاکستانی اپنی مہمان نوازی کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہیں اور وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی جانب سے پرجوش استقبالیہ پر ان کا شکرگذار ہوں۔ امریکہ ایک مستحکم جمہوری اور خوشحال پاکستان میں دلچسپی رکھتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان سے تعلقات طویل مدتی ہیں۔ ترجمان مارک سی ٹونر نے پریس بریفنگ میں کہاکہ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے دورہ پاکستان سے تعلقات کو فروغ ملا۔ اس سوال پر کہ پاکستان میں بم بنانے کی فیکٹریاں ہیں۔ ترجمان نے تبصرے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں، اسامہ بن لادن کے معاملے پر کئی امریکی عہدیداران پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں، پاکستان دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا اہم اتحادی ہے، پاکستان سے انٹیلی جنس شیئرنگ میں بہتری کیلئے کام کر رہے ہیں۔
امریکی نائب وزیر خارجہ