ایوان صدر میں اہم اجلاس....سیاسی‘ عسکری قیادت نے مشترکہ آپریشنز کی امریکی تجویز مسترد کر دی

اسلام آباد (مقبول ملک / دی نیشن رپورٹ + سپیشل رپورٹ) ملکی سلامتی کی صورتحال پر غور کے لئے صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی‘ چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل خالد شمیم وائیں‘ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی‘ بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نعمان بشیر‘ پاک فضائیہ کے سربراہ را¶ قمر سلیمان‘ سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید اطہر علی کے علاوہ انٹیلی جنس سربراہوں نے بھی شرکت کی۔ باخبر ذرائع کے مطابق سیاسی و عسکری قیادت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملکی خودمختاری و سلامتی کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔ اس موقع پر ہائی ویلیو ٹارگٹس کے خلاف مشترکہ فوجی آپریشنز کی امریکی تجویز مسترد کر دی گئی۔ اس حوالے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پیش کی گئی امریکی تجاویز کو مسترد کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ ایسی کوششوں کی مزاحمت کی جائے گی۔ قومی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔ اجلاس 3 گھنٹے جاری رہا جس میں ملکی سلامتی کو لاحق خطرات پر بات کی گئی اور 13 مئی کو پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد اور پارلیمنٹ کے فیصلوں پر قائم رہنے کا عزم کیا گیا۔ وزیراعظم نے صدر کو کابینہ کی دفاعی کمیٹی کے فیصلوں اور جنرل کیانی نے کور کمانڈرز کانفرنس پر اعتماد میں لیا۔ انہوں نے سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا کے دورہ اور عسکری قیادت کے جواب سے آگاہ کیا۔ دریں اثناءقابل اعتماد ذرائع نے ”نوائے وقت“ کو بتایا کہ اجلاس میں ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام پر خصوصی غور کیا گیا‘ مسلح افواج نے صدر اور وزیراعظم کو ملک کی سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی فوج اور سکیورٹی اداروں پر بعض حلقوں کی تنقید اور دوسرے امور زیر غور آئے‘ ملک کی داخلی صورتحال اور امن و امان کے قیام کے لئے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔ ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق ملاقات میں ملکی سلامتی کی صورتحال اور ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں سی آئی اے کے سربراہ لیون پنیٹا کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتوں میں پاکستان کو پیش کئے جانیوالے نئے مطالبات، دہشت گردی کی جنگ میں تعاون، افغان صدر حامد کرزئی کے دورہ پاکستان میں دونوں ممالک کے درمیان دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور افغانستان میں طالبان کے ساتھ مفاہمتی عمل میں پاکستان سے تعاون کی درخواست سمیت امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں عسکری قیادت نے ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن، کوئٹہ میں ایف سی فائرنگ سے پانچ غیر ملکیوں کی ہلاکت اور کراچی میں رینجرز کے ہاتھوں نوجوان کے قتل کے واقعات کے بعد فوج پر کی جانے والی تنقید اور منظم میڈیا مہم کا معاملہ بھی اجلاس میں اٹھایا۔ اجلاس میں سیاسی قیادت کی طرف سے ایک بار پھر قومی اداروں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ قوم اپنے اداروں کے ساتھ ہے۔
ایوان صدر / اجلاس