ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ برس دہشتگردی کے مختلف واقعات میں پچیس سو افراد مارے گئے جبکہ ڈرون حملوں میں نو سو سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ برس دہشتگردی کے مختلف واقعات میں پچیس سو افراد مارے گئے جبکہ ڈرون حملوں میں نو سو سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

ایچ آرسی پی کے چیئرمین ڈاکٹر مہدی حسن نے اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک رپورٹ جاری کی جس کے مطابق گزشتہ برس پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی رہا ۔ دو ہزار دس میں سڑسٹھ خود کش حملے ہوئے جن میں تقریباً گیارہ سو انسٹھ افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک ہزاراکتالیس عام شہری تھے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس ملک کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کے واقعات میں دو ہزارپانچ سو بیالیس افراد ہلاک اورپانچ ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ برس ٹارگٹ کلنگ کے ایک سو سترہ واقعات میں ایک سو اٹھارہ افراد ہلاک اورچالیس زخمی ہوئے ۔ ایچ آر سی پی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کے دوران مختلف واقعات میں تقریباً بارہ ہزار افراد کو قتل کیا گیا جبکہ اغواء برائے تاوان کے پانچ سو اکیاسی اوراغواء کے سولہ ہزار واقعات منظرِعام پر آئے۔