پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے بعد حساس معاملات پر بات چیت نہ کی جائے تو بہتر ہوگا۔ ڈرون حملوں میں بے گناہ عوام کی ہلاکتوں سے پاک امریکہ تعلقات متاثرہورہے ہیں

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے بعد حساس معاملات پر بات چیت نہ کی جائے تو بہتر ہوگا۔ ڈرون حملوں میں بے گناہ عوام کی ہلاکتوں سے پاک امریکہ تعلقات متاثرہورہے ہیں

دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تمام معاملات حل کرنے کا ایک میکنزم بن چکا ہے اورمختلف سطح پر مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری جس کے بعد وزرائے خارجہ کی سطح پر بھی مذاکرات ہونگے، اس لئے حساس معاملات کے حوالے سے بات چیت سے گریز کرنا چاہیے۔ انگوراڈا میں امریکی ڈرون حملے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے معاملے پر پاکستان کے دورہ پر آنے والے تمام امریکی حکام سے صدر، وزیر اعظم، دفتر خارجہ اور تمام سطح پر معاملہ اٹھایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ستریٹجک پارٹنر شپ ہے اوراس کا بنیادی مقصد امن و امان کا قیام اوردہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے آئی ایس آئی کے سربراہ کے دورہ امریکہ میں ہونے والی بات چیت اور امریکی میڈیا میںاس حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹس پر تبصرے سے انکار کردیا۔