پاکستان میں لڑکھڑاتی حکومت کے باعث مسئلہ کشمیر جلد حل ہوتا نظر نہیں آتا : امریکی کمانڈر

واشنگٹن (اے پی + اے این این + ثناءنیوز) امریکی پیسفک کمان کے سربراہ ایڈمرل رابرٹ ولارڈ نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ اسلام آباد کی انتہائی کمزور اور لڑکھڑاتی حکومت کے باعث اس بات کا ابھی کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ پاکستان اور بھارت جلد مسئلہ کشمیر حل کر لیں گے۔ پاکستان میں کمزور حکومت ہونے کے باعث بھارت سے تعلقات کی بہتری کے لئے جاری کوششیں جلد ختم ہو سکتی ہیں۔ سینٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کی سماعت کے موقع پر دئیے گئے بیان کی مزید تفصیلات کے مطابق امریکی کمانڈر نے کہا کہ پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کا قلع قمع کرنے کےلئے پاکستانی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں‘ پاکستان میں حکومت فوج کے زیر اثر ہے‘ کشمیر اور افغانستان کے حوالے سے پالیسیوں پر پاک فوج کا گہرا اثرورسوخ ہوتا ہے چنانچہ پاکستان بھارت تعلقات کی بہتری کی کوششیں ختم ہونے سے سرحد پر کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات کی بہتری کی کوششیں اعلیٰ سطح عزم کا تقاضا کرتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان یقیناً اختلافات موجود ہیں۔ بھارت نے پاکستان کے ساتھ مزید قریبی تعلقات کے قیام کے لئے اقدامات کئے ہیں‘ امریکہ کو چاہئے کہ وہ دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان مذاکرات کی حوصلہ افزائی جاری رکھے۔ پاکستان کی صورتحال پر نظر دوڑاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گذشتہ ایک دو سال سے جاری بحرانوں کے باعث اس بات کا بہت کم امکان نظر آتا ہے کہ اسلام آباد کی لڑکھڑاتی ہوئی حکومت سنبھل کر اس سطح پر پہنچ سکے گی جہاں پر مستقبل قریب میں جمود ٹوٹ سکے۔ تنازعات جلد طے کر سکیں گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر کو دوطرفہ مسئلہ قرار دیتا ہے اور وہ امریکہ کو یہ باور کراتا ہے کہ یہ مسئلہ بیرونی مداخلت کے بغیر حل ہونا چاہئے۔
امریکی کمانڈر