پاکستان امریکہ تعلقات نائن الیون کے بعد بدترین بحران کا شکار ہیں : گارڈین....تسلیم کرتے ہیں اتنے اچھے نہیں : وائٹ ہاﺅس

واشنگٹن (ثناءنیوز + اے پی پی) وائٹ ہاﺅس نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات امریکہ کے لئے بہت اہم ہیں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اتنے اچھے نہیں لیکن امریکہ کی خواہش ہے کہ وہ بہتر تعلقات قائم کرے۔ وائٹ ہاﺅس کے ترجمان جئے کارنئے نے صحافیوں سے واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس بات کا خواہاں ہے کہ دونوں حکومتوں کے درمیان بہتر تعلقات قائم اور تعاون کا سلسلہ جاری رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ممالک مشترکہ طور پر تعاون کر رہے ہیں۔ ترجمان نے کارروائی کے لئے خفیہ معلومات کے حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کا سلسلہ جاری ہے۔ دریں اثنا امریکہ نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ممبئی حملہ آوروں کے خلاف ٹھوس اقدامات کر کے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے کہا کہ ملزمان کے خلاف کارروائی میں پاکستان کو دیر نہیں کرنا چاہئے۔ اے پی پی کے مطابق پاکستان امریکہ تعلقات کو نائن الیون حملوں کے بعد سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے جو پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملوں، سی آئی اے کی خفیہ سرگرمیوں اور خطہ میں غیر ملکی افواج کی موجودگی کے خلاف بڑھتی ہوئی مخالفت کا نتیجہ ہے۔ یہ بات معروف برطانوی اخبار گارڈین نے پاکستانی ذرائع کے حوالہ سے اپنی رپورٹ میں بتائی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ پاکستان کو اپنا اہم ترین اتحادی قرار دیتے ہیں جبکہ پاکستانی حکومت اور فوج بھی افغانستان جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کے عرصہ میں بار بار اس عزم کا اعادہ کرتے رہے ہیں لیکن گزشتہ ہفتے وائٹ ہاﺅس کی طرف سے جاری رپورٹ میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات کے حوالہ سے پاکستان پر تنقید اور افغانستان میں تعینات امریکی فوج کی تعداد میں اضافہ کے اثرات دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کیلئے شدید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اخبار نے پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کے حوالہ سے بتایا کہ پاکستان کیلئے مزید بدنامی قابل قبول نہیں اور اس وقت ہمیں باہمی تعلقات کو زیادہ شفاف بنانے کیلئے ان تعلقات کی بنیادوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
امریکہ / گارڈین