وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک نے ٹارگٹ کلنگ کو جمہوریت کے لئے خطرہ قراردیتے ہوئے اس کے خاتمے کے لئے چوری کے موبائل بند اور غیر رجسٹرڈ سمیں بلاک کرنے کا حکم دے دیا۔

وفاقی وزیرداخلہ رحمن ملک نے ٹارگٹ کلنگ کو جمہوریت کے لئے خطرہ قراردیتے ہوئے اس کے خاتمے کے لئے چوری کے موبائل بند اور غیر رجسٹرڈ سمیں بلاک کرنے کا حکم دے دیا۔

جمعرات کے روز رحمن ملک نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں سید قائم علی شاہ کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں موبائل فون کمپنیوں کے مالکان نے بھی شرکت کی۔ رحمان ملک نے سیکورٹی اداروں کو ٹارگٹ کلنگ کے خلاف سخت اقدامات لینے کی ہدایت کی جبکہ موبائل فون کمپنیوں کے مالکان کو حکم دیا کہ وہ پندرہ دن کے اندرایسے تمام موبائل فون جو چوری شدہ ہیں انہیں بند کروادیں اور غیررجسٹرڈ سمیں بھی فوری طور پر بلاک کردی جائیں۔ جس کے بعد رحمن ملک گورنر ہاؤس پہنچے اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے ہمراہ چیمبر آف کامرس کے نمائندوں سے ملاقات کی جہاں ان کا کہنا تھا کہ ٹارگٹ کلنگ سمیت بھتہ مافیا کا اہم ہتیھیار چوری کے موبائل اورغیررجسٹرڈ سمیں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹارگٹ کلنگ کا مسئلہ صوبائی حکومت کا معاملہ ہے ہم اس سلسلے میں انہیں مطلوبہ مدد فراہم کریں گے۔