لاہورہائیکورٹ نے کینیڈین ہندوخاتون روشنی ڈیسائی بچہ حوالگی کیس پرفیصلہ محفوظ کرلیا، عدالت کا کہنا ہے کہ ماں ہی کم عمربچے کی واحد گارڈین ہے۔

لاہورہائیکورٹ نے کینیڈین ہندوخاتون روشنی ڈیسائی بچہ حوالگی کیس پرفیصلہ محفوظ کرلیا، عدالت کا کہنا ہے کہ ماں ہی کم عمربچے کی واحد گارڈین ہے۔

کینیڈین شہری روشنی ڈیسائی نے لاہورہائیکورٹ میں اپنے بیٹے کو حبس بے جا میں رکھنے کی درخواست دائرکررکھی ہے۔ دوران سماعت روشنی ڈیسائی کے وکیل آفتاب باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ روشنی اور جہانزیب کا سمجھوتہ نہیں ہوسکا اس لئے عدالت اپنا فیصلہ سنا دے۔ جہانزیب کے وکیل بنیامین چوہدری کا کہنا تھا کہ روشنی ہندو خاتون ہے لہذا عدالت بچہ اس کے حوالے نہ کرے۔ عدالت کے روبروبیان دیتے ہوئے روشنی کا کہنا تھا کہ اس نے اپنے بچے کا نام اذان رکھا ہے اور وہ اسے مسلمان ہی بنائے گی۔ لاہورہائیکورٹ کے جسٹس اسد منیرنے قراردیا کہ بچے سے متعلق تمام اہم فیصلے ماں ہی کرتی ہے اور ماں ہی کم عمر بچے کی واحد گارڈین ہے۔ عدالت اپنا فیصلہ جمعے کے روز سنائے گی۔ درخواست گزار روشنی کا موقف ہے کہ اس کا دوست جہانزیب نیازی ان کا ساڑھے تین سالہ بچہ اذان اغوا کرکے پاکستان لے آیا ہے۔