سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل سکینڈل کیس میں چوہدری برادران کے خلاف الزامات لگانے پر ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے ظفرقریشی کو نوٹس جاری کردیا۔

سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل سکینڈل کیس میں چوہدری برادران کے خلاف الزامات لگانے پر ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے ظفرقریشی کو نوٹس جاری کردیا۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کر رہاہے۔ چوہدری شجاعت حسین نے عدالت کو بتایا کہ ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے ظفرقریشی جان بوجھ کر ان کے اہل خانہ پرالزامات لگارہے ہیں جبکہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ این آئی سی ایل کی کل رقم واپس لے لی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری مونس الٰہی، خاندان کی خواتین اوربچوں کے اکاؤنٹس چیک کرنا بدنیتی پر مبنی ہے۔ ظفرقریشی کو اس تحقیقات سے الگ کیا جائے۔ جس پر چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کا کہنا تھا کہ مقدمہ اپنی جگہ لیکن خاندان کی بیٹیوں پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیے سب جانتے ہیں کہ چوہدری خاندان باوقار ہے۔ عدالت نے ظفر قریشی کو ان درخواستوں کی وضاحت کے لئے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔