جنوبی وزیرستان....ڈرون حملے میں 8 افراد جاں بحق‘ امریکی سفیر سے شدید احتجاج

جنوبی وزیرستان....ڈرون حملے میں 8 افراد جاں بحق‘ امریکی سفیر سے شدید احتجاج

وانا (اے این این+ اے ایف پی) سی آئی اے نے ڈرون حملوں کی بندش سے متعلق پاکستان کے مطالبات کو خاطرمیں نہ لاتے ہوئے بدھ کو جنوبی وزیرستان کے علاقے انگور اڈا میں ڈرون حملہ کیا جس کے نتیجے میں آٹھ افراد جاں بحق اورمتعددزخمی ہوگئے ،حالیہ میزائل حملہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا کے دورہ امریکہ سے واپسی کے دوسرے روز کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں نے انگور اڈا میں ایک گاڑی پر سات گائیڈڈ میزائل فائر کیے جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طورپر تباہ ہوگئی اور اس میں موجودہ آٹھ افراد جاں بحق ہوگئے۔ بعض نیوز ایجنسیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈرون طیاروں نے ایک گھر کو بھی نشانہ بنایا۔ میزائل حملے کے بعد بھی کئی گھنٹوں تک علاقے پر جاسوس طیاروں کی نچلی پروازیں جاری رہیں جس کے باعث مقامی لوگ خوف وہراس میں مبتلارہے ۔ اے ایف پی کے مطابق حکام نے بتایا کہ ڈرون طیارے نے حقانی گروپ کے ارکان کو نشان بنایا، 17مارچ کے بعد یہ پہلا ڈرون حملہ ہے۔
اسلام آباد + واشنگٹن (سٹاف رپورٹر + نمائندہ خصوصی + ریڈیو نیوز) پاکستانی سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملے پر امریکی سفیر سے شدید احتجاج کیا۔ دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے یہ م¶قف ہے کہ ایسے حملوں سے صرف شدت پسندوں کے ہاتھ مضبوط ہوتے ہیں جبکہ واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ جنرل شجاع پاشا کی امریکی ہم منصب کے ساتھ ملاقات میں آئی ایس آئی کے سربراہ نے ڈرون حملے روکنے اور سی آئی اے کے اہلکاروں میں کمی کے مطالبے کئے جو مسترد کر دئیے گئے جبکہ پاکستانی سرکاری حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ جنرل پاشا امریکی ہم منصب کے ساتھ چائے پینے یا ہاتھ ملانے نہیں چند تجاویز لے کر گئے تھے مطالبے پیش نہ کرنے کی امریکی میڈیا کی رپورٹ بے بنیاد ہے۔ تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے امریکی سفیر سے اس بارے میں احتجاج کیا لیکن بیان میں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا گیا یا فون پر احتجاج کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا ہمیشہ سے یہ م¶قف ہے کہ ایسے حملے نقصان دہ ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی مہم میں ڈرون حملے ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ ہر سطح پر یہ معاملہ اٹھایا ہے۔ آئی این پی کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ نے ترکی جا کر صدر زرداری کو دورہ امریکہ کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور صدر کو امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے بارے میں اعتماد میں لیا۔ جنرل پاشا نے صدر کو بتایا کہ امریکی حکام پر پاکستان کا م¶قف واضح کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام نے ڈرون حملوں کی بندش سے متعلق پاکستانی مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے م¶قف اختیار کیا ہے کہ امریکی عوام کا تحفظ سی آئی اے کی ذمہ داری ہے اور وہ اس مقصد کے حصول میں مدد دینے والے کسی بھی آپریشن کو ختم نہیں کرے گا۔ رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈرون مہم کو معطل کرنے یا محدود کرنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں۔ جنرل احمد شجاع پاشا اور لیون پنیٹا میں اہم معاملات پر اختلافات دور نہیں ہو سکے۔ پاکستانی حکام کا م¶قف ہے کہ امریکی ڈرون حملوں میں زیادہ تر ”عام جنگجو“ مارے جا رہے ہیں اور سی آئی اے کے عہدےدار کی طرف سے ان میزائل حملوں کے اہداف کی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا مقصد ان کارروائیوں کے لئے جواز فراہم کرنا ہے۔رات گئے ایک غیر ملکی ایجنسی کے مطابق امریکی حکام سی آئی اے ایجنٹوں کی تفصیلات پاکستان کو دینے پر غور رہا ہے۔
امریکہ / شدید احتجاج