بھٹو ریفرنس....بابر اعوان پیروی کیلئے وزارت سے مستعفی‘ آج بطور حکومتی وکیل پیش ہونگے

اسلام آباد (خبر نگار + نیٹ نیوز + مانیٹرنگ نیوز + ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا کیس ری اوپن کرنے کے لئے صدارتی ریفرنس باقاعدہ سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے لئے لارجر بنچ تشکیل دیا جائے گا۔ دوسری جانب ریفرنس کی پیروی کے لئے وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اب عدالت میں آمرانہ دور کی تاریخ نہیں دہرائی جائے گی‘ کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ عدالت قانون اور قواعد پر سمجھوتہ کرے گی‘ تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ باہر یہ تاثر نہیں جانا چاہئے کہ کوئی سمجھوتہ ہوگیا ہے۔ ریفرنس تفصیل سے سنیں گے۔ وزیر قانون بابر اعوان سے مخاطب ہوتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ اپنا استعفیٰ مناسب انداز میں متعلقہ حکام کو پیش کریں اور وکالت کا لائسنس بحال ہونے پر کیس کی پیروی کریں‘ اس مقدمہ پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں‘ اس مقدمہ کو مشاورتی انداز میں سنیں گے۔ گذشتہ روز چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے ریفرنس کی سماعت کی۔ بنچ کے دوسرے ارکان میں جسٹس ثائر علی اور جسٹس غلام ربانی شامل تھے۔ سماعت شروع ہوئی تو وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے وفاق کی طرف سے دلائل دینے کی درخواست کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ بطور وفاقی وزیر آپ کو دلائل دینے کی اجازت نہیں‘ جس پر بابر اعوان نے کہا کہ وہ اس مقصد کے لئے وزارت سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے استعفیٰ کی کاپی عدالت میں پیش کی اور کہا کہ انہیں وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ عہدے سے مستعفی ہو کر کیس کی پیروی کریں۔ میں اس مقدمے میں بطور وکیل پیش ہونا چاہتا ہوں‘ وزارت آنی جانی چیز ہے۔ اس پر عدالت نے ان کے اس اقدام کی تعریف کی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی عزت صرف ملک میں ہی نہیں بیرون ملک بھی تھی‘ ان کی وہ کتابیں بھی پڑھی ہیں جو انہوں نے جیل کی کوٹھڑی میں لکھیں۔ ذوالفقار بھٹو نے اپنی کتاب میں لکھا تھا کہ ”میں لکڑی کا نہیں کہ جسے جلا دیا جائے“۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس کیس میں چاروں صوبوں سے عدالتی معاون بھی لے گی‘ ہو سکتا ہے نو یا دس معاون ہو جائیں گے‘ ان کی رائے اور تجربہ کو دیکھا جائے گا‘ اسے مشاورتی انداز میں سنیں گے۔ جسٹس ثائر علی نے کہا کہ صدارتی ریفرنس کی سماعت قابل جواز ہے‘ کل کو ہم پر الزام نہ آئے کہ فوجی آمر کی تاریخ دہرائی گئی ہے۔ سماعت کے فوراً بعد ڈاکٹر بابر اعوان سپریم کورٹ میں واقع پاکستان بار کونسل کے دفتر گئے اور استعفیٰ پیش کیا جس کے بعد پاکستان بار کونسل نے ان کا لائسنس بحال کر دیا۔ وہ آج وفاق کے وکیل کے طور پر پیش ہوں گے۔ بعدازاں سپریم کورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کیس کو وزارت پر ترجیح دیتا ہوں‘ اگر میں وزیراعظم بھی ہوتا تو پھر بھی استعفیٰ دے دیتا۔ یہ تاریخی قرض تھا جو آج پورا کیا‘ بھٹو کیس کے حوالے سے عدلیہ پر لگے سیاہ دھبے اتروائیں گے‘ ہم چاہتے ہیں کہ بھٹو کے ساتھ جو ظلم ہوا وہ معاشرے کے کسی فرد کے ساتھ نہ ہو‘ پیپلز پارٹی ہمیشہ آمریت کے خلاف ہراول دستے کا کردار ادا کرے گی۔ بطور سینئر وکیل میرا کام ہے کہ میں عدالت کی معاونت کروں‘ ہم میرٹ پر ظلم کی یہ داستان ختم کرائیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پہلے عدالتوں میں ایسے لوگ پیش ہوئے جو وزیر تھے۔ میں سپریم کورٹ کا شکرگذار ہوں جس نے میرے بارے میں اچھے الفاظ کہے۔ بھٹو قتل کیس کی سماعت کے دوران پارٹی کی اعلیٰ قیادت بھی عدالت میں آئے گی خواہ وہ وزیر اعلیٰ ہی کیوں نہ ہو۔ ہم سپریم کورٹ کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔ راجہ پرویز اشرف‘ قمر زمان کائرہ‘ جہانگیر بدر‘ سید مہدی شاہ‘ تنویر اشرف کائرہ اور دیگر رہنما کمرہ عدالت میں موجود تھے۔ دریں اثناءقائم مقام صدر فاروق ایچ نائیک نے وفاقی وزیر قانون بابر اعوان کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق بابر اعوان کے استعفے کی ایڈوائس وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے قائم مقام صدر کو بھجوائی تھی۔
بھٹو ریفرنس / سماعت منظور